30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِبتِدائے اِسْلَام میں جو شخص مسلمان ہوتا وہ اپنے اِسلام کو حَتَّی الْوَسْع (جہاں تک مُمکِن ہوتا)مَـخْفِی (یعنی چُھپا)رکھتا کہ حُضُورِ اَکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے بھی یہی حُکم تھاتاکہ کافِروں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف اور نُقْصَان سے مَحْفُوظ رہیں۔ جب مسلمان مَردوں کی تعداد 38 ہو گئی تو حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیقِ اَکبررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ نے بارگاہِ رَسُولِ اَنْوَر میں عَرْض کی: یَا رَسُولَاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اب عَلَی الاعلان تبلیغِ اِسْلَام کی اِجازَت عِنایَت فرما دیجئے۔ شفیعِ روزِ شُمار، اُمّت کے غم خوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَوّلاً اِنکار فرمایا، مگر پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ کے اِصْرَار پر اِجازَت عِنَایَت فرما دی۔ چُنانچِہ جب سب مسلمان مَسْجِدِ حَرام کے گِرد موجود اپنے اپنے قبیلوں میں بیٹھ گئے تو خطیبِ اَوّل حضرتِ سیِّدُناصِدّیقِ اَکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ نے خطبے کا آغاز کیا،خطبہ شروع ہوتے ہی کُفّار ومُشرکین چاروں طرف سے مسلمانوں پر ٹُوٹ پڑے۔مکۂ مکرمہ میں آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہکی عَظَمَت و شَرافت مُسَلَّم تھی، اِس کے باوُجُود کُفّارِ بَد اَطوار نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ پر بھی اِس قدر خُونی وار کئے کہ چہرۂ مُبارَک لَہو لُہان ہوگیا یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ بے ہوش ہوگئے۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ کے قبیلے والوں کو خَبَر ہوئی تو وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ کو وہاں سے اُٹھا لائے،انہیں گُمان تھا کہ اب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ زندہ نہ بچ سکیں گے۔ بَہَرحَال شام کو جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ کو اِفاقہ ہوا اور ہوش میں آئے تو سب سے پہلے یہ اَلفاظ زبانِ صداقت نشان پر جاری ہوئے: مَـحْبُوبِ ربّ ِذُوالجَلال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کیا حال ہے؟ لوگوں کی طرف سے اِس پر بَہُت مَلامت ہوئی کہ اُن کا ساتھ دینے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع