30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِا ہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
دارُا لسّلام (ٹوبہ ٹیک سنگھ، پنجاب ، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ ایک دن میرے سر میں شدید چوٹ لگ گئی۔ شدتِ درد کے باعث میں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔ مجھے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، مرہم پٹی کرنے کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ چوٹ بہت شدید لگی ہے اس وجہ سے تقریباً تین چار ماہ مسلسل علاج جاری رہے گا۔ میں تو مارے تکلیف کے پہلے ہی دوہرا ہوا جا رہا تھا ڈاکٹر کی بات سن کر میرے تو اوسان ہی خطا ہو گئے۔ مرتا کیا نہ کرتا باقاعدگی سے دوائیاں استعمال کرنے لگا مگر میرے درد سر میں افاقہ ہونے کے بجائے روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھاجس سے میرے دن کا چین اور رات کا سکون برباد ہو چکاتھا۔ میری خوش قسمتی کہ ایک روز میری عیادت کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی (جوکہ تعویذاتِ عطاریہ کے ذمہ دار بھی تھے) تشریف لائے۔ سنّت کے مطابق عیادت کرنے کے بعد میری پریشانی دور کرنے کے لیے بیماری کے فضائل پر مشتمل چند روایات سنائیں اور تسلی دیتے ہوئے مجھے صبر کی تلقین بھی کی۔ان کی میٹھی میٹھی باتوں سے مجھے بہت سکون ملا اور دل کو عجب سے خوشی نصیب ہوئی۔ انہوں نے مجھے ایک تعویذ بنا کر دیا اور کہا کہ اسے استعمال کریں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور فائدہ ہو گا۔ میں نے تعویذ لے لیا اور بتائے ہوئے طریقے کے مطابق استعمال کیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ حیرت انگیز طور پر مجھے دردِ سر سے نجات مل گئی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِا ہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
سردارآباد (فیصل آباد ، پنجاب، پاکستان ) کے علاقے علی ٹاؤن کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے: تبلیغِ قراٰن وسنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی نے امت مسلمہ کی خیر خواہی کے عظیم جذبے کے تحت مجلس مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ قائم فرمائی ہے جس کی برکتوں سے جہاں آج لا کھوں مسلمان مستفیض ہو رہے ہیں وہیں رب عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم سے مجھے بھی تعویذاتِ عطاریہ کی بہاروں سے حصہ ملاہے ۔مجھے کافی عرصے سے خارش کی بیماری تھی اور ناف سے گھٹنوں تک کا حصہ بری طرح متاثٔر ہو گیاتھا۔ رات کے وقت اس قدر شدت سے خارش ہوتی کہ کُھجاتے کُھجاتے ٹانگوں پر زخم ہو جاتے، صبح اٹھ کر دیکھتا تو کپڑے خون میں لتھڑے ہوتے ۔ رات آنکھوں میں کٹتی تو دن بے چینی میں گزر تا ، الغرض سخت آزمائش میں زندگی کے دن بسرہو رہے تھے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سب مسلمانوں کو اس مرض سے محفوظ فرمائے۔ اس مرض سے نجات کیلئے کون سا ایسا در تھا کہ جس پر میں نے دستک نہ دی تھی۔ اس بیماری سے جان چھڑانے کے لیے در در کی خاک چھانی ، مختلف ڈاکٹروں کے پاس چکر لگائے ، انجکشن لگوائے، دوائیاں استعمال کیں ، حکیموں کے ہاں چکر لگا لگا کر میرے جوتے گھِس گئے مگر مرض جو ں کا توں رہا۔ جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ مجھے ذہنی اذیت بھی اٹھانا پڑتی کہ میرے دوست کہلانے والے مجھے خارشی خارشی کہہ کر میری دل آزاری کا باعث بنتے۔ بسا اوقات میرے پاس بیٹھنے سے بھی کتراتے۔ کسی علاج نے مجھے فائدہ نہ دیا، سمجھ نہ آتا کیا کروں ۔ میں اسی غم وفکر میں گُھلا جا رہا تھا کہ بادِ مخالف کے منہ زور تھپیڑوں کی زد میں آئی ہوئی حیا ت کو سہارا دینے کے لئے قسمت مجھے تعویذاتِ عطاریہ کے بستے پر لے آئی۔یہاں عبادت کے نور سے روشن پیشانی، حیا سے نظریں جھکائے سنّت کے مطابق سفید لباس سجائے سبز عمامے والے اسلامی بھائی کے سامنے اپنی دکھ بھری داستان بیان کی تو انہوں نے مجھے تسلی دیتے ہوئے تعویذاتِ عطاریہ عطا کیے اور کا ٹ کا عمل کرنے کے بعد مجھے دم کیا ہوا پانی بھی پینے کو دیا۔چنانچہ میں نے تما م ادویات سے جان چھڑائی اور بتا ئے ہوئے طریقے کے مطا بق تعویذاتِ عطا ریہ استعمال کیے اور ساتھ ہی کا ٹ کیا ہوا پانی پینے لگا۔ بس پھر کیا تھا میری خارش کی شدّت میں نمایا ں کمی آنے لگی اور کچھ ہی دنوں بعد مجھے اس بیماری سے مکمل طور پر نجات مل گئی۔یوں میری زندگی کی رونقیں واپس لوٹ آئیں ۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر اس بات کو تقریباً دو برس گزر چکے ہیں مگر دوبارہ مجھے خارش نہیں ہوئی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِا ہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
آپ بھی مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع