30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو اتنا کہنا تھا ایک نمازی نے فوراً کتاب میری جانب بڑھاتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا: ’’کیا آپ ہمیں اس کتاب سے کچھ پڑھ کر سنا سکتے ہیں ؟ ‘‘ میں نے وہ کتاب لے کر دیکھی تو اس پر جَلی حروف سے لکھا ہوا تھا ’’ فیضانِ سنّت ‘‘ ۔میں نے اس میں سے کچھ صفحات پڑھ کر انہیں سنائے۔ تحریر انتہائی عام فہم اور فکرِ آخرت پیداکرنے والی تھی۔ مجھے بھی درس دیکر ایک پُر کیف سکون کا احساس ہوا ۔درس کے بعد نمازیوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ روزانہ درسِ فیضانِ سنّت کی ترکیب بنالیں تو نمازیوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی کی کتاب سے اکتسابِ فیض کا موقع مل جائے گا۔ ان کی کڑھن اور عاجزی بھرا انداز دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے ہامی بھرلی ۔ اس پر تمام نمازی بے حد خوش ہوئے۔ یوں اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ درس فیضان سنّت کی برکت سے نمازوں کی پابندی بھی شروع کر دی اور روزانہ نماز کے بعد ’’فیضان سنّت ‘‘ سے درس کا معمول بھی بن گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ولیٔ کامل کی پُر تاثیر تحریر کی بدولت نہ صرف میرے علم میں اضافہ ہونے لگا۔پہلے میں داڑھی منڈوانے کے فعلِ حرام کا مرتکب تھا مگر اب داڑھی شریف سجا لی ہے۔ درس کی برکت سے گناہوں کی تباہ کاریوں کے بارے میں معلومات ہونے لگی اور مجھے اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی توفیق نصیب ہوگئی۔ میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو راضی کرنے کے لئے اپنے پاس موجود تمام عشقیہ فسقیہ گانوں کی کیسٹوں کو نکال باہر کیا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ َبرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے خوفِ خدا اور عشق ِمصطفیٰ سے بھرپور بیانات اور مکتبۃ المدینہ سے جاری کردہ پُر سوز نعتوں کی کیسٹیں گھر لے آیا۔ ان نعتوں اور بیانات کی برکت سے میرے دل کی قساوت نرمی میں بدلنے لگی۔ دل عشق مصطفی کی خوشبوؤں سے معطر ومعنبر ہوا اور میں دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا۔ کچھ ہی عرصے میں میرے سر پر سبز عمامے شریف کا تاج بھی سج گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریرایک مسجد میں درس دینے کی ترکیب ہے اور علاقے میں مدنی کاموں کے لیے کوشاں ہوں۔ اللہ تعالٰی مجھے ہر دم دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ رکھے۔ آمین
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{۱۰} اولاد کو عالم بنائیے
ضلع کشمور (باب الاسلام سندھ ) کے علاقے گڈو بیراج کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں ایک اسکول میں پڑھتا تھا بُرے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے میں بہت ضدی بن گیا تھا۔بات بات پر ضد کرنا ، والدین کو تنگ کرنا میرا وَتِیرہ بن چکا تھا ۔ میرے والد صاحب امیرِ اہلسنّت دَامَتْ َبرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے طالب اور نمازوں کے پابند تھے اکثر سمجھے بھی اپنے ساتھ مسجد میں نمازِ باجماعت کے لیے لے جایا کرتے۔ ایک مرتبہ والد صاحب حسبِ معمول نمازِ عصر کی ادائیگی کے لیے شہر کی فریدی مسجد جارہے تھے تومیں بھی والد صاحب کے ساتھ جانب ِمسجد چل دیا،نماز ادا کرنے کے بعد دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے ’’ فیضانِ سنّت ‘‘ سے درس دینا شروع کردیا ۔ جب ہمیں پتہ چلا کہ رمضان المبارک کے روزوں کے متعلق درس ہو رہا ہے تو ہم بھی بیٹھ گئے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع