دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Chuttiyan Kesay Guzarain | چھٹیاں کیسے گزاریں؟

book_icon
چھٹیاں کیسے گزاریں؟

اوربے تکلفیوں کے دُنیوی و اُخرَوی نُقصانات ہر غیرت مند مسلمان  باخوبی سمجھ سکتا ہے ۔ اِسی مخلوط ماحول  کے کرشمے ہیں  کہ آج نوجوان لڑکیوں کے گھروں سے بھاگنے کی خبریں سننے کو ملتی ہیں  جس سے  والدین اور پورے خاندان  کی بَدنامی ہوتی ہے ۔  اس کے مجرم  خود والدین بھی ہوتے  ہیں کہ اگر وہ اپنی اولاد کی شریعت کے مُطابق تعلیم و تَربیت کا اِہتمام کرتے تو آج  انہیں رُسوائی کے دِن نہ دیکھنے پڑتے ۔  شَریعت ِ مطہرہ نے عورتوں کو گھروں میں ٹھہرنے ، باپَردہ رہنے اور غیر مَرد سے بِلاضَرورت گفتگو کرنے سے بچنے  کا حکم دیا ہے ، اگر ضَرورتاً غیر مَرد سے بات کرنی بھی پڑے تب بھی انہیں لہجے میں نزاکت اور بات میں نَرمی پیدا کرنے سے منع کیا ہے چنانچہ اِرشاد ِ باری تعالیٰ ہے:  

اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ(۳۲) وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ۲۲ ، الاحزاب: ۳۲-۳۳)

                        ترجمۂ کنزالایمان: اگر اللّٰہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نَرمی نہ کرو کہ دِل کا روگی(مریض) کچھ لالچ کرے ، ہاں اچھی بات کہو اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پَردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پَردگی ۔  

اِس آیتِ مُبارَکہ کے تحت صَدرُ الاَفاضِل علَّامہ سَیِّد محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: اِس میں تعلیمِ آداب ہے کہ اگر بہ ضرورت غیر مَرد سے پسِ پَردہ گفتگو کرنی پڑے تو قصد کرو کہ لہجہ میں نَزاکت نہ آنے پائے اور بات میں لوچ (یعنی نَرمی) نہ ہو ، بات نہایت سادگی سے کی جائے ، عِفَّت مآب خواتین کے لئے یہی شایاں ہے ۔  دِین و اِسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور پند و نصیحت کی اگر ضَرورت پیش آئے (تو بات کرو) مگر بےلوچ لہجہ سے ۔  اگلی جاہلیت سے مُراد قبلِ اِسلام کا زمانہ ہے اس زمانہ میں عورتیں اِتراتی نکلتی تھیں ، اپنی زینت و مَحاسِن کا اِظہار کرتی تھیں کہ غیر مَرد دیکھیں ، لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اَعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں اور پچھلی جاہلیت سے اَخیرِ زمانہ مُراد ہے جس میں لوگوں کے اَفعال پہلوں کی مِثل ہو جائیں گے ۔  

عورتوں کے لیے چادر اور چار دِیواری کا حکم

سُوال: کیا چادر اور چار دِیواری  عورتوں کی تَرقی میں رُکاوٹ کا سبب ہے؟

جواب: چادر اور چار دِیواری  عورتوں کی تَرقی میں رُکاوٹ کا سبب نہیں بلکہ ان کے لیے دُنیا و آخرت کی تَرقی و کامیابی کا سبب ہے  کیونکہ چادر(یعنی پَردہ کرنے) اور چار دِیواری (یعنی گھر میں رہنے) کا حکم اللہ عَزَّوَجَلَّ نے دیا ہے  جیسا کہ خُدائے رَحمٰن عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے) وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ ((پ۲۲ ، الاحزاب:  ۳۳) ترجمۂ کنزالایمان: ”اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پَردہ نہ رہو ۔ “ رسولِ کريم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: عورت چھپانے کی چیز ہے ، جب وہ اپنے گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے اور عورت اللہ عَزَّوَجَلَّ کے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر میں ہوتی ہے ۔ )[1]( یقیناً اللہپاک اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے اَحکامات کی بجا آوری میں ہی تَرقی اور دُنیا و آخرت کی کامیابی ہے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ  اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کر کے کوئی  بظاہر دُنیا میں کتنی ہی ترقی کر لے بالآخر وہ ناکام و نامُراد ہی ہے کیونکہ دُنیا کی زندگی فانی اور دھوکے کا مال ہے ۔  حقیقی تَرقی و کامیابی تو یہ ہے کہ اِنسان  اپنی زندگی شریعت کے اَحکام کے مُطابق

            گزارنے ، جہنم کی آگ سے خود كو  بچانے اور جنَّت میں داخِل ہو جانے میں کامیاب ہو جائے جیسا کہ خُدائے رَحمٰن عَزَّ وَجَلَّ  کا فرمانِ



[1]   صحیح ابن خزیمة ، کتاب الامامة فی الصلاة ، باب اختیار صلاة المرأةِ فِی بيتها...الخ ، ۳/۹۳ ، حدیث:  ۱۶۸۵ المکتب الاسلامی بیروت 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن