30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنے کی کوشش کریں ۔ علمِ دِین سیکھنے کا بہترین ذَریعہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول ہے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں عام اسلامى بھائیوں کے لیے 63دِن کا مَدَنی تربیتی کورس ، 12 دِن کا اِصلاحِ اَعمال کورس ، 12دِن کا مَدَنی کام کورس اور 7 دِن کا نماز کورس کروایا جاتا ہے ، جس میں نہ صِرف علمِ دِین سکھایا جاتا ہے بلکہ اس پر عمل کرنے اور اسے دُنیا بھر میں پھیلانے کے مُقَدَّس جذبے کے تحت سُنَّتوں کی تَربیت کے مَدَنی قافلوں میں سفر بھی کروایا جاتا ہے لہٰذا چھٹیوں کے موقع پر یہ مُفید ترین کورس کر لیے جائیں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خوب بَرکتیں نصیب ہوں گی ۔ جہاں دُنیا کے روشن مستقبل کے لیے اتنی کوششیں کی جاتی ہیں وہاں اپنی قبر و آخرت بہتر بنانے کی بھی کوشش کرنی چاہیے ۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ یہ چھٹیاں بھی لہو و لعب اور دِیگر فضولیات میں گزار دی جاتی ہیں حتّٰی کہ کئی طُلَبا ان چھٹیوں میں سیر و تفریح کے لیے جاتے ہیں مگر وہیں کسی حادثے کا شکا ر ہو کر موت کے گھاٹ اُتر جاتے ہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُنیوی تعلیم میں منہمک ہو کر اپنی قبر و آخرت کو بالکل فَراموش نہیں کر دینا چاہیے ۔ دُنیوی تعلیم مکمل کرنے کے دَوران ضَروری دِینی تعلیم كے حُصُول میں حىلے بہانے بنانے والوں اور وقت ہونے کے باوجود سُنَّتوں کی تَربیت کے مَدَنی قافلوں میں سفر کی سعادت سے خود کو محروم رکھنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں ، دُنیوی تعلیم مکمل ہونے اور روشن مستقبل دیکھنے تک زندہ رہیں گے یا نہیں ، اس کی کسی کے پاس کوئی ضمانت(Guaranty)نہیں ۔ اگر دُنیوی تعلیم کی مَصرُوفیت کی وجہ سے دِینی تعلیم کو وقت نہیں دے پاتے تو کم ازکم چھٹیوں ہی کے اِن فارغ اوقات کو ، اپنی جوانی اور صحت کو غنیمت جانتے ہوئے دِین کے لیے وقت نکالیے اور مَدَنی قافلوں میں سفر کیجیے ۔ ہادیٔ راہِ نجات ، سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو!(1) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے(2)صحت کو بیماری سے پہلے(3) مالداری کو تنگدستی سے پہلے(4) فُرصت کو مَشغولیت سے پہلے اور (5) زندگی کو موت سے پہلے ۔ )[1](
غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے مُنادی
قدرت نے گھڑی عمر کی اِک اور گھٹا دی
سُوال: مسلمان پر کون کونسی چیزیں سیکھنا ضَروری ہیں؟ نیز اپنی اولاد کو کب سے کیا سکھایا جائے؟
جواب: سرکارِ دو عالَم ، نُورِ مجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِم ٍ یعنی علم حاصِل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ )[2](اِس حدیثِ پاک سے اسکول کالج کی مُرَوَّجَہ دُنیوی تعلیم نہیں بلکہ ضَروری دِینی عِلم مُراد ہے ۔ لہٰذا سب سے پہلے اِسلامی عقائد کا سیکھنا فرض ہے ، اس کے بعدنَماز کے فرائض و شَرائِط و مُفِسدات(یعنی نَماز کس طرح دُرُست ہوتی ہے اور کس طرح ٹوٹ جاتی ہے ) پھر رَمَضانُ المُبارَک کی تشریف آوَری ہو توجس پر روزے فرض ہوں اُس کیلئے روزوں کے ضَروری مَسائِل ، جس پر زکوٰۃ فرض ہو اُس کے لئے زکوٰۃ کے ضَروری مَسائِل ، اِسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے ، نکاح کرنا چاہے تو اس کے ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع