30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
العباد ہے:
كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِۚ(۲۷) (پ۲۷ ، الرحمن: ۲۶-۲۷)
ترجمۂ کنزُ الایمان: زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہے اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات عظمت اور بزرگی والا ۔
قراٰنِ مجید و اَحادیثِ مُبارَکہ میں مادے کے فنا ہونے کی جا بجا مثالیں موجود ہیں مثلاً حضرتِ سَیّدُنا موسیٰکَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جب اپنا عصا مبارک ڈالا تو وہ اَژدہا بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا ۔ ان جادوگروں کا سامان (یعنی سانپوں کی مانند نظر آنے والی رَسیاں) جو تین سو اونٹوں کا بار تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس اَژدہے کے حَجْم (یعنی جسامت) میں ذَرَّہ بھر بھی اِضافہ نہیں ہوا بلکہ وہ سب کا سب اس میں فنا ہو گیا ۔ یہ مادے کے پیدا ہونے اور فنا ہونے کی واضح مثال ہے ۔
یاد رکھیے! کسی بھی عِلم و فن کا کوئی بھی ایسا اُصُول یا ضابطہ جو قراٰن و حدیث سے ٹکرائے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا ۔ قراٰن و سنَّت کا علم حق اور یقینی ہے جس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں جبکہ سائنس وغیرہ کے اُصُول و ضَوابط ظَنیات (یعنی غیر یقینی معلومات) پر مبنی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ آئے روز بدلتے رہتے ہیں لہٰذا کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سائنسی اُصُول و ضَوابط کی بنیاد پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرتِ کامِلہ اور حِکمتِ بالغہ کا اِنکار کرے ۔
فرشتے ، جنات اور شیطان کے وُجُود کا اِنکار کرنا کیسا؟
سُوال: کیا فرشتے ، جنات اور شیطان کا وُجُود ہے؟نیز نیکی کی قوت کو فرشتہ اور بَدی کی قوت کو شیطان کہنا کیسا ہے؟
جواب: فرشتے ، جنات اور شیاطین کا وُجُود قراٰن و حدیث سے ثابت ہے لہٰذا ان کے وُجُود کا اِنکار کرنا اور نیکی کی قوت کو فرشتہ اور بَدی کی قوت کو شیطان کہنا کفر ہے ۔ افسوس ! اب مسلمان دِینی عقائد اور اِسلامی تعلیمات سے بہت دُور ہوتے جا رہے ہیں حتّٰی کہ ایک کتاب میں یہ جُملہ”نیکی کی قوت کا نام فرشتہ اور بَدی کی قوت کا نام شیطان“بھی موجود ہے ۔ بِلاشُبہ یہ قول صَریح کُفر ہے ، اس لیے کہ اس میں فرشتوں اور شیطان کے وُجُود کا اِنکار کیا گیا ہے ۔
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: یہ کہنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے قراٰنِ عظیم میں جن فرشتوں کا ذِکر فرمایا ہے نہ ان کا کوئی اَصل وُجُود ہے نہ ان کا موجود ہونا ممکن ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر ہر مخلوق میں جو مختلف قسم کی قوتیں رکھی ہیں جیسے پہاڑوں کی سختی ، پانی کی رَوانی ، نباتات کی فُزونی(یعنی زیادتی) بس انہیں قوتوں کا نام فرشتہ ہے ، یہ بھی بالقطع و الیقین(یعنی قطعی اور یقینی طور پر) کفر ہے ۔ یونہی جِنّ و شیاطین کے وُجُود کا اِنکار اور بَدی کی قوت کا نام جِنّ یا شیطان رکھنا کفر ہے اور ایسے اَقوال کے قائِل (یعنی ایسی باتوں کے کہنے والے )یقیناً کافِر اور اِسلامی بَرادری سے خارِج ہیں ۔ )[1](
بَدقسمتی سے آج کل ہمارے مُعاشرے میں عام بول چال کے دَوران لاعلمی میں ایسے کلمات بَک دیئے جاتے ہیں جن پر بعض اوقات لزومِ کفر اور بعض اوقات اِلتزامِ کفر([2]) کا حکم لازِم آتا ہے ۔ ہر ایک کو اپنے اِیمان کی فِکر کرتے ہوئے خوب سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے کہ بے خیالی میں نِکلا ہوا ایک کلمہ اِیمان کی بَربادی اور دُنیا وآخرت کے خَسارے کا سبب بن سکتا ہے ۔ یاد رکھیے !حالتِ کُفر میں کیا گیا نکاح ،
[1] فتاویٰ رضویہ ، ۲۹/۳۸۴
[2] کفر کی دو قسمیں ہیں: (1)لزومِ کُفْر (2)اِلْتِزام کُفر ۔ لزومِ کُفر یہ ہے کہ جو بات کہی وہ عَینِ کُفر نہیں مگر کُفرتک پُہنچانے والی ہوتی ہے اوراِلْتِزام کُفر یہ ہے کہ ضَروریاتِ دِین (وہ مَسائلِ دِین جن کو ہر خاص و عام جانتا ہو ان) میں سے کسی چیز کا واضح طور پرخِلاف کرنا یہ قَطْعاً اِجماعاً (یعنی قطعی طور پر بالاتفاق) کُفر ہے اگرچِہ خِلاف کرنے والا کفر کے نام سے چڑتا اور کمالِ اسلام کا دعویٰ کرتا ہو ۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۱۵/۴۳۱ ملخصاً) مزید معلومات کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارےمکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب”کفریہ کلمات کے بارے میں سُوال جواب “ کا مُطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع