30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صوبہ پنجاب (پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں معاشَرے کا بگڑا ہوا نوجوان تھا اور دن بدن گناہوں کی دلدل میں دھنستا ہی چلا جارہا تھا ۔ میری اِصلاح کی صورت اس طرح بنی کہ ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران نےV.C.D.اجتماع کی ترکیب بنائی ۔ میں بھی اس v.c.d.اجتماع میں شریک ہوا ۔ جب میں نے دعوتِ اسلامی کے بینَ الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کے رُوح پرور مناظِر دیکھے تو بہت متأثر ہوا اور جب 27ویں شبِ رمضان کو ہونے والے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے رقّت انگیز بیان کا کچھ حصہ سنا تو مجھے اپنے سابِقہ اندازِ زندگی سے وحشت محسوس ہونے لگی ، جوں جوں بیان سنتا گیا میرے دل کی دنیا بدلتی چلی گئی ۔ بالآخر میں نے اپنے تمام گناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ۔ اس وقت میں اپنے حلقے میں ذیلی مشاورت کے نگران کی حیثیت سے نیکی کی دعوت کی دُھومیں مچانے کی کوشش میں مصروف ہوں ۔
عطائے حبیبِ خدا مَدَنی ماحول ہے فیضانِ غوث و رضا مَدَنی ماحول
سلامت رہے یا خدا مَدَنی ماحول بچے نظرِبد سے سدا مَدَنی ماحول
سنور جائیگی آخِرت ان شاءَ اللّٰہ تم اپنا ئے رکھو سدا مَدَنی ماحول
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(15) مسجد بنانے کی نیت کر لی
مرکز الاولیاء لاہور(پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ عَلاقے سبزہ زار میں ایک میدان میںV.C.D.اجتماع منعقد کیا گیا ۔ الوداعِ رمضان کے پُرسوز مناظر دیکھ کر شرکاء اجتماع رونے لگے ۔ جب اجتماع اختتام کو پہنچا تو الحمدللّٰہ عَزَّوَجَلّ اہلِ محلہ اتنے متأثر ہوچکے تھے کہ انہوں نے اس میدان کے قریب مسجد بنانے کا اعلان کردیا ۔
اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں میں
اے دعوت اسلامی تیری دھوم مچی ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُﷲِ عَزَّوَجَلَّہم مسلمان ہیںاور ایک مسلمان کے لئے اس کی سب سے قیمتی متاع اس کا ایمان ہے ۔ اس کی حفاظت کی فکر ہمیں دنیاوی اشیاء سے کہیں زیادہ ہونی چاہیے۔ امامِ اہلسنّت،عظیم البرکت،مجددِ دین وملت اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن کا ارشاد ہے:عُلَمائے کرام فرماتے ہیںجس کو (زندگی میں )سلْب ایمان کاخوف نہیں ہوتا، نَزْع کے وقت اُس کا ایمان سلْب ہوجانے کا شدید خطرہ ہے ۔ (الملفوظ حصہ ۴ ص۳۹۰ حامد اینڈ کمپنی مرکز الاولیاء لاہور)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیک اعمال پر استقامت کے علاوہ ایمان کی حفاظت کا ایک ذریعہکسی ’’مرشدِکامل ‘‘ سے بیعت ہوجانا بھی ہے ۔
بَیْعَت کا ثُبوت : اللہعَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔
یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ (پ۱۵ ،بنی اسرائیل :۷۱)
ترجمۂ کنزالایمان: جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔
تفسیرنورُ العِرفان میں حکیم الامت مفتی احمد یا ر خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اس آیتِ مبارَکہ کے تحت لکھتے ہیں’’ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں کسی صالح کو اپنا امام بنالیناچاہیئے شریعت میں ’’تقلید‘‘ کرکے ، اور طریقت میں ’’بَیْعَت‘‘کرکے ، تاکہ حَشْر اچھوں کے ساتھ ہو۔ اگر صالح امام نہ ہوگا تو اس کا امام شیطان ہوگا۔ اس آیت میں تقلید، بَیْعَت اور مُریدی سب کا ثبوت ہے۔‘‘
پیارے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے کہ کسی کو اپنا پیر بنانے کے لئے چار شرائط کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔چنانچہ امامِ اہلِسنّت ، مجددِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ جلد21صفحہ 603پر پیر کی شرائط کچھ یوں تحریر فرماتے ہیں:
(۱)صحیح العقیدہ سنّی ہو۔(۲)اتنا علم رکھتا ہو کہ اپنی ضروریات کے مسائل کتابوں سے نکال سکے ۔(۳)فاسقِ معلن نہ ہو(ایک بار گناہِ کبیرہ کرنے والا یا گناہ صغیرہ پر اصرار کرنے والا یعنی تین یا اس سے زیادہ بار کرنے والا یا صغیرہ کو صغیرہ سمجھ کر ایک بار کرنے والا فاسق ہوتا ہے اور اگر علی الاعلان کرے تو فاسق ِ معلن ہے ۔)(۴)اس کا سلسلۂ بیعت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم تک متّصل (یعنی ملاہوا) ہو ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کے پرفِتن دور میں پیری مُریدی کا سلسلہ وسیع تر ضَرورہے ، مگر جامع شرائط پیر اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہیں۔ لیکن یہ اَللّٰہ عَزَّوجَلَّ کاخاص کرم ہے! کہ وہ ہر دور میں اپنے پیارے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت کی اصلاح کیلئے اپنے اولیاء کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہ کو پیدافرماتا ہے۔ جو اپنی مومنانہ حکمت و فراست کے ذریعے لوگوں میں اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کا مقدس جذبہ بیدارکرنے کی سعی فرماتے ہیں۔جس کی ایک مثال قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کا مَدَنی ماحول ہمارے سامنے ہے۔ جس کے امیر،بانیِ دعوت اسلامی،امیرِ اَہلسنّت ابوبلال حضرت علّامہ مولانامحمد الیاس عطار قادری رَضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ہیں، آپ کی سعی پیہم نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میںمَدَنی انقلاب برپا کردیا۔
آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ، قطب ِمدینہ خلیفۂ اعلیٰ حضرت حضرت سیدنا ضیاء الدین مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ ہیں۔(آپ کو شارح بخاری،فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے سلاسلِ اربعہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ کی خلافت و کتب و احادیث وغیرہ کی اجازت بھی عطا فرمائی، جانشین سیدی قطبِ مدینہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب اشرفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اپنی خلافت اور حاصل شدہ اسانید و اجازات سے نوازا ہے۔ دنیائے اسلام کے اور بھی کئی اکابر علماء و مشائخ سے آپ کو خلافت حاصل ہے۔)
امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہسلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ میںمُرید کرتے ہیںاورقادری سلسلے کی عظمت کے توکیاکہنے کہ اس کے عظیم پیشوا حضور سیدنا غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قیامت تک کے لئے (بفضل ِ خدا عزوجل)اپنے مریدوں کے توبہ پر مرنے کے ضامن ہیں ۔(بہجۃ الاسرار،ص۱۹۱،مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع