30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیا کرتا۔ ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ اس رمضان میں ہم نمازِ تراویح کی ادائیگی کے لیے اپنے گاؤں کے قریبی شہر کی مسجد میں جایا کریں گے۔ چنانچہ ہم روزانہ شہر کی مسجد میں نمازِ تراویح ادا کرنے کے لئے جانے لگے۔ اسی مسجد میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدرسۃُالمدینہ (بالغان) کی ترکیب بھی تھی۔ ایک روز ایک سبز عمامے والے اسلامی بھائی نے سلام و مصافحے کے بعد انتہائی عاجزی و اِنکساری سے دل موہ لینے والے انداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ بات میری سمجھ میں آئی اور میں سعادت سمجھتے ہوئے بلا چون و چرا مدرسۃُ المدینہ میں شریک ہو گیا۔ پڑھائی کے اختتام پر مدرسہ پڑھانے والے مبلّغِ دعوتِ اسلامی نے شفقت بھرے اندازمیں مجھ سے ملاقات کی اور مدنی ماحول کی برکتیں بیان کیں ، ان کی مٹھاس بھری گفتگو مجھے بہت اچھی لگی۔ میں نے روزانہ شرکت کو اپنا معمول بنا لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اس مدرسے کی برکتوں سے میرے دل میں مدنی انقلاب برپا ہو گیا اور میں گناہوں سے تائب ہو کر فلاحِ دارین کے لیے دعوتِ اسلامی کےمدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{11} میں چرس، شراب کاعادی تھا
اوستہ محمد (ضلع جعفرآباد، بلوچستان) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے کہ مَعَاذَاللہ میں چرس اور شراب کا عادی تھا۔ فلمیں دیکھنا اور گانے سننا میرا محبوب مشغلہ تھا۔ رات گئے تک ہوٹلوں میں وقت گزارنا میرا معمول بن چکا تھا، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنا تو دور کی بات میں تو ان کے علم سے بھی نابلد تھا۔ یونہی غفلت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہا تھا۔ میری خوش بختی کی صبح کچھ اس طرح طلوع ہوئی کہ ایک روز میری ملاقات ایک سبزعمامے والے مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ہوئی تو اس عاشقِ رسول نے محبت بھرے انداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) کا تعارف کرواتے ہوئے اس میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ میں نے ان کی دعوت قبول کی اور مدرسۃُالمدینہ پہنچ گیا۔ وہاں پیارا پیارامدنی ماحول دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا میں روزانہ سعادتیں حاصل کرنے کے لیے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے لگا۔ مدرسے کی برکت سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا ذہن بنا اور اس طرح میں آہستہ آہستہ مدنی ماحول میں رنگتا چلا گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ جب سے مدرسۃُ المدینہ میں جانا نصیب ہوا ہے، میری زندگی میں بہار آ گئی ہے۔ اب میں مدنی کام بڑے شوق سے کرتا ہوں۔ میں زندگی بھر دعوتِ اسلامی کا مشکور و ممنون رہوں گا کہ جس کے مہکے مہکے مدنی ماحول نے مجھے گناہوں کی دلدل سے نکال کر سعادتوں کی معراج کو پہنچا دیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{12} اِصلاح کااَنوکھاسبب
اوستہ محمد (ضلع جعفرآباد بلوچستان) ہی کے ایک اور اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے: خوش قسمتی سے میں ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوا۔ میرے نانا جان اور ماموں جان امامت کے فرائض سرانجام دیا کرتے تھے اسی وجہ سے میں بھی کبھی کبھار نماز پڑھ لیا کرتا، لیکن پابندی نہیں ہو پاتی تھی۔ کالج سے واپسی کے بعد میں اپنے والد صاحب کے ساتھ دوکان پر فرنیچر کا کام کرتا تھا۔ ایک مرتبہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع