30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رکّھے)۔ اِس آیت کے تحت ’’تفسیر صِراطُ الجنان‘‘ میں لکھا ہے : بیوی کے حوالے سے فرمایا کہ اگر بدخُلقی یا صُورَت اچّھی نہ ہونے کی وجہ سے عَورَت تمہیں پسند نہ ہو تو صبر کرو اور بیوی کو طلاق دینے میں جلدی نہ کرو ، کیونکہ ممکن ہے کہ اللہ پاک اُسی بیوی سے تمہیں ایسی اَولاد دے جو نیک اور فرماں بَردار ہو ، بُڑھاپے کی بےکَسی میں تمہارا سَہارا بنے۔ ([1])
سُوال : بیوی کو نَماز کی طرف لانا ہو تو کون سا طریقہ اپنا نا چاہیے؟ نیز بیوی کو گالی گلوچ سے روکنے کا بھی کوئی حل بتادیجئے۔ (SMS کے ذریعے سُوال)
جواب : بیوی کو نَرمی ، پیار اور شفقت سے نَماز کی تلقین کرنی چاہیے اور نَماز پڑھنے کے فضائل ، نیز نہ پڑھنے کی وعیدیں سُنانی چاہئیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ دعوتِ اِسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’فیضانِ نَماز‘‘([2])موجود ہے ، بیوی کو بٹھا کر اِس سے درس دیں اور گھر میں مَدَنی چینل چلائیں ، اِس طرح بیوی کا دِل نَرم پڑے گا اور وہ اِنْ شَآءَ اللہ نَمازی بن جائے گی۔ اگر شوہر شور شَرابا کرتا رہے گا تو بیوی کو ضِد چڑھے گی اور پھر مشکل ہے کہ وہ نَمازی بنے۔
جہاں تک گالی گلوچ کا تعلّق ہے تو مسلمان کو گالی دینا گُناہ کا کام ہے۔ ([3]) شوہر اور بیوی تو مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ قریبی رِشتہ دار بھی ہیں اور اُن کے صلۂ رَحمی کے بھی مُعامَلات ہیں۔ اگر شوہر بیوی کوگالی دیتا ہے تو اُسے چاہیے کہ توبہ کرے اور مُعافی بھی مانگے ، گالی گلوچ تو ویسے بھی اچھے لوگوں کا کام نہیں ہے ، جبکہ بیوی تو رفیقۂ حَیات یعنی زندگی کی ساتھی ہے۔ اگر بیوی شوہر کو گالی دیتی ہے تو یہ اور بڑی بات ہے ، کیونکہ شوہر کا اُس پر بڑا حق ہے ، یُوں
[1] تفسیر صراط الجنان ، پ۴ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۱۹ ، ۲ / ۱۶۷۔
[2] ’’فیضانِ نماز‘‘یہ کتاب امیرِ اَہلِ سُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف ’’فیضانِ سنّت‘‘ جلد سوم کا ایک باب ہے۔ اِس کے600صفحات ہیں۔ اِس کتاب میں نَماز پڑھنے کے ثوابات ، پانچ نمازوں کے فضائل ، جَماعت کے فضائل ، مسجد کے فضائل ، سجدے کے فضائل ، خشوع وخضوع سے نَماز پڑھنے کے فضائل ، نَماز نہ پڑھنے کے عذابات ، عاشقانِ نَماز کی 86حکایات اور نَماز کے متعلق بہت سے مسائل اور اَحکامات کو بیان کیا گیا ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت)
[3] بخاری ، کتاب الادب ، باب ماینھٰی من السباب...الخ ، ۴ / ۱۱۱ ، حدیث : ۶۰۴۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع