30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ ’’ایسا ماروں گا یا ایسا ماروں گی‘‘ اُسے ڈھیٹ بنادیتے ہیں ، بچّہ بھی سمجھ جاتا ہے کہ’’ ماں نےکبھی مکھی مار ی تھی جو مجھے مارے گی ، ‘‘کیونکہ ماں صرف خالی کہتی رہتی اور بُرا بھلا کہہ کر کوستی رہتی ہے۔ بچّوں کو Kids (یعنی بچّوں کا)مَدَنی چینل دِکھائیں ، کیونکہ بچّے عام طور پر اِسے بڑی توجّہ کے ساتھ دیکھتے ہوں گے ، اِس میں خوبصورت انداز اپنایا جاتاہے جسے دیکھ کر بچّہ اپنے حساب سے مَدَنی پھول لے رہا ہوتا ہے۔
سُوال : آج کل لوگ پھٹی ہوئی (Damage)پینٹ پہنتے ہیں جس سے اُن کا جسم نظر آرہا ہوتا ہے۔ ایسی پینٹ پہننا کیسا؟
جواب : پھٹا ہوا لباس پہننا تنگدستی لاتا ہے۔ ([1]) ایسا لباس پہننا اُسی صورت میں ناجائز ہوگا کہ جب اِنسان کا ستر اور پردے کی جگہ چمکے اور نظر آئے۔ ([2])ایسے کپڑوں میں دُوسروں کے سامنے آنا بھی جائز نہیں ہے ، ([3]) کسی کے سامنے آئے گا تو گُناہ گار ہوگا۔ البتہ اگر کپڑے کی کوئی ایسی جگہ پھٹی ہوئی ہے جس میں بے پردَگی نہیں ہورہی ، جیسے کندھے کی طرف والا حصّہ پھٹا ہوا ہے یا پیٹ کی طرف کا وہ حصّہ پھٹا ہوا ہے جو ستر میں داخل نہیں ہے تو پھر گُناہ نہیں ہے ، لیکن ایسے کپڑے پہننا اچھا بھی نہیں ہے ، کیونکہ اِس سے اِنسان کا اچھا Image (یعنی تصوّر)قائم نہیں ہوتا اور Impression (یعنی تأثّر) خراب ہوتا ہے۔ دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے رِسالے ’’زَخمی سانپ‘‘([4]) کے صفحہ نمبر 14 پر ہے : ’’سَتْرِ عَورَت ہر حال میں واجِب ہے ، بِغیر کسی صحیح وجہ کے تنہائی میں کھولنا بھی جائز نہیں ، لوگوں کے سامنے اورنَماز میں تو سَتْر بِالاِجْماع فرض ہے۔ ‘‘([5]) یعنی ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں
[1] سنی بہشتی زیور ، ص۶۰۱۔
[2] بہار شریعت ، ۱ / ۴۸۱ ، حصّہ : ۳ ماخوذاً ۔
[3] بہار شریعت ، ۱ / ۴۸۱ ، حصّہ : ۳ ماخوذاً۔
[4] ’’زخمی سانپ‘‘ یہ رسالہ اَمیرِ اَہلِ سُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا تحریر کردہ ہے جس کے 20 صفحات ہیں ۔ اِس رِسالے میں بے پردَگی کی ہولناک سزا ، پردے اور حَیا کے متعلّق 31 مَدَنی پھولوں کا گلدستہ ، مَحارِم کی طرف دیکھنے کے اَحکام اور مَردوعَورَت کے پردے کے متعلّق دیگر مسائل کابیان کیا گیاہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت)
[5] بہار شریعت ، ۱ / ۴۷۹ ، حصّہ : ۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع