30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور سبز گنبد کا ماڈَل بناتے ہیں اُس میں کیا اِحتِیاطیں کرنی چاہئیں؟ (سیّد مبین علی شاہ۔ لیاقت آباد ، کراچی)
جواب : مَاشَآءَ اللہ ، لیاقت آباد تو دعوتِ اِسلامی کے پہلے سے سجتا آرہا ہے ، اب تو بہت ترقّی ہوگئی ہوگی۔ خانۂ کعبہ کا جو ماڈَل بنایا جاتا ہے اُس میں بعض اَوقات طواف کا منظر دِکھایا جاتا ہے جس میں کھلونے والی گُڑیاں اور گُڈے یعنی بُت رکھے ہوتے ہیں ، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ سَجاوٹ کرنی ہی ہے تو اُن بُتوں کے بجائےپلاسٹک کے پھول رکھ دئیے جائیں۔ مزید یہ کہ ایسی جگہ یہ ماڈلز نہ لگائے جائیں جہاں لوگوں کا راستہ بند ہو ، کیونکہ اِن ماڈلز کا سائز بڑا ہوتا ہے اور یہ عمومًا چوکوں پر رکھے جاتے ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ گاڑیو ں کی آمَد و رفت میں رُکاوٹ بنیں گے ، یُوں ہی لوگوں کے چلنے پھرنے میں بھی مسئلہ ہوگا ، اِس لئے ایسی جگہ کا اِنتِخاب کیا جائے جہاں کسی کو تکلیف نہ ہو۔ یہ سب مَدَنی پھول ہمارے پمفلٹ ’’جشنِ وِلادت کے 12 مَدَنی پھول‘‘ میں لکھے ہوئے ہیں۔ اِس بار میں نے اِن مَدَنی پھولوں میں کچھ ترمیم اور نظرِ ثانی کی ہے ، اِس کے عِلاوہ رسالہ ’’صبحِ بہاراں‘‘ پر بھی کچھ ترمیم اور ردّو بَدَل کا کام کیا ہے ، یہ ضرور لے کر پڑھئے ، اِنْ شَآءَ اللہ نئی معلومات حاصل ہوں گی۔ ترمیم شُدہ رِسالہ ’’صبحِ بہاراں‘‘ شائع بھی ہوچکا ہے۔
چَراغاں کرتے وقت کی اِحتِیاطیں
سُوال : چَراغاں کرتے وقت کی کچھ اِحتِیاطیں بتادیجئے۔ ([1])
جواب : جس وقت چَراغاں کرنے کےلئے لائٹیں لگاتے ہیں اُس وقت بہت شور ہوتا ہے جس سے لوگوں کی نیندیں خَراب ہوتی ہیں ، اِس سے بچنا چاہیے۔ نیز بعض لوگ زبردستی گھروں پر چڑھ کر بغیر اِجازت رسّیاں باندھتے ہیں ، اِس میں مالِک سے اِجازت لینی ہوگی۔ اگر مالِک اِجازت نہیں دیتا تو آپ اُس کے گھر پر رسّی نہیں باندھ سکتے ، بھلے اِس سے آپ کے چَراغاں میں فرق آئے۔ ایسی صورت میں اُس گھر کے مالِک پر اِلزام بھی نہیں لگاسکتے کہ ’’یہ وہ ہے یا یُوں ہے۔ ‘‘ رسّی نہ باندھیں ، یا باندھنی ہے تو کوئی اور راستہ نکالیں۔
[1] یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع