30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کادعوی کیا،توتصدیق نہ ہوگی،جیساکہ ہدایہ میں ہے:” إذاأقر أنه قبض الجياد أو حقه أو الثمن أو استوفى لإقراره بقبض الجياد صريحا أو دلالة فلا يصدق ‘‘ترجمہ:جب کسی نے کھرے دراہم پر قبضہ کرنے،اپناحق حاصل کرنے،ثمن پرقبضہ کرنے یاپھراپنا حق پورا پورا وصول کرنے کا اقرار کرلیا،تو صراحتاً یا دلالۃً عمدہ دراہم پر قبضے کے اقرار کی وجہ سے بعدمیں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
اس کے تحت عنایہ شرح ہدایہ میں ہے:” قال صاحب النهاية:جمع بين هذه المسائل الأربع في الجواب بأنه لا يصدق وليس الحكم فيها على السواء، فإنه إذا أقر أنه قبض الدراهم الجياد ثم ادعى أنها زيوف فإنه لا يصدق لا مفصولا ولا موصولا، وفيمابقي لايصدق مفصولاولكن يصدق موصولا “ترجمہ:صاحب نہایہ نے فرمایاکہ مصنف نے ان چارمسائل کوایک ہی جواب ( لایصدق )میں جمع کر دیا کہ ان مسائل میں تصدیق نہیں کی جائے گی ،حالانکہ ان مسائل میں حکم برابر نہیں ہے،اس میں تفصیل یہ ہے کہ جب کسی نے عمدہ (کھرے) دراہم پر قبضہ کرنے کااقرار کرلیا،پھرناقص (کھوٹے) ہونے کادعوی کیا،تواس کی تصدیق نہیں کی جائے گی،خواہ فوری دعوی کرے یاکچھ دیربعدکرے،اوراس کے علاوہ بقیہ مسائل میں فوری دعوی کرنے والی صورت میں توتصدیق کی جائے گی،لیکن فاصلےپر(یعنی کچھ دیربعد) دعوی کرنے کی صورت میں تصدیق نہیں کی جائے گی۔(1)
اورصورتِ مسئولہ میں تصدیق نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ دعوی کرنے والامناقض(اپنے قول کے خلاف کادعوی کرنے والا)ہےاورمناقض کاقول معتبرنہیں،جیساکہ ردالمحتارمیں ہے:”
[1] …۔ (العنایۃ شرح الھدایۃ ،جلد 7،صفحہ 331،مطبوعہ دار الفكر، بیروت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع