30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی بھی آمد آمد تھی۔ مبلغ اسلامی بھائی نے بڑے اچھے انداز میں ماہ ِ رمضان اور روزوں کے فضائل بیان کیے۔ ایک ولیٔ کامل کی پُر تاثیر تحریر اور مبلغ اسلامی بھائی کے پُر کشش انداز بیان سے میرے دل کی مُرجھائی کلیاں کھل اُٹھیں اور علم دین سیکھنے کا ایسا جذبہ ملا کہ اس کے بعد میں روزانہ والد صاحب سے کہتا کہ نماز پڑھنے اسی مسجد میں چلتے ہیں کہ وہاں نماز کے بعد فیضانِ سنّت سے درس بھی ہوتا ہے۔ یوں نماز کے بعد درس سننے کا بھی موقع مل جائے گا ۔ والد صاحب میرے علم دین کی طرف دلچسپی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی طرف لگاؤ دیکھ کر بہت خوش ہوتے اور مجھے اپنے ساتھ مسجد لے جاتے ،یوں ہم نماز کے بعد ہونے والے درس میں بھی ضرور شرکت کرتے۔ درس کی برکت سے آہستہ آہستہ مجھ میں مُثبَت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ درس کے بعدگڈو شہر کی نوری جامع مسجد میں دعوتِ اسلامی کے ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی دعوت سن سن کر بالآخر میرا بھی شرکت کا ذہن بن گیا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد میں اپنے والد صاحب کے ساتھ جمعرات کے دن بعد نماز مغرب ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں پہنچ گیا۔اجتماع میں شریک کثیر تعداد میں عاشقان رسول کو دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ اتنے سارے سنتوں پر عمل کرنے والے عاشقان رسول سروں پر سبز سبز عماموں کے تاج سجائے کہاں سے آئے ہیں۔ اجتماع کے پُر کیف مناظراور ہر طرف سبز سبز عماموں کی ہریالی دیکھ کر میرے دل کو بہت روحانی سکون ملا۔ اب میں نہ صرف ہر جمعرات ہونے والے اجتماع میں پابندی سے شرکت کرنے کے لگابلکہ بڑی راتوں کے اجتماعات میں شرکت کو بھی اپنا معمول بنالیا۔ ان سنتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کی برکت نہ صرف مجھے نمازوں کی پابندی نصیب ہوئی بلکہ میرے اخلاق وکردار میں بھی نمایاں فرق آگیا۔ اب میں اپنے والدین کا ادب واحترام کرنے لگااور ضد کرنا اور انہیں تنگ کرنا بھی چھوڑ دیا۔اسی دوران ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کے زیر انتظام جامع مسجد مکی البہار کالونی گڈو میں اجتماع ذکرو نعت کی ترکیب بنائی گئی جس میں کندھ کوٹ (ضلع کشمور) سے تشریف لائے ہوئے ایک مبلغ اسلامی بھائی نے سنتوں بھرا بیان فرمایا، دوران بیان انھوں نے عالم دین کے فضائل بیان کیے اور ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا: اپنی اولاد کو عالم بنائیے، ہوسکتا ہے اللہ تعالٰی آپ کی نسل سے دین متین کی خدمت لے لے اوراِسی عمل کے صدقے بخشش ومغفرت فرما دے۔ ‘‘بیان کے اختتام پر یہ اعلان بھی کیا کہ جس کودعوتِ اسلامی کے جامعات المدینہ میں عالم کورس (درسِ نظامی ) میں داخلہ لینا ہو وہ داخلہ فارم وصول کر لے ، ان کے ترغیب دلانے پر میرے والد صاحب نے بھی ایک فارم لے لیا اورپھر مجھے جامعۃ المدینہ بیراج روڈ سکھرمیں داخل کروادیا۔ یوں میں نے علمِ دین حاصل کرنے کاآغاز کیا اور اس طرح اپنے دل میں لگی علم کی پیاس بجھانے لگا۔ تادمِ تحریر میں عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں قائم جامعۃ المدینہ کے درجہ سابعہ کا طالب علم ہوں اور اب تک اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تمام امتحانات میں نمایاں پوزیشن (اول دوم اور سوم) کا شرف حاصل کرچکا ہوں ، نیز اپنی تعلیم کے دوران بارہ ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کی سعادت کے ساتھ ساتھ مدنی قافلہ کورس کرنے کی سعادت بھی پا چکا ہوں۔ تادمِ تحریر ایک ذیلی مشاورت کے خادم (نگران) کی حیثیت سے حسب توفیق دین متین کی سر بلندی کے لیے کوشاں ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں استقامت عطا فرمائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع