30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیر محرم سے ہنر یا فَن سیکھنا سکھانا کیسا؟
سُوال: غیر محرم سے کوئی ہنر یا فن سیکھنا یا انہیں سکھانا کیسا ہے؟
جواب: پانچ سات سال کے بچے اور بچیاں ہوں تو ان کے سیکھنے میں کوئی مُضایقہ نہیں اَلبتہ جَوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک دوسرے کے پاس سیکھنے سکھانے میں بہت زیادہ خطرات ہیں ۔ عموماً یہ سیکھنے سکھانے کا سلسلہ بےپردگی اور بے تکلفی کے ساتھ ہوتا ہے جو کہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ اگر یہ ایک دوسرے کو نہ بھی چھوئیں تب بھی بَدنگاہی سے اپنے آپ کو بچانا اِنتہائی مشکل ہے ۔ غیرت مند مسلمان کبھی بھی اپنے بچوں اور بچیوں کے ایسے ماحول میں سیکھنے سکھانے کا اِہتمام نہیں کر سکتے ۔ غیرمحرم سے پَردہ ہی پَردہ ہے ، بِلااِجازتِ شَرعی کسی کی رِعایت نہیں ۔ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت ، مُجدِّدِ دِین و مِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 639 پر فرماتے ہیں: ” رہا پَردہ اس ميں اُستاذ وغَیرِ اُستاذ ، عالِم و غَیرِ عالم ، پِیر سب برابر ہيں ۔ “
طالبات کو نوجوان اُستاد سے پڑھنے کی ممانعت
ہنر یا فن سیکھنا سکھانا تو دُور کی بات ، علمِ دِین پڑھنا ہو اور پڑھنے والی طالبات باپَردہ بھی ہوں مگر پڑھانے والا اُستاد جَوان ہے تب بھی طالبات کو اس کے پاس جانے اور پڑھنے کی شرعاً اِجازت نہیں کہ پَردے کے باوُجُود پڑھنے والیاں لگی بندھی اور جانی پہچانی ہوتی ہیں لہٰذا خَطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے اِسی بِنا پر پَردے کی تمام تَر پابندی کے باوُجُود عورت کو علمِ دِین سیکھنے کے لیے جَوان پِیر کے پاس جانے کی اِجازت نہیں دی چُنانچِہ فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: اگر بدن موٹے اور ڈِھیلے کپڑوں سے ڈَھکا ہے ، نہ ایسے باریک (کپڑے ) کہ بدن یا بالوں کی رَنگت چمکے نہ ایسے تنگ (کپڑے)کہ بدن کی حالت (یعنی کسی عضو کی گولائی یا اُبھار وغیرہ) دِکھائیں اور جانا تنہائی میں نہ ہو اور پیر جَوان نہ ہو ، غَرَض کوئی فتنہ نہ فی الحال ہو نہ (آئندہ کے لیے) اس کا اَندیشہ ہو تو علمِ دِین (اور) اُمُورِ راہِ خُدا سیکھنے کے لئے جانے اور بُلانے میں(کوئی)حَرَج نہیں ۔ )[1]( اس سے وہ لوگ دَرسِ عِبرت حاصِل کریں جو بےپردگی کے ماحول میں کوئی فن یا کام سیکھتے یا سکھاتے ہیں ۔
پَردے میں سُنّی عالمِ دِین کا بیان سُننا جائز ہے
ہاں پَردے کی حالت میں سُنی عالمِ دِین کا بیان سننا جائز ہے کہ بیان سننے اور پڑھنے میں بہت فرق ہے ۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّتفرماتے ہيں: عورَتیں نَمازِ مسجِد سے ممنوع ہيں اور واعِظ ( یعنی وعظ کہنے والا)يا مِيلاد خواں اگر عالِم سُنّی صحيحُ العقیدہ ہو اور اُس کا وَعظ و بيان صحيح و مُطابِقِ شَرع ہو اور (عورت کے آنے ) جانے ميں پوری اِحتياط اور کامِل پَردہ ہو اور کوئی اِحتمالِ فتنہ( یعنی فتنے کا خوف) نہ ہو اور مجلسِ رِجال (یعنی مَردوں کی بيٹھک ) سے دُور (جہاں ایک دوسرے پر نظر نہ پڑتی ہو) ان کی نشست ہو تو حَرَج نہيں ۔ )[2](
سُوال: غیر محارم کے آپس میں بے پَردہ اور دوستانہ ماحول رکھنے کے کیا نُقصانات ہیں؟
جواب: غیر محارم کا آپس میں بے پَردہ اور دوستانہ ماحول رکھنا سَراسر ناجائز و حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ان بے پردگیوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع