30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سمیت گولائی میں سارا حصّہ سترِ عَورَت کہلاتا ہے ، ([1]) یہ حصّہ آدَمی اکیلے میں بھی بِلا ضرورت نہیں کھول سکتا۔ ہاں! کوئی صحیح ضرورت اور صحیح وجہ ہو تو کھول سکتا ہے ، جیسے پیشاب وغیرہ کرنے کے لئےکھول سکتا ہے ، کیونکہ ایسا کئے بغیر یہ کام کرنا دُشوار ہے۔ عَورَت کا پُورا جسم عَورَت یعنی چُھپانے کی چیز ہے ، البتہ عَورَت اپنی ہتھیلیاں اور پاؤں کے تلوے کُھلے رکھ سکتی ہے۔ ([2]) تفصیل کے لئے کتاب ’’پردے کے بارے میں سُوال جواب‘‘ ([3]) کا مطالعہ کیجئے۔ ([4])
اگر آج اَعلیٰ حضرت سے مُلاقات ہوجائے توکیا پُوچھیں گے؟
سُوال : ایک تصوُّراتی سُوال ہے کہ اگر آپ کی آج اَعلیٰ حضرت اِمام اَحمد رَضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ سے مُلاقات ہوجائے تو آپ اُن سے کیا بات کریں گے؟ یا کیا پوچھیں گے؟
جواب : سُبْحٰنَ اللّٰہ ! اگر آج مجھے اَعلیٰ حضرت اِمام اَحمد رَضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی اپنے ہوش و حَواس کے ساتھ زِیارت نصیب ہوجائے تو میں سَلام کروں گا ، ہاتھ چُوموں گا اور دُعائے مغفرت کرواؤں گا ، کیونکہ اَعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کی خُود بھی یہی عادتِ کریمہ تھی کہ آپ کوکوئی بزرگ ملتے تو اُن سے مغفرت کی دُعا کرواتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اپنا ایک قصّہ ’’ملفوظات شریف‘‘ میں بیان فرمایا ہے کہ ’’آپ جب حج پرگئے تو ایک صاحب کو ’’مسجدِ خیف‘‘ میں قبلہ رُو بیٹھے وظیفے میں مصروف دیکھا ، اَعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں صحنِ مسجد کے دروازے کے پاس تھا اور اُس وقت کوئی تیسرا فرد مسجد میں نہیں تھا ، میں نے یکایک شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنی تو مجھے فوراً یہ حدیثِ پاک یاد آئی کہ ’’اَہْلُ اللہ یعنی نیک بندوں کے دل سے ایسی آواز
[1] بہار شریعت ، ۱ / ۴۸۱ ، حصّہ : ۳ ۔
[2] بہار شریعت ، ۱ / ۴۸۱ ، حصّہ : ۳ ۔
[3] ’’پردے کے بارے میں سُوال جواب‘‘ یہ کتاب اَمیرِ اَہلِ سُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تصنیف ہے جس کے 397 صفحات ہیں۔ اِس کتاب میں سُوال و جواب کی صُورت میں اِن چیزوں کا ذِکر کیا گیا ہے : عَورَت کا کس کس سے پردہ ہے؟ شوہر باہر نہ نکلنے دے تو۔ ۔ ۔ ؟ چادَر اور چار دیواری کی تعلیم کس نے دی؟ شادی کی عمر کتنی ہونی چاہیے؟ وغیرہ۔ (شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنّت)
[4] پردے کے بارے میں سوال جواب ، ص۱۲-۳۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع