دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab | چندے کے بارے میں سوال جواب

book_icon
چندے کے بارے میں سوال جواب

کہ (حضرتِ )سارہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا) کو حکم دو کہ وہ (حضرتِ) ہاجِرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا)کے کان چَھید دیں  ۔ اُسی وَقت سے عورَتوں  کے کان چَھیدنے کا رَواج پڑا ۔           (غَمزُعُیونِ الْبَصائِر لِلْحَمَوِی ج ۳ ص ۲۹۵)

گائے کے گوشت کاتحفہ

            اُمُّ الْمُؤمِنِین، حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے رِوایت ہے کہ دو جہاں  کے سلطان ، سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  گائے کا گوشت حاضِر کیا گیا ، کسی نے عَرض کی :  یہ گوشت حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا پر صَدَقہ ہوا تھا ۔ فرمایا  : ھُوَ لَھَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ھَدِیَّۃٌ یعنی یہ بَرِیرہ کے لیے صَدَقہ تھا ہمارے لیے ہدِیّہ ہے ۔ (صَحیح مُسلِم ص۵۴۱حدیث۱۰۷۵)

زکوٰۃ کا شَرعی حِیلہ

            اِس حدیثِ پاک سے صاف ظاہِر ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا جو کہ صَدَقے کی حقدارتھیں  ان کو بطورِ صَدَقہ مِلا ہوا گائے کا گوشت اگر چِہ ان کے حق میں  صَدَقہ ہی تھا مگر ان کے قَبضہ کر لینے کے بعد جب بارگاہِ رسالت میں  پیش کیا گیا تھا تو اُس کا حکم بدل گیا تھا اور اب وہ صَدَقہ نہ رہا تھا ۔ یوں  ہی کوئی مستحق شَخص زکوٰۃ اپنے قَبضے میں  لینے کے بعد کسی بھی آدمی کو تحفۃً دے سکتا یا مسجِد وغیرہ کیلئے پیش کر سکتا ہے کہ مذکورہ مستحق شخص کا پیش کرنا اب زکوٰۃ نہ رہا ، ہدیَّہ یا عَطِیَّہ ہو گیا ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  زکوٰۃ کا شرعی حِیلہ کرنے کا طریقہ یوں  ارشاد فرماتے ہیں  : زکوٰۃ کی رقم مرُدے کی تَجہیز وتکفین یا مسجِدکی تعمیر میں  صَرف نہیں  کر سکتے کہ تَملیکِ فقیر ( یعنی فقیر کو مالِک کرنا)نہ پائی گئی ۔ اگر ان اُمور میں خرچ کرنا چاہیں تو اِس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو ( زکوٰۃ کی رقم کا ) مالِک کردیں  اور وہ ( تعمیرِ مسجِد وغیرہ میں  )صَرف کرے ، اس طرح ثو اب دونوں  کو ہو گا ۔    (بہارِ شریعت ج ۱ ص ۸۹۰ )

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے !کفن دَفن بلکہ تعمیرِ مسجِد میں  بھی حیلۂ شرعی کے ذَرِیعہ زکوٰۃ ا ستِعمال کی جاسکتی ہے  ۔ کیونکہ زکوٰۃ تو فقیر کے حق میں  تھی جب فقیر نے قَبضہ کر لیا تواب وہ مالِک ہوچکا، جو چاہے کرے ۔  حیلۂ شَرعی کی بَرَکت سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہو گئی اور فقیر بھی مسجِد میں  دیکر ثواب کا حقدار ہو گیا ۔ فقیرِشَرعی کو حِیلے کا مسئلہ بے شک سمجھا دیا جائے ۔

فقیر کی تعریف

سُوال :  زکوٰۃ و فطرہ فقیر کو دینا ہو تا ہے تو فقیر کی تعریف بھی بیان کر دیجئے ۔

جواب :    فقیر وہ ہے کہ٭ جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو مگر اتنا نہ ہوکہ نِصاب کو پَہنچ جائے یا   ٭ نصاب کی قَدَر توہو مگر اس کی حاجتِ اَصلِیّہ (یعنی ضَروریاتِ زندگی) میں  مُسْتَغْرَقْ (گِھراہوا ) ہو  ۔ مَثَلاً رہنے کا مکان، خانہ داری کا سامان ،

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن