30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والا، کرانے والا، بتانے والا(اور) مشورہ دینے والا سب ثواب کے مُسْتَحِق (یعنی حَق دار) ہیں۔[1]مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ بَرَکَت نِشان ہے:جو ہِدایَت کی طرف بُلائے، اُس کو تمام عامِلین(یعنی عَمَل کرنے والوں) کی طرح ثواب ملے گا اور اس سے اُن (عَمَل کرنے والوں) کے اپنے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگااور جو گمراہی کی طرف بُلائے تو اُس پر تمام پَیْرَوِی کرنے والے گمراہوں کے برابر گناہ ہو گا اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا۔[2]
عطارؔ سے محبوب کی سُنَّت کی لے خدمت
ڈنکا یہ تِرے دِین کا دُنیا میں بجا دے[3]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
چوک دَرْس نیکیوں پر اِسْتِقَامَت کا بھی ایک ذریعہ ہے، جب بندہ کسی کو نیکی کی دَعْوَت دیتا ہے تو خود اس نیکی پر اِسْتِقَامَت حاصِل کرنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے، بلکہ اگر کمزوری بھی ہو تو اس کے دُور ہونے کا اِمکان بھی ہوتا ہے، کسی بزرگ کے قول کا مَفْہُوم ہے کہ جس نیک کام پر اِسْتِقَامَت مَقْصُود ہو اس کی دوسروں کو ترغیب دلائیے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِسْتِقَامَت نصیب ہو جائے گی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع