30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہِالْقَوِی فرماتے ہیں: میں ان کے قریب گیا تو سُنا کہ آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عنہ لوگوں کو حدیثِ پاک کا دَرْس دے رہے ہیں۔[1]اسی طرح جب حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ نے سُنّتوں کا درس عام کرنے کے لیے مدینۂ مُنَوَّرہ کی پُر بہار فضاؤں کو چھوڑ کر مُلکِ شام کا سَفَر اِخْتِیار کیا۔ [2]تو روایات میں ہے کہ کئی بار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ نے دِمَشْق کے لوگوں کو ایک مَقام پر جَمْع کیا اور پھر کھڑے ہو کر ان کو نیکی کی دَعْوَت پیش کی۔ مثلاً ایک بار جامِع مَسْجِد دِمَشْق کے باہَر کھڑے ہو کر آپرَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عنہ نے فرمایا: اے اَہْلِ دِمَشْق!تم سے پہلے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں، جنہوں نے بَہُت مال جَمْع کیا، لمبی اُمّیدیں باندھیں اور مَضْبُوط عِمارتیں تعمیر کیں لیکن ان کے جَمْع شُدہ اَموال تباہ و برباد ہوگئے، ان کی اُمّیدیں خاک میں مل گئیں اور ان کے مَحلاّت اُن کی قبروں میں تبدیل ہو گئے۔[3]
صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بعد دیگر سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نے بھی نیکی کی دَعْوَت کو عام کرنے کے لیے یہ طریقہ جاری رکھا اور سَفر ہو یا حَضر؛یہ نُفُوسِ قُدْسِیَّہ ہر حال میں لوگوں کو نُورِ عِلْم سے مُنَوَّرکرنے کا کوئی مَوْقَع ہاتھ سے نہ جانے دیتے،جیساکہ حضرت سَیِّدُنا عبدُاللہ بن عبّاس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عنہُما کے آزاد کردہ غلام حضرت سَیِّدُنا عِکْرمہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ آپ کو اس اُمَّت کا حِبْر یعنی بَہُت بڑا عالِم کہا جاتا ہے۔آپ مُـخْتَلِف ممالک کا سَفَر کیا کرتے اور جہاں بھی قِیام فرماتے عِلْمِ دین سیکھنے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع