30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماحول کی برکت سے میں سنّت کے مطابق زندگی گزارنے والابن گیا۔وضو،غسل اور نمازکودرست کیا،فرض نمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ قضاء عمری کابھی ذہن بنا اور تادمِ تحریرنوافل کابھی پابندہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنَّت پررحمت ہواورانکے صدقے ہماری مغفرت ہو
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیٰ مُحَمَّد
لانڈھی(باب المدینہ کراچی)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے:آج سے تقریباًبائیس سال پہلے جب میں آٹھ سال کاتھا،ابھی عقل وفہم کے زینے پرقدم رکھاتھا،گھرمیں مذہبی ماحول ہونے کی وجہ سے نمازوں کی ادائیگی کا ذہن تھااس لئے کبھی کبھاراپنے محلے کی مسجدمیں نمازپڑھنے چلاجایاکرتاتھا۔اسی مسجد میں مغرب کی نمازکے بعدسفیدلباس میں ملبوس سرپرسبزسبزعمامہ شریف سجائے پختہ عمرکے ایک اسلامی بھائی’’فیضانِ سنّت‘‘نامی ایک ضخیم کتاب سے درس دیا کرتے جسے نمازی حضرات ان کے روبروبیٹھ کربڑی یکسوئی سے سنتے،میں نے بھی کچھ دنوں سے اس درس میں بیٹھناشروع کردیا،اس درس میں ذِکرُاللّٰہکے فضائل، نیکی کی دعوت،نمازوں کی طرف رغبت کے ساتھ ساتھ پانی پینے،مصافحہ کرنے، ناخن تراشنے،سرمہ لگانے،سفیدلباس اپنانے،عمامہ شریف سجانے، داڑھی شریف اورزلفیں بڑھانے،سراورداڑھی شریف میں تیل لگانے اورکنگھی کرنے سے متعلق سُنّتیں وقتاًفوقتاًسیکھی اورسکھائی جاتی تھیں اوردرس کے بعدتمام اسلامی بھائی آپس میں بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیاکرتے تھے جومجھے بہت بھلا لگتا،درس دینے والے وہ اسلامی بھائی سلیقہ شعارہونے کے ساتھ انتہائی سنجیدہ اور باوقاربھی تھے،گاہے گاہے وہ میری تربیت کرتے رہتے۔ان کے شفقت بھرے انداز سے میں بہت متأثرتھایہی وجہ تھی کہ میں نے سرپرسبزسبزعمامہ شریف کاتاج سجا لیا، نیکیوں اور عبادت کاایساشوق پیداہواکہ تہجد،اشراق،چاشت اوراوّابین پڑھنے کااہتمام کرنے لگا،نمازپڑھے بغیرتومجھے نیندہی نہ آتی تھی نیزہرجائزکام شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمپڑھنے کاعادی ہوگیامگر افسوس صدافسوس ! میری زندگی میں آنے والایہ مدنی انقلاب گھروالوں کی خوشی کے بجائے ان کے لئے تشویش کاباعث بن گیااوروہ گھبراگئے کہ کہیں ہمارابچہ پاگل نہ ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے مجھے مشکبارمدنی ماحول سے آہستہ آہستہ دورکرنے کے لئے مختلف تدبیریں ا پنائیں حتّٰی کہ گھرکاایک فردفلمیں دکھانے کے لئے مجھے سنیماگھربھی لے جانے لگا،آہ!جب اپنے ہم سفرہی رہزنوں کی صف میں شامل ہوں تومتاعِ دل و جاں کیوں کرمحفوظ رہ سکتاتھابالآخرمیں مدنی ماحول سے کوسوں دوردنیاکی رنگینیوں میں کھو کر فیشن کادلدادہ،فلموں ڈراموں کاشوقین،ایک ماڈرن نوجوان بن کر اُبھرا، گانوں کا تواس قدررسیاہوچکاتھاکہ اب گانے سنے بغیر مجھے نیندہی نہ آتی ۔مختصریہ کہ میری زندگی کانیکیوں بھرالہلہاتاحسین گلشن مکمل طورپرخزاں کے سپرد ہو چکا تھا، ۱۴۲۲ ھ بمطابق2001ءمیں ہمارے علاقے کے مدنی انعامات کے عامل اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے علاقے کی مسجد میں سنّتوں بھرے اعتکاف کی ترغیب دلائی۔چنانچہ میں نے گھرسے اجازت طلب کی اور اجتماعی اعتکاف میں شریک ہوگیا۔اعتکاف کے دوران فیضانِ سنّت کادرس سن کر مجھے اپنی زندگی کے بیتے ہوئے وہ حسین وخوشگوارلمحات یادآگئے اوریہ سوچ کرمیری آنکھیں بھیگ گئیں کہ پہلے بھی میں کبھی درس سناکرتاتھااوراس میں سکھائی جانے والی سنّتوں کویادکرکے ان کے مطابق زندگی بسرکرنے والابن گیا تھا۔اعتکاف کے بعد بھی اس اسلامی بھائی نے مجھ پرانفرادی کوشش جاری رکھی، ایک مرتبہ جب
انہوں نے اس بات کااظہارکیاکہ انہیں سرکارِمدینہ، فیض گنجینہ، صاحبِ معطّرو معنبر پسینہ، باعثِ نزولِ سکینہ صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی زیارت نصیب ہوچکی ہے تویہ ایمان افروزخبرسنتے ہی میرادل جھوم اٹھااورمیرے دل میں بھی سرکار صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کاشوق پیداہوا۔میں رات دن اسی دُھن میں مگن رہنے لگاکہ کاش!مجھے بھی شربتِ دیدارنصیب ہوجائے،میں نے صدقِ دل سے گناہوں بھری زندگی سے توبہ کی اورچہرے پرداڑھی شریف سجانے کاپختہ ارادہ کیااورشیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت،بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کامریدبھی بن گیا،ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مہکے مہکے مشکبارمدنی ماحول کی برکت سے مجھے بھی میٹھے میٹھے آقا صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت نصیب ہوگئی بلکہ کرم بالائے کرم ہو گیا کہ ’’تین مرتبہ جنابِ احمدِمجتبیٰ ،حضرت محمدمصطفی صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں اوراس کے ساتھ ساتھ مجھے یارِغارحضرت صدیقِ اکبر، حضورغوثِ اعظم اورامامِ اہلسنّت امام احمدرضاخان رضی اللّٰہ تَعَالٰی عنہمْ اجمعین کی زیارت بھی نصیب ہوئی‘‘بے شک یہ سب مدنی ماحول ہی کی برکتیں ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجلَّ مجھے ہمیشہ دعوتِ اسلامی میں استقامت عطافرمائے ۔آمین
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنَّت پررحمت ہواورانکے صدقے ہماری مغفرت ہو
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیٰ مُحَمَّد
(11)کرکٹ کامیدان میرامَسْکن تھا
چونیاں (ضلع قصورپنجاب)کے علاقے کوٹ شیرربانی(چھانگامانگا)میں مقیم اسلامی بھائی اپنی زندگی میں آنے والے مدنی انقلاب کاتذکرہ کچھ اس طرح کرتے ہیں :میں گناہوں کے جنون میں مست،دنیاکی رنگینیوں میں مگن،مذاق مسخری کرنے والاایک من موجی قسم کانوجوان تھا،عشقیہ فسقیہ ناول پڑھ کرجنسی تسکین کاسامان کرتاتھا۔کرکٹ کااس قدرشیدائی تھاکہ کرکٹ کامیدان گویا میرامسکن تھا،اگرکسی کومیری تلاش ہوتی توسب سے پہلے میدان کارُخ کرتا۔ الغرض میری زندگی کے روزوشب اسی غفلت میں کٹ رہے تھے۔میری بگڑی قسمت یوں سنوری کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مشکبارمدنی ماحول سے منسلک ایک اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہوگئی انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے درس میں شرکت کی دعوت دی،میں نے انکار کرناچاہامگران کی باوقارشخصیت کے آگے مجھ سے انکارنہ ہوسکالہٰذامیں نے درس میں شرکت کرلی، درس مختصرتھاجس میں سنّتیں بیان کی گئی تھیں ،درس کے بعدمبلغِ دعوتِ اسلامی آگے بڑھے اورمصافحہ کرنے کے بعدیوں گویاہوئے:’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ روزانہ مغرب کی نمازکے بعدفیضانِ سنّت سے مختصردرس ہوتاہے آپ بھی پابندی سے اس میں شرکت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع