30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پوچھی گئی صورت میں اگریہ شخص کمیٹی میں جمع کرائی گئی رقم کے علاوہ پہلے سےصاحب نصاب ہے یاپہلے سے صاحب نصاب نہیں لیکن جتنی رقم کمیٹی میں جمع کروادی ہے، وہ رقم نصاب جتنی ہے یا دوسرے مالِ زکوۃکے ساتھ مل کر نصاب تک پہنچ جاتی ہے،تو نصاب پرسال پورا ہونے ودیگر شرائط کےپائے جانے کی صورت میں زکوٰۃ فرض ہوجائے گی اور سال بَسال واجب ہوتی رہے گی۔
امام اہلسنت، اعلیٰ حضرت، الشاہ امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا جو پیسہ بینک یا ڈاکخانے میں جمع ہو، کیا اس پر زکوٰۃ ہو تی ہے ؟ اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں:” روپیہ کہیں جمع ہو کسی کے پاس امانت ہو، مطلقاً اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔“ (1)
کمیٹی میں دی ہوئی رقم چونکہ قرض ہو تی ہے، لہذا اس رقم پر زکوٰۃ واجب الاداء اُس وقت ہے،جب تمام رقم وصول ہوجائے یا کم از کم نصاب کے پانچویں حصے کے برابر وصول ہوجائے۔تمام رقم وصول ہونے کی صورت میں گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا حساب لگا کر تمام رقم کی زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی اورنصاب کا پانچواں حصہ وصول ہونے پر اسی قدر کی زکوٰۃ لازم ہو گی۔لیکن آسانی اسی میں ہے کہ اس رقم کی زکوٰۃ سال بہ سال ادا کرتے رہیں تاکہ کمیٹی وصول ہونے پر گزشتہ سالوں کے حساب کتاب کی الجھن سے اور تمام سالوں کے ایک ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی کی دقت سے نجات رہے۔
بہارِ شریعت میں ہے:”دَینِ قوی کی زکاۃ بحالتِ دَین ہی سال بہ سال واجب ہوتی رہے گی، مگر واجب الادا اُس وقت ہے، جب پانچواں حصہ نصاب کا وصول ہو جائے، مگر جتنا وصول ہوا
[1] …۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 141، مطبوعہ رضا فاونڈیشن ، لاھور(
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع