30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دل میں گھر کر گیا اور میں مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شریک ہو گیا۔ وہاں کے روحانی ماحول نے میرے دل کی کایا پلٹ دی جس کی برکت سے مجھے نیکیوں کی توفیق ملی اور دل میں گناہوں سے نفرت کا جذبہ بیدار ہوا۔ جب سے مہکے مہکے مدنی ماحول کی فضائیں میسر آئی ہیں مجھے تو نیکیوں کا سرور مل گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر علاقائی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لئے کوشاں ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں خلوصِ نیت کے ساتھ دین کاکام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{9} میں ایک بدمعاش تھا
جھڈو (ضلع میرپور خاص باب الاسلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے: میں ایک بدمعاش تھا، لوگوں پر ظلم کرنا میری عادت میں شامل تھا۔ اپنے مضبوط اور طاقتور جسم پر مغرور تھا۔ کسی کو خاطر میں نہ لاتاتھا۔ گلے کے بٹن کھول کر اکڑ کر چلنا، بدنگاہی کرنا، کسی کو مُکا تو کسی کو لات مارنا، کسی کو گالیاں دینا، تو کسی کا مذاق اُڑانا میرا معمول تھا۔ بدقسمتی سے مجھے اپنے ہی جیسے برے دوست میسر تھے جوان غلط کاموں پر مجھے سمجھانے کے بجائے میری حوصلہ افزائی کرتے۔ فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے کابھی شائق تھا۔ مجھے اپنی غلطیوں کا احساس تک نہ تھا۔ یونہی زندگی کے ’’ انمول ہیرے ‘‘ ’’ غفلت ‘‘ کی نذر ہو رہے تھے۔ میری سعادتوں کی معراج کا سفر اس طرح شروع ہوا کہ ایک روز میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک ایک اسلامی بھائی سے ہوئی، جنہوں نے محبت بھرے انداز میں مجھے مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کی۔ ان کے ’’ میٹھے بول ‘‘ میرے کانوں میں دیر تک رس گھولتے رہے چنانچہ میں نے ہامی بھر لی، مگر دل میں پیدا ہونے والے مختلف وسوسوں کی وجہ سے نہ جا سکا۔ وہ اسلامی بھائی مجھے مسلسل مدرسۃُ المدینہ (بالغان) میں شرکت کی دعوت پیش کرتے رہے، یہاں تک کہ ایک دن میں نے شرکت کی سعادت حاصل کر ہی لی۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مدرسۃُالمدینہ (بالغان) کے معطر معطر ماحول کی برکت سے مجھے گناہوں بھری زندگی سے نجات مل گئی۔ میں نے توبہ کرلی اور نیکیوں کا عامل بن گیا، سنّت کے مطابق چہرہ پرداڑھی سجائی اورمدنی لباس زیب تن کرلیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِعَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر ذیلی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کرنے میں کوشاں ہوں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب!صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{10} رمضان میں مدرسۃ المدینہ کافیضان
جھڈو (ضلع میرپور خاص باب الاسلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی اپنی توبہ کے احوال کا تذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مشکبار مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں گناہوں بھری زندگی گزار رہا تھا۔ میرے لیل ونہار ٹی وی اور وی سی آرکے سامنے گزرتے تھے۔ اپنی آخرت کے انجام سے اس قدر غافل تھا کہ کبھی خوفِ خداکے سبب آنکھوں میں آنسو نہ آئے تھے۔ پھر میری زندگی نے ایک نیا رخ لیا تومیرے اعمال میں نکھار آنے لگا، ہوا کچھ اس طرح کہ: رمضان المبارک کا رحمتوں بھرا مہینہ تشریف لایا تو میرا ایک دوست (جو ایک محکمے میں ملازم تھا) اکثر اوقات میرے پاس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع