30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عاشقانِ رسول کی سُنَّتوں بھری مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی نے نیکی کی دعوت کو دُنیا بھر میں عام کرنے کے لیے جہاں دِیگر بہت ساری مجالس بنائی ہیں وہیں ایک مجلس بنام”مجلس بَرائے شعبہ تعلیم “ بھی بنائی ہے جو تعلیمی اِداروں مثلاً ا سکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز کے اَساتذہ و تلامذہ کو میٹھے میٹھےآقا ، مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری سُنَّتوں سے رُوشناس کروانے میں مَصروفِ عمل ہے ۔ اس مجلس کی بَرکت سےبے شُمار طُلبا سُنَّتوں بھرے اِجتماعات میں شِرکت کرتے ، مَدَنی اِنعامات کے رِسالے پُر کرتے اور مَدَنی قافِلوں کے مُسافِر بھی بنتے رہتے ہیں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مُتَعَدَّد دُنیوی عُلُوم کے دِلدادہ بے عمل طُلبا ، نَمازی اور سُنَّتوں کے عادی بن گئے ہیں ۔ اسکول ، کالج اور یونیورسٹی کے طلبا ، اَساتذہ اور اَسٹاف کو مزید ضَروریاتِ دِین سے رُوشناس کروانے کے لیے مَدَنی ماحول میں اپنی نوعیت کا منفرِد ”فیضانِ قراٰن و حدیث کورس “اور اس کے علاوہ مختلف دِیگر کورسز کا بھی اِہتمام کیا گیا ہے ۔
اِنٹرنیٹ کے مثبت و منفی اَثرات
سُوال: اِنٹرنیٹ کے مثبت و منفی اِستعمال کے متعلق کچھ رہنمائی فرما دیجیے ۔
جواب: اِنٹرنیٹ کے اِستعمال کے منفی اَثرات زیادہ ہیں جبکہ مثبت اَثرات بہت کم ہیں ۔ اِیمان و اخلاق سوز مَواد پر مبنی ویب سائٹس کی بھرمار ہے ، اچانک حیا سوز تَصاویر سامنے ا ٓ جاتی ہیں اب اس سے فوراً نگاہ ہٹانے کے بجائے لُطف اَندوز ہوتے ہوئے نگاہ ٹھہرا دی تو یوں گناہوں کا اِرتکاب ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورتِ حال میں اپنے آپ کو بَدنگاہی سے بچانا اِنتہائی دُشوار ہوتا ہے لہٰذا بِلاضَرورت اِنٹرنیٹ کے اِستعمال سے اِجتناب کیا جائے ۔ اگر ضَرورت ہو تو بقدرِ ضَرورت متعلقہ ویب سائٹ ہی کھولی جائے ، اگر اچانک فحش تَصاویر سامنے آجائیں تو اِسکرین سے فوراً اپنی نگاہیں پھیر لیجیے یا ویب سائٹ کا پیج (Page)تبدیل کر دیجیے اور اپنے آپ کو بَدنگاہی سے بچائیے ۔ اگرچہ آپ اچھا کام ہی کر رہے ہوں تب بھی اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنا اور حیا سوز مَناظِر دیکھنے سے خود کو بچانا ضَروری ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عَلاء بِن زِیاد عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَواد نے یہاں تک فرمایا ہے کہ”اپنی نظر کو عورت کی چادر پر بھی نہ ڈالو کیونکہ نظر دِل میں شہوت پیدا کرتی ہے ۔ “)[1](
سُوال: مشہور مقولہ ہے: ”Matter can not be created and can not be destroyed“ یعنی مادہ نہ تو پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فنا ہو سکتا ہے ۔ کیا یہ عقیدہ رکھنا دُرُست ہے؟
جواب: یہ کلمۂ کفر ہے جو شخص ایسا عقیدہ رکھےکہ مادہ ایک ایسی مخلوق ہے کہ جسے اللہ پاک نے پیدا نہیں کیا خود ہی پیدا ہوا ہے اور کبھی ختم نہ ہو گا وہ دائرۂ اِسلام سے خارِج ہے کیونکہ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کے خالِق اور قادِر ہونے کا اِنکار پایا جاتا ہے جو کہ صریح کفر ہے ۔ کائنات اور جو کچھ اس میں ہے سب کا خالِق و مالِک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے جیسا کہ خُدائے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُۚ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ(۱۰۲) (پ۷ ، الانعام: ۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان: ہر چیز کا بنانے والا تو اسے پوجو اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے ۔
جتنی بھی مخلوقات اس وقت موجود ہیں یا آئندہ وجود میں آنے والی ہیں بالآخر سب کو ایک نہ ایک دن فنا ہونا ہے چنانچہ اِرشادِ ربّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع