30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چیدہ چیدہ لوگوں کو بھی راہِ حَق اپنانے کا دَرْس دیا۔ مثلاً اَیّامِ حَج میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ مَعْمُول تھا کہ اس مَوْقَع پر جَمْع ہونے والے قبائلِ عَرَب کے پاس جا جا کر اِسْلَام کی دَعْوَت دیتے جیسا کہ مروی ہے کہ جَمْرہ عَقَبَہ[1]کے پاس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینۂ مُنَوَّرہ کے قبیلہ خَزْرَج کے کچھ لوگوں کو دَعْوَتِ اسلام دی اور قرآنِ کریم کی چند آیتیں تِلاوَت فرمائیں تو وہ اِسْلَام لے آئے۔[2]اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس وَقْت عَرَب کے مَشْہُور بازاروں مثلاً ذُو الْـمِجاز[3] اور عُکاظ[4] وغیرہ میں بھی جا جاکر لوگوں کو نیکی کی دَعْوَت دیا کرتے تھے۔[5]طائف کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔
تبلیغِ دین کے اس طریقے کو صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اپنے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ظاہِری حَیات میں ہی نہیں بلکہ اس جہانِ فانی سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی جاری رکھا جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا امیر مُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ کے دورِ حُکُومَت میں ایک بار حضرت سَیِّدُنا سُمَیر اصبحی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی مدینہ شریف میں حاضِر ہوئے تو ایک شخص کے پاس بہت سے لوگوں کا ہجوم دیکھا،کسی سے پوچھا:یہ صاحِب کون ہیں؟ تو اس نے بتایا کہ یہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عنہ ہیں۔ چُنَانْچِہ حضرت سَیِّدُنا سُمَیر اصبحی عَلَیْہِ رَحمَۃُ
[1] ………مِنٰی میں تین۳ مَقامات جہا ں کنکریاں ماری جاتی ہیں انہیں جمرات کہتے ہیں، پہلے کا نام جَمْرَةُ العَقَبة ہے۔ اسے بڑا شیطا ن بھی بولتے ہیں۔ دوسرے کو جَمْرَةُ الْوُسْطٰی (منجھلا شیطان) اور تیسرے کو جَمْرَةُ الْاُولٰی (چھوٹا شیطان) کہتے ہیں۔ (بہار شریعت، اصطلاحات، ۱/ ۶۷)
[2] ……… شرح الزرقانی علی المواھب،تابع المقصد الاول، ذکر عرض المصطفی...الخ،۲/۷۴ ملتقطًا
[3] ……… مسنداحمد،مسند الانصار،احادیث رجال من...الخ، ۹/۴۶۷،حدیث:۲۳۸۳۶
[5] ……… شرح الزرقانی علی المواھب،تابع المقصد الاول، ذکر عرض المصطفٰی...الخ، ۲/۷۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع