30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہرحال اگر کسی کا اس طرح کا عقیدہ ہو یا اس نے اس طرح کے کلمات بولے ہوں تو اسے چاہیے کہ اپنے اِن کفریات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دِل میں ان سے نفرت و بیزاری کا اِظہار کرتے ہوئے توبہ میں ان کا تذکِرہ بھی کرے اور کہے: یا اللہ عَزَّوَجَلَّ!میں نے جوکلمۂ کفر بکا کہ”مادہ نہ تو پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فنا ہو سکتا ہے یا فرشتے ، جنات اور شیطان کے وُجُود کا اِنکار کیا ہے یا نیکی کی قوّت کو فرشتہ اور بَدی کی قوت کو شیطان کہا ہے“اپنے اِس کُفر سے توبہ کرتا ہوں ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سِوا کوئی عبادت کے لائق نہیں حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں ۔ “ یوں کُفر سے توبہ بھی ہو جائے گی اور تجدیدِ اِیمان بھی ۔ )[1](اللہ پاک ہمیں دنیا و آخرت کی ہر آفت و مصیبت سے بچائے اور ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
دُنیا میں ہر آفت سے بچانا مولیٰ
عقبی میں نہ کچھ رَنج دِکھانا مولیٰ
بیٹھوں جو دَرِ پاکِ پیمبر کے حُضُور
اِیمان پہ اُس وقت اُٹھانا مولیٰ (حدائقِ بخشش)
سُوال: کیا زمین سورج کے گِرد گھومتی ہے؟
جواب: زمین سورج کے گِرد نہیں گھومتی بلکہ سورج زمین کے گِرد گھومتا ہے ۔ زمین و آسمان دونوں ساکِن ہیں اور ان کا ساکِن ہونا محض اللہ تعالیٰ کی قدرت و اِختیار سے ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ پارہ 22 سورۂ فاطر کی آیت نمبر 41 میں اِرشاد فرماتا ہے : ) اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ﳛ (ترجمۂ کنز الایمان: ”بیشکاللّٰہ روکے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو کہ جنبش نہ کریں ۔ “اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت ، مُجدِّدِ دِین ومِلَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: زوال کےاَصلی معنیٰ سرکنا ، ہٹنا ، جانا ، حَرکت کرنا اور بَدلنا ہیں ، قراٰنِ عظیم نے آسمان و زمین سے اس کی نفی فرمائی تو حَرکتِ زمین و حَرکتِ آسمان دونوں باطِل ہوئیں ۔ )[2](ہاں سورج متحرک ہے ، سورج کا طلوع ہونا اور غروب ہونا اس کے متحرک ہونے کی واضح دَلیلیں ہیں جیسا کہ اللہپاک کا فرمانِ عالیشان ہے :
وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ (پ۱۵ ، الکھف: ۱۷)
ترجمۂ کنزُ الایمان: اور اے محبوب تم سورج کو دیکھو گے کہ جب نکلتا ہے تو ان کے غارسے دہنی طرف بچ جاتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کترا جاتا ہے ۔
حدیثِ پاک میں ہے: نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوذرغفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو فرمایا جب کہ سورج غروب ہو چکا تھا کیا تم جانتے ہو کہ سورج کہاں جاتا ہے؟ حضرت اَبُوذَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا
[1] مزید معلومات حاصِل کرنے کے لیے شیخِ طریقت ، امِیرِ اہلسنَّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علَّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی 692صفحات پر مشتمل کتاب”کفریہ کلمات کے بارے میں سُوال جواب“ کا مُطالعہ کیجیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ معلومات میں اِضافے کے ساتھ ساتھ زبان کا قفلِ مدینہ لگانے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا بھی ذہن بنے گا ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ )
[2] فتاویٰ رضویہ ، ۲۷/۲۰۵-۲۰۶ ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع