30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے،قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدات بیان کی گئی ہیں۔
اگر کسی نے یہ سودی کمیٹی شروع کر لی ہو،تواس پر لازم ہے کہ اسے فوراً ختم کرے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرے،ورنہ مسلسل گناہ ملتا رہے گا۔نیزاگراس طرح اضافی /سودی رقم حاصل کر لی ہو،تو اس کا حکم یہ ہے کہ جس سے لی،اسے واپس کی جائے یا بغیر ثواب کی نیت کے کسی شرعی فقیر پر صدقہ کر دی جائے،البتہ جس سے لی، اسے واپس کرنا بہتر ہے۔
اوربعض افراد کا یہ کہنا کہ "پہلےکمیٹی لینے والا اپنی مرضی سے اضافی رقم چھوڑتا ہے، لہذا وہ بقیہ ممبران کےلئے جائز ہے"تو یہ درست نہیں، کیونکہ سودکو اللہ جبّار و قہارنے مطلقاً حرام قرار دیا ہے،اس میں کسی کی رضا و خوشی کو دخل نہیں،لہٰذا یہ کسی کی مرضی سے بھی جائز نہیں ہو سکتا،جیسے زنا و قتل باہم رضا مندی سے جائز نہیں ہو سکتے۔
سود کی حرمت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا
ترجمہ:جو لوگ سود کھاتے ہیں ،وہ قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے،مگر اس شخص کے کھڑے ہونے کی طرح ،جسےآسیب نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو،یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کہا:خریدوفروخت بھی تو سود ہی کی طرح ہے ،حالانکہ اللہ نے خریدوفروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا ۔(1)
مزیدفرمایاہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ
[1] …۔ (پارہ3،سورۃ البقرہ،آیت:275)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع