30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پَست کرنے کے لیے کوشش کرے مثلاً مُنہ پر اُلٹا ہاتھ رکھ لے ىا اوپر کے دانتوں سے نچلے ہونٹوں کو دَبا لے یا یہ تَصَوُّر باندھے کہ اَنبىائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کبھى بھى جماہی نہىں آئى ۔ ([1])
حاجی اصلی شیطان کو پتھر مارتے ہیں یا نقلی کو؟
سُوال : اگر اصل شیطان مکہ شریف میں ہے جس کو حاجی پتھر مارتے ہیں تو ہمارے ساتھ کون سا شیطان ہے ، کیا اصلی اور نقلی شیطان بھی ہوتے ہیں؟
جواب : مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں جہاں شیطان کے نام سے سُتُون بنا ہوا ہے وہ سُتُون شیطان نہیں ہے بلکہ وہ ایک واقعے کی یاد کے طور پر بنایا گیا ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا اِبراہیم اور حضرتِ سَیِّدُنا اِسماعیل عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس مقام پر شیطان نے ذَبح سے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو کنکریاں ماری تھیں ۔ ([2])اس ادا کو یادگار کے طور پر حج میں باقی رکھا گیا ہے ۔ سُتُون بعد میں بنائے گئے تھے جو بَرسوں برقرار رہے مگر اب اس مقام پر دیواریں بنا دی گئی ہیں ۔ بہرحال اس مقام پر شیطان کو کنکریاں مارنے سے اس کی ذِلَّت ہوتی ہے کہ ہر حاجی پر اس کو مَخصُوص طریقے سے کنکریاں مارنا واجب ہے ۔ اس کی ذِلَّت اِس مثال سے سمجھیے کہ جب کسی مُلک کے حالات خراب ہو جائیں تو لوگ اس مُلک کے صَدر کا پُتلا بناکر اس کو مارتے اور آگ لگا دیتے ہیں حالانکہ صَدر تو اپنے محل میں بیٹھا ہوا ہوتا ہے اس کے باوجود وہ اس کو اپنی ذِلَّت قرار دیتا اور اس سے شدید صَدمَہ مَحسوس کرتا ہے ۔ بہرحال حُجاج کِرام جس طرح شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں وہ اس کو اسی طرح لگتی ہیں یا نہیں اس حوالے سے کچھ نظر سے گزرا ہو یہ ذہن میں نہیں ہے ۔
جنات قابو کرنے کے بجائے نفس کو قابو کرنا کمال ہے
سُوال : کیا آپ جنات کو قابو کرنے کا وَظیفہ پڑھنے کے لیے دیتے ہیں؟(SMSکے ذَریعے سُوال)
جواب : جنات کو قابو کرنے کا وَظیفہ ابھی تک میں نے بھی نہیں کیا اور نہ ہی میں نے کبھی جن کو قید کیا ہے ۔ اگر میرا نفس میری قید میں آجائے تو مجھ جیسا ماہر اور بہادر کوئی نہیں ہو گا ۔
نِہنگ و اژدہا مارا اگرچِہ شیرِ نر مارا
بڑے مُوزی کو مارا نفسِ اَمّارہ کو گر مارا
نہنگ معنیٰ مگر مچھ یعنی تونے مگر مچھ اور شیر کو مار دیا تو کوئی کمال نہیں کیا، کمال تو یہ ہے کہ تو اپنے نفس کو مارنے میں کامیاب ہو جائے ۔
جنات قابو کرنا ہماری لائن نہیں ہے ۔ مؤکل اور جنات کو قابو کرنے کے لیے بعض لوگ باباجی کے پاس جاتے ہیں تو یہ خود ہی باباجی کے قبضے میں آکر نہ اِدھر کے رہتے ہیں نہ اُدھر کے ۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں حضرتِ سَیِّدُنا شیخ مُحِیُّ الدِّین ابنِ عَربی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ اگر کسی کے قابو میں ”جن“ آ جائے تو کم از کم وہ متکبر اور مَغرور ہو جاتا ہے ۔ ([3])یہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے اکثریت کے اِعتبار سے فرمایا ہو گا کیونکہ آج کل تو اگر کسی کی SHOیا تھانے دار سے دوستی ہو جائے تو اس کے پاؤں زمین پر نہیں لگتے اور وہ خوب اَکڑ کر چلتا ہے کہ میریSHO سے دوستی ہے ۔ غور کیجیے کہ جب SHOسے دوستی پر یہ حال ہے کہ پاؤں زمین پر نہیں لگ رہے ہوتے تو جنات کو قابو کرنے پر کیا حال ہو گا ۔
عظمت والی چیزوں کے ساتھ لفظ”شریف“لگا سکتے ہیں
سُوال : بعض اسلامی بھائی ہر چیز کے ساتھ لفظ ”شریف“ کا اِضافہ کر دیتے ہیں جیسے کھانا شریف وغیرہ ، ہر چیز کے ساتھ اِس طرح شریف بولنا کیسا؟
جواب : اِس سُوال پر مجھے ایک چُٹکلا یاد آ گیا ، کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میں مسجدِ حَرام شریف زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں موجود تھا کعبہ شریف سامنے جَلوہ فرما تھا ۔ میں نے وہاں مَخصُوص لباس پہن کر جو صفائی اور جھاڑ پونچھ کر رہے ہوتے ہیں ان میں سے ایک سے پوچھا کہ ”زَم زَم شریف“ کہاں ہے ؟ وہ غُصّے میں آگیا اور کہنے لگا کہ ”شریف“ نہ کہو صِرف ”زَم زَم“ کہو ۔ میں نے اس سے بحث نہیں کی ، اس نے اپنی بَھڑاس نکالنے کے بعد ایک طرف اِشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اُدھر ہے تو میں وہاں چلاگیا اور اپنے فائدے کی بات لے لی ۔ بہرحال ہم تو قرآن اور رَمَضان کے ساتھ بھی شریف بولتے ہیں جیسے قرآن شریف، رَمَضان شریف ۔ نیز”شریف“ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس میں شَرافت، بَرکت اور عَظمت ہو جیسے مکہ شریف، مدینہ شریف، بقیع شریف، بَغداد شریف، اَجمیر شریف اور بَریلی شریف ۔ ان چیزوں کو شریف کہنے میں کوئی حَرج بھی نہیں ہے ۔ یُوں ہی جس چیز کو دُنیوی اِعتبار سے شَرف حاصِل ہو لوگ اس کے ساتھ بھی شریف بولتے ہیں جیسے مِزاج شریف اور طبیعت شریف ، اِس میں بھی کوئی حَرج نہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع