دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Chanday Kay Baray Main Sawal Jawab | چندے کے بارے میں سوال جواب

book_icon
چندے کے بارے میں سوال جواب

ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں  اُٹھائیں  ، غیر کام مَثَلاً تعمیرِ مدرسہ میں  صرف نہ کریں  اور اگر اسی طرح کا دوسرا کام نہ پائیں  تو وہ باقی روپیہ فقیروں  کو تقسیم کردیں  ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۱۶ ص۲۰۶)

کئی اَفرا د سے لیا ہوا چندہ بچ جائے تو کیا کرے ؟

سُوال :  مخصوص مَدّ مَثَلاًمدرَسے کی تعمیر کیلئے کئی افراد سے چندہ لیاگیا ہو اور اُس میں  سے کچھ

 رقم بچ جائے تو کیا اُس بچی ہوئی رقم کے دوسرے مَصْرف میں  استِعمال کے بارے میں  ایک ایک سے اجازت لینی پڑ ے گی ؟

جواب : جی ہاں   ۔ فَقَط بعض کی اِجازت کافی نہ ہوگی ، سب سے اجازت مل گئی فَبِہا (یعنی مُراد حاصل)، ورنہ جتنوں  سے اجازت لی اُن ہی کے حصّے میں  تصرُّف کرنا جائز ہو گا  ۔

12اَفراد سے لیا ہوا چندہ بچ گیا تو ۔ ۔ ۔  ۔ ؟

سُوال :  مدرَسے میں  ٹھنڈے پانی کا کُولر لگانے کیلئے 12افراد سے ایک ایک ہزار روپے حاصِل کئے اور ان میں  سے چار ہزار بچ گئے ۔ ان  بَقِیَّہ چار ہزار کے مدرَسے کیلئے تھال خریدنے کا ذِہن بنا توکیا اب بھی 12افراد سے اجازت لینی ضَروری ہوگی یا چار کی اجازت کافی ہے ؟

جواب :  اگر رقم اِس طرح ملادی تھی کہ کسی کے نوٹوں  وغیرہ کی شَناخت نہ رہی تھی تب تو 12افراد سے اجازت لینی ہوگی اور اگر رقم جُدا جُدا رکھی تھی یا مِلادی تھی مگر شناخت باقی تھی یا نوٹوں  پر نشان لگادئیے تھے اور معلوم ہے کہ بَقِیَّہ چار ہزار فُلاں  فُلاں  چارافراد کے بچ رہے ہیں  تو صِرف اُن چار افراد کی اجازت کافی ہوگی ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن باقی بچ جانے والے چندے کے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں : چندہ جس کا م کے لئے لیا گیا ہو جب اس کے بعد بچے تو وہ انھیں  کی ملک ہے جنہوں  نے چندہ دیا ہے  ۔

کَمَا حَقَّقْنَاہُ فِی فَتَاوٰ نا(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اپنے فتاوٰی میں  کی ہے )ان کو حصہ  رَسَد واپس دیا جائے یا جس کام میں  وہ کہیں  صَرف کیا جائے ‘‘(فتاوٰی رضویہ ج۱۶ ص ۲۴۷)

مسجِد کی اِفطاری کا مَسئَلہ

سُوال :  رَمَضانُ المبارَک میں  لوگ روزہ داروں کیلئے مسجِد میں  جو اِفطاری بھجواتے ہیں  اُس میں  سے غیر روزہ دار کا کھانا کیسا؟اگر گناہ ہے تو کیا اِس کا گناہ مُنتَظِمِین پر بھی ہو گا ؟

جواب :  جو اِفطاری روزہ داروں  کیلئے بھیجی جاتی ہے وہ غیر روزہ دار نہیں  کھا سکتا ۔  بِالفرض کوئی مریض یا مُسافِر ہے یا کسی وجہ سے اُس کا روزہ ٹوٹ چکا ہے تو وہ اُس افطاری میں  شریک نہ ہو  ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن