30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے؟ ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعالٰی عَنہ نے فرمایا: ہاں اللہ کی قسم میں دم کرتا ہوں ، لیکن ہم نے تم سے مہمانی طلب کی تو تم نے انکار کر دیا تھا ، لہٰذا اب میں اس وقتتک تمہارے سردار کودم نہیں کروں گا، جب تک تم مجھ سے اس کی اجرت نہ مقرر کر لو۔اس پر انہوں نے بکریوں کی ایک معین تعداد پر صلح کر لی، پھر وہ صحابی گئے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ٭ (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ سردار بالکل تندرست ہو گیا اور اس طرح چلنے لگا گویا اسے کوئی بیماری تھی ہی نہیں ۔ پھر ان قبیلے والوں نے جو بکریوں کی تعداد مقرر ہوئی تھی وہ دے دیں ۔ بعض صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان نے کہا: ’’ ان بکریوں کو آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں ۔ ‘‘ بعض نے کہا: نہیں ! یہ دم کی اجرت ہے ہم اس کو اس وقت تک تقسیم نہیں کریں گے جب تک کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کرسارا ماجرا بیان نہ کر دیں ، پھر دیکھیں کہ آپ صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسَلَّم اس میں کیا حکم فرماتے ہیں ؟ جب صحابۂ کرام عَلَیھِمُ الرِّضوَان نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا ماجرا عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسَلَّم نے فرمایا: تمہیں کس نے بتایا کہ یہ ( سورہ فاتحہ ) دم ہے، پھر آپ صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسَلَّم نے فرمایا: تم نے درست کیا ان کو آپس میں تقسیم کرلو اور اس میں سے میرا حصہ بھی دو، پھر آپ صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسَلَّم مسکرا دیے۔ (بخاری، کتاب الاجارۃ، باب مایعطی فی الرقیۃ علی احیاء العرب بفاتحۃ الکتاب، ۲ / ۶۹، حدیث: ۲۲۷۶)
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عیسٰی ترمذی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہ القَوِی روایت نقل فرماتے ہیں : بے شک رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وسَلَّم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نیند میں ڈر جائے تو وہ یہ دعا پڑھے : اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہِالتَّامَّاتِ مِن غَضَبِہ وَعِقَابِہ وَشَرِّ عِبَادِہ وَمِن ھَمَزَاتِ الشَّیٰطِین وَاَن یَّحضُرُون تو شیاطین اسے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تعالٰی عَنہ اپنے بالغ بچوں کوا س دعا کی تلقین فرماتے اور جو نابالغ بچے ہوتے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر گلے میں لٹکا دیتے تھے۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی فضل التسبیح الخ، ۵ / ۳۱۲، حدیث: ۳۵۳۹)
مُحَقِّق عَلَی الاِطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیہ رَحمَۃُ اللہ القَوِی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں ’’ اس حدیث سے گردن میں تعویذات لٹکانے کا جواز معلوم ہوتا ہے، اس باب میں علماء کا اختلاف ہے، مختار یہ ہے کہ سیپیوں اور اس کی مثل چیزوں کا لٹکانا حرام یا مکروہ ہے لیکن اگر تعویذات میں قراٰنِ مجید یا اللہ تعالٰی کے اسماء لکھے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘ (اشعۃ اللمعات، کتاب اسماء اللہ تعالی ، باب الاستعاذۃ، ۲ / ۳۰۷)
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت، مولانا شاہ امام احمدرضا خان عَلَیہ رَحمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : جائز تعویذ کہ قراٰن کریم یا اسمائے الٰہیّہ (یعنی اللہ تعالٰی کے ناموں ) یادیگر اذکارو دَعوات (دُعاؤں ) سے ہو اس میں اصلاً حرج نہیں بلکہ مستحب ہے۔ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعالٰی عَلیہ واٰلہٖ وَ سلَّم نے ایسے ہی مقام میں فرمایا کہ ’’ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُم اَنْ یَّنْفَعَ اَخَاہُ فَلْیَنْفَعْہٗ یعنی تم میں جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو نفع پہنچاسکے (تو اسے نفع ) پہنچائے۔ ‘‘ (فتاویٰ افریقہ ، ص ۱۶۸)
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ موجودہ زمانے کی یگانۂ روزگار ہستی شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ نے خیرخواہی ٔ مسلمین کے جذبے کے تحت جہاں دیگر مجالس قائم فرمائیں وہیں مجلس مکتوبات و تعویذاتِ عطاریہ بھی قائم فرمائی کہ جس کے تحت نہ صرف مکتوبات کے ذریعے پریشان حالوں کی غمخواری کی جاتی ہے بلکہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ ہی کے عطاکردہ تعویذات و اوراد کے ذریعے مختلف پریشانیوں اور بیماریوں سے خلاصی کی ترکیب کی جاتی ہے۔ یہ تعویذات آپ ’’ تعویذاتِ عطاریہ ‘‘ کے بستے سے فِی سَبِیلِ للّٰہ بآسانی حاصل کر سکتے ہیں ۔ دعوتِ اسلامی کی مجلس اَلْمَدِیْنَۃُالْعِلْمِیَّہ تعویذاتِ عطاریہ کی برکت سے مختلف پریشانیوں سے چھٹکارا پانے والے خوش نصیب اسلامی بھائیوں کی چند مدنی بہاریں ’’ کینسر کا علاج ‘‘ کے نام سے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہی ہے۔
اللہ تعالٰی ہمیں ’’ اپنی اورساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش ‘‘ کے لئے مدنی انعامات پرعمل اورمدنی قافلوں کامسافربنتے رہنے کی توفیق عطافرمائے اور دعوتِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مجلس اَلْمَدِیْنَۃُالْعِلْمِیَہ کو دن پچیسویں رات چھبیسویں ترقی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع