30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے حق میں بھی یہ دُعائیں قبول فرمادے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
’’مَدَنی اِنعامات‘‘ کے بجائے ’’نیک اَعمال‘‘ کہا جائے
سُوال : سُنا ہے کہ مَدَنی اِنعامات کا نام تبدیل کردیا گیا ہے؟ کیایہ دُرُست ہے؟ ([1])
جواب : جی ہاں! دراصل جو دعوتِ اِسلامی کےماحول سے وابستہ اِسلامی بھائی اور اِسلامی بہنیں ہیں اُنہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مَدَنی اِنعامات کیا ہیں؟ لیکن جو نیا اِسلامی بھائی یا اِسلامی بہن ہے اُنہیں سمجھ نہیں آتا کہ مَدَنی اِنعامات سے کیا مُراد ہے؟ کسی نے چٹکلا بھی سُنایا تھا کہ ’’ایک شخص کے سامنے مَدَنی اِنعامات کی بات ہوئی ، جب بات ختم ہوئی تو اُس نے کہا کہ آپ نے اِنعامات کا ذِکر کیا تھا ، وہ کب ملیں گے؟‘‘ تو عام لوگ مَدَنی اِنعامات سُن کرConfuse (یعنی اُلجھن کا شِکار)ہوتے ہیں ، اِس لئے ’’مَرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اِسلامی)‘‘ نے یہ پاس کیا ہےکہ اب ’’مَدَنی اِنعامات‘‘ کو ’’نیک اَعمال‘‘ کہا جائے گا ، یعنی یہ کہنے کےبجائے کہ ’’مَدَنی اِنعامات پر عمل کریں‘‘ یہ کہا جائے کہ ’’نیک اَعمال پر عمل کریں۔ ‘‘ مَدَنی اِنعامات کا رِسالہ بھرنےکو پہلے ’’فکرِ مدینہ‘‘ کہتے تھے ، بعد میں ’’مُحاسَبہ‘‘ کہنا شروع کیا ، لیکن ظاہِر ہے یہ لفظ بھی سمجھنا مشکل تھا ، اِس لئے اب ’’مُحاسَبہ‘‘ کے بجائے ’’جائزہ‘‘ کہا جائے گا ، یعنی یُوں کہیں گے کہ ’’روزانہ اپنے اَعمال کا جائزہ لیں کہ آج کیا کیا نیکیاں ہوئیں؟ اُن نیکیوں پر اِستقامت کیسے حاصل ہوگی؟ اُن میں اِضافہ کیسےہوگا؟ ‘‘ یا فُلاں گُناہ ہوگیا تھا تو فوراً توبہ کریں اور نیّت کریں کہ آئندہ وہ گناہ نہ ہو۔ یُوں اپنا جائزہ لیتے جائیں۔ ’’نیک اَعمال‘‘ پر عمل اور روزانہ اُن کا ’’جائزہ‘‘ لینے سے کئی گُناہوں پر توجّہ چلی جاتی ہے کہ ’’فُلاں کی غیبت کی تھی ، یا غیبت سُن لی تھی ، فُلاں کو میں نے تھوڑا ڈانٹ دیا تھا یا بے موقع طنز کیا تھا ، اُس کا دِل دُکھ گیا ہوگا وغیرہ۔ ‘‘ جب ایسی چیزیں توجّہ میں آئیں تو توبہ بھی کریں اور فوراً سارے کام چھوڑ کرجائیں اور مُعافی بھی مانگیں۔ اگر جا نہیں سکتے تو اُس سے Contact (یعنی رابطہ) کریں اور اُس کو راضی کریں۔ ہم لوگ بندے کا حق تلف کرنے ، اُس کا دِل دُکھانے ، طنز کرنے اور مَذاق اُڑانے کو Serious نہیں لیتے ، ایسا نہ ہو کہ کہیں یہی چیزیں ہمیں جہنّم میں پہنچادیں۔ ہم اللہ سے پناہ مانگتے ہیں۔ کاش! ہم حُقوقُ العباد سے دُنیا ہی میں فارِغ ہوجائیں۔
[1] یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع