دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab | چندے کے بارے میں سوال جواب

book_icon
چندے کے بارے میں سوال جواب

نادِم ہے ، کیا کرے ؟

جواب :  چندہ جس مَدّ میں دیا جائے اُسی میں استِعمال کرنا واجِب ہے ۔  ’’وکیل ‘‘ نے خِیانت کی ۔  اِس کا تاوان ادا کرے یعنی جتنی رقم مالداروں  پر خرچ کی اُتنی پلّے  سے چندہ دِہَندہ (یعنی چندہ دینے والے )کو پیش کر دے اور توبہ بھی کرے ۔ یہ اُصول ہمیشہ یاد رکھئے کہ چندہ دینے والا شَریعت کے دائرے میں  رَہ کر جیسا کہے ویسے ہی کرنا ہوتا ہے ۔  اب جبکہ اُس نے غریبوں  کی قید لگا دی تو غریبوں  ہی کو دینا ہو گا اگر وہ صَراحَۃً(یعنی کُھلے لفظوں  میں ) کہدے : ’’ میری رقم سے فَقَط کرایہ ادا کرنا ، تو اُس کی رقم سے صرف کرایہ ہی ادا کیا جائے گا، کھا پی نہیں سکتے ۔ اگر اس نے کہہ دیا :  ’’ فُلاں  فُلاں  کو اِس رقم سے سالانہ اجتِماع میں  لے جاؤ ‘‘ تو اب اُنہیں  کو لے جانا ہو گا کسی اور کو نہیں  لے جا سکتے ، اگر وہ نہ گئے یا کسی طرح رقم بچ گئی تو وہ رقم واپَس لوٹانی ہو گی ، مخصوص عَلاقے والوں  کو لے جانے کی صَراحت کر دی تو دوسرے عَلاقے والے کو نہیں  لے جا سکتے ۔  اَلغَرَض چندے میں  اپنی طرف سے نہ کسی طرح کا تصرُّف کرے نہ ہی بِلا اجازتِ شَرعی اُس کا ایک لقمہ بھی خود کھائے نہ کسی کو کھلائے ورنہ آخِرت میں  پکڑ ہوگی ۔

وَقف کے مال کے غَلَط استِعمال کا عذاب

سُوال :  جومالِ وقف کا غَلَط استِعمال کرے اُس کیلئے کوئی وعید سنا دیجئے ۔

جواب : دو احادیثِ مبارَکہ مُلاحَظہ فرمایئے : {1}راحتِ قلبِ ناشاد، محبوبِ ربُّ العباد ، رسولِ کریم وجَواد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ارشادِ عبرت بُنیاد ہے :  ’’کچھ لوگ اللہتعالٰی کے مال میں  ناحق تصرُّف کرتے ہیں  ، قِیامت کے دن ان کیلئے جہنَّم ہے ۔ ‘‘ (بُخاری  ج۲ ص۳۴۸ حدیث۳۱۱۸){2}حُضُور سیِّدِ عالم، نُورِ مُجَسَّم ،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں : کتنے ہی لوگ جو اللہ( عَزَّوَجَلَّ )  اور اس کے رسول کے مال میں  سے جس چیز کو ان کا دل چاہتا ہے اپنے تصرُّف میں  لے آتے ہیں  قیامت کے دن ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے ۔ (تِرمِذی ج۴ ص۱۶۵ ۔ ۱۶۶ حدیث۲۳۸۱) 

مَدَنی قافِلہ یا سالانہ اجتِماع کیلئے سُوال کرنا کیسا؟

سُوال :  مَدَنی قافِلوں  میں  سفر یا  سنّتوں  بھرے اجتِماع میں  شرکت کیلئے کِرائے وغیرہ کا سُوال کرنا کیسا؟

جواب :  مَدَنی قافِلے میں  سفر یا سالانہ اجتِماع میں شرکت کی خاطر اپنی ذات کیلئے کرائے وغیرہ اَخراجات کا  سُوال کرنا مسکین کو بھی حلال نہیں  کیوں  کہ یہ کام ضَروریات میں  شامِل نہیں  یہاں  تک کہ حج و عمرہ اور سفرِ مدینہ کیلئے بھی سُوال کرنا حرام اور جہنَّم میں  لے جانے والا کام ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولاناشاہ امام اَحمد رَضا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن