30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا تو اس نے کچھ اس اندازمیں ڈھارس بندھائی کہ میرادل مطمئن ہو گیا، میں نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کرلی۔میری زندگی کاپہلادن تھاکہ جس میں میں نے پہلی بار پانچوں نمازیں اداکیں ۔پھرجب سالانہ امتحان کے بعد چھٹیاں ہوئیں تو میرا یہ معمول بن گیاکہ ان کے ساتھ صبح مسجدمیں جاتاتوتقریباًبارہ بجے تک مسائلِ نماز اورسنّتیں سیکھنے سکھانے کاسلسلہ جاری رہتا۔کچھ عرصہ بعد بدقسمتی میرے آڑے آئی اورمجھے کچھ ایسے دوستوں کی صحبت میسرآئی کہ جنہوں نے مجھے اس مبلغِ دعوتِ اسلامی سے بدظن کردیاآہ!میں اپنے اس محسن اورخیرخواہ کواپنادشمن اوربدخواہ سمجھ بیٹھا،اور اس اسلامی بھائی کی صحبت چھوڑکرتقریباًایک سال تک بُرے لوگوں کی صحبت میں گرفتاررہااوراس دوران میں نے پھروہی حرکتیں شروع کر دیں ۔ مگر سرکارِ غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی غلامی مقدر میں لکھ دی گئی تھی،لہٰذاقسمت نے ایک بار پھر یاوری کی،وہ یوں کہ ایک دن میں فیکٹری سے چھٹی کرکے واپس آ رہا تھا اور حسبِ عادت پریشان نظری کاشکار، بدنگاہی کی آفتِ بد میں گرفتار،راہ چلتے لوگوں سے چھیڑچھاڑکرتاجارہاتھاکہ اچانک میری نظرسفیدلباس میں ملبوس،سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے،حیاسے اپنی نگاہوں کوجھکائے،اپنی طرف آتے ہوئے ایک اسلامی بھائی پرپڑی،ان کے تقویٰ کایہ عالَم دیکھ کرمجھے اپنے آپ پرندامت ہونے لگی، میں نے ان سے ملاقات کی،وہ نہایت گرم جوشی سے ملے، ان سے تعارف ہوا اور پھررفتہ رفتہ میں ان کی صحبت میں رہنے لگاان کی نمازوں میں استقامت قابلِ رشک تھی۔دعوتِ اسلامی کے بارے میں میراحُسنِ ظن ازسرِنوقائم ہوگیا،وہ اسلامی بھائی مجھے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی اپنے ہمراہ لے گئے اجتماع سے واپسی پر میرے سرپرسفیدٹوپی تھی اورتادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کامریدہوکر عمامہ شریف سجا چکا ہوں اور دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ میں قافلہ کورس کررہاہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنَّت پررحمت ہواورانکے صدقے ہماری مغفرت ہو
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیٰ مُحَمَّد
فارورڈکہوٹہ(ضلع باغ،کشمیر)کے علاقے خورشیدآبادکے مقیم اسلامی بھائی اپنی زندگی میں رونماہونے والی تبدیلی کاتذکرہ کچھ یوں کرتے ہیں :میں پنجاب یونیورسٹی میں زیرِتعلیم تھااورفارغ اوقات میں ملازمت بھی کرتاتھا،مزاج کا اس قدرسخت تھاکہ اپنے مزاج کے خلاف اگرکسی سے کوئی معمولی بات سرزدہوجاتی تو آگ بگولاہوجاتاتھا،دینی معلومات کچھ زیادہ نہ تھیں مگرنمازوں کی ادائیگی کا معمول تھا،عشاء کی نمازان دنوں مرکزالاولیائ(لاہور)انارکلی میں واقع انکم ٹیکس والی مسجد میں ادا کرتا تھا۔ایک دن جب میں نمازسے فارغ ہواتودیکھاکہ سبز سبز عمامے والے ایک اسلامی بھائی نمازیوں کودرس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے بڑے پیارے اندازمیں کہہ رہے ہیں ’’میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قریب قریب تشریف لائیے۔‘‘ان اسلامی بھائی نے ابھی یہ الفاظ اداکیے ہی تھے کہ کسی نے انتہائی کرخت لہجے میں انھیں جھڑکتے ہوئے باہرمسجدکے صحن میں درس دینے کاحکم دیا۔وہ اسلامی بھائی برامنائے بغیرنرم لہجے میں یہ کہتے ہوئے چل دیئے’’ٹھیک ہے حضور‘‘۔میں ان کاصبروحسنِ اخلاق سے معموراندازدیکھ کر حیرت زدہ رہ گیااور اسی انداز سے متأثرہوکردرس میں شریک ہوگیا،درس کے بعدانھوں نے گرم جوشی سے ملاقات کی اورآئندہ درس میں شرکت کی دعوت دی،یوں میں ان کی صحبت میں رہنے لگاایک دن انھوں نے مجھ پرانفرادی کوشش کرتے ہوئے درس دینے کی ترغیب دلائی چنانچہ میں نے اس مسجدمیں باقاعدگی سے درس شروع کردیا۔وہ اسلامی بھائی میری حوصلہ افزائی کرتے رہے اورمیں درس دیتارہایہاں تک کہ چار ماہ گزرگئے اسی دوران مدینۃ الاولیاء ملتان میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی تیاریاں شروع ہوگئیں ۔اسلامی بھائیوں کی انفرادی کوششوں سے مجھے بھی بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی،اس اجتماع میں شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا بیان ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر‘‘سنا اورپھرامیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ذریعے حضور غوثِ اعظمعلیہ رحمۃاللّٰہ الْاَکْرَم کی غلامی کاپٹاگلے میں ڈال لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریرمدنی رنگ میں رنگ گیاہوں اوردعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دھومیں مچانے میں مصروف ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنَّت پررحمت ہواورانکے صدقے ہماری مغفرت ہو
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیٰ مُحَمَّد
مدینۃ الاولیاء(ملتان)کے مقیم اسلامی بھائی کابیان ہے کہ مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں اپنی زندگی کے بیش قیمت لمحات فضولیات میں بربادکررہاتھا جس کامجھے ذرابھی احساس نہ تھا،دینی معلومات سے یکسربے بہرہ،کرکٹ کھیلنے کا شیدائی اورگانے،باجوں اورفلموں ،ڈراموں کاجنون کی حدتک شوقین تھا۔نامحرم عورتوں سے اختلاط میرے نزدیک ننگ وعارکاباعث نہ تھا،میری زندگی میں تبدیلی یوں رونما ہوئی کہ خوش قسمتی سے مجھے اسکول میں کچھ ایسے دوستوں کی صحبت میسرآئی جو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے،سبزسبزعمامہ شریف کاتاج سجائے سفید لباس میں ملبوس وہ نہایت بھلے معلوم ہوتے تھے،اپنی کلاس میں درس دینا اور درس کے بعدانتہائی محبت سے ملاقات کرکے انفرادی کوشش کے ذریعے نیکی کی دعوت دیناان کاروزانہ کامعمول تھا، میں ذاتی طورپران کے اخلاق وکردارسے بے حدمتأثرہوچکاتھا،میٹرک کا امتحان دینے کے بعدمجھے بھی درس دینے کاشوق ہوا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے میں نے بھی درس دینا شروع کر دیا۔رفتہ رفتہ شیخِ طریقت،امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے رسائل پڑھنے کا معمول بن گیاجس کی برکت سے دل کی دنیابدل گئی، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ نگاہیں جھکا کر دھیمی آوازسے گفتگوکرنے کی عادت بن گئی،عمامہ شریف سجانے کی ترکیب بنی اورسنّتوں کاخوب خوب چرچاکرنے لگاجس کی برکت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے زیورِعلم سے بھی مالامال کردیا اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریردعوتِ اسلامی کے علم دین عام کرنے والے شعبے جامعۃالمدینہکی ایک شاخ میں درسِ نظامی(عالم کورس)کے درجہ سادسہ میں علمِ دین کے حصول میں مصروف ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنَّت پررحمت ہواورانکے صدقے ہماری مغفرت ہو
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تَعَالٰی علیٰ مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع