30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کامل شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے پیروں کے پیر، روشن ضمیر، شیخ عبد القادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَّانِی کا مرید ہونے والے کی ایمان افروز وفات اور بعد وفات طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کے جسم وکفن کے سلامت ہونے کی مدنی بہار ظاہر ہوئی ، اس طرح کی ایک نہیں بلکہ متعددبہاریں ہیں ، لہٰذا زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے ہمیں بھی دعوتِ اسلامی اور بانیٔ دعوتِ اسلامی کے دامن سے وابستہ ہو جانا چاہئے اور مدنی مقصد ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کے تحت مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے ۔اِنْ شآء اللہ ہمیں بھی ڈھیروں ڈھیر برکتیں حاصل ہوں گی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
{2} سرکار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ سے بُلاوا آگیا
ٹھینگ موڑ (قصور، پنجاب) کے علاقے اِلٰہ آباد کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے: اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ میں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تو تھا لیکن مدنی کاموں کے سلسلے میں سستی کا شکار تھا۔حسنِ اتفاق سے محرم الحرام ۱۴۳۱ ھ بمطابق جنوری 2010 ء کو دعوتِ اسلامی کے ڈویژن مشاورت کے ذمہ دار اسلامی بھائی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ، جب انہیں میری مدنی کاموں میں عدم دلچسپی کا علم ہوا تو انفرادی کوشش کرتے ہوئے نہ صرف مدنی کام کرنے کا ذہن دیا بلکہ صدائے مدینہ کی پابندی کرنے کی ترغیب بھی دلائی (مسلمانوں کی خیر خواہی کرتے ہوئے انہیں نمازِ فجر کے لئے جگانے کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں ’’ صدائے مدینہ لگانا ‘‘ کہتے ہیں ) نیز اس ضمن میں انہوں نے مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا فرمان ’’ صدائے مدینہ دکھائے مدینہ ‘‘ بھی سنایا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میرا ذہن بن گیا اور حاضری ٔمدینہ کی امید پر اگلے ہی دن میں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔صدائے مدینہ کیا لگانی شروع کی مجھ پر تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کا کرم ہو گیا۔میرے تو وارے ہی نیارے ہو گئے، قسمت کا ستارا یوں چمکا کہ اسی سال مجھے بارگاہِ مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم کی حاضری کا شرف حاصل ہو گیا۔ کرم بالائے کرم یہ کہ صدائے مدینہ کی برکت سے میرے بڑے بھائی کو بھی حج کی سعادت نصیب ہو گئی، دورانِ حج شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہونے کا شرف بھی مل گیا۔شاید یہ مدینے شریف کی حاضری اور ایک ولیٔ کامل سے بیعت کی برکت تھی کہ میرے بھائی ’’ محمد بشیر احمد عطاری ‘‘ جو پہلے نمازوں کی ادائیگی میں سستی کا شکار تھے لیکن اب تمام گناہوں سے توبہ کر کے نیکیوں کی جانب مائل ہونے لگے۔ باجماعت نماز کا اہتمام کرنے لگے ۔ داڑھی شریف کی بھی نیّت کر لی ۔ حج سے واپسی آنے کے کم وبیش دو ماہ بعدجبکہ ایک عزیز کی شادی میں شریک تھے ، بارات آنے ہی والی تھی لیکن جونہی نماز کا وقت ہوا سب کو بآوازِ بلند نماز کی دعوت دی اور مسجد کی جانب چل دیے ۔ جب وضو کے لئے وضو خانے پر پہنچے تو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے گر پڑے ۔نمازیوں نے آگے بڑھ کر اُٹھایا اور مسجد میں لِٹادیا۔ مسجد میں لِٹاتے ہی ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرگئی ۔ وہاں موجود سبھی لوگ بھائی جان کی اس ایمان افروز وفات پر افسوس کے ساتھ ساتھ رشک کرنے لگے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! موت بر حق ہے ایک نہ ایک دن ضرور آنی ہے اور ہمیں اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کوچ کرنا ہے لیکن مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق مل جانا بہت بڑی سعادت ہے۔اللہ تعالٰیہمیں ایمان وعافیت کے ساتھ مدینہ پاک میں شہادت کی موت عطا فرمائے ۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد
{3} اشکوں کا دَھارا
خانقاہ ڈوگراں (ضلع شیخوپورہ ، پنجاب، پاکستان) کے نواحی علاقے کَلسِیاں بھَٹیاں کے ایک مدنی اسلامی بھائی (جامعۃالمدینہ کے فارغ التحصیل اسلامی بھائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع