30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرابی کی سزا:
حضرت سیِّدُنا امام ابو العباس احمد بن محمد بن علی بن حجر مکی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ( متوفّٰی ۹۷۴ ھ ) اپنی کتاب ” اَلزَّوَاجِر عَنْ اِقْتِرَافِ الْکَبَائِر “ میں فرماتے ہیں کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تمام برائیوں کی جڑ شراب سے بچو! جو اس سے نہ بچا اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہو گیا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا ۪- وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠(۱۴) ( پ ۴، النساء :۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے ۔ ( الزواجر عن اقتراف الکبائر ، ج ۲، ص ۳۱۴) گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہو گی
ہائے ! میں نارِ جَہنَّم میں جلوں گا یا ربّ !
دردِ سر ہو یا بخار آئے تڑپ جاتا ہوں
میں جَہنَّم کی سزا کیسے سَہوں گا یا ربّ !
شرابی کی دنیا میں سزا:
حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شراب نوشی کرنے والے کو درخت کی شاخ اور جوتوں سے مارا، پھر امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابوبک ر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چالیس کوڑے مارے ، پھر جب امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خلافت میں لوگ سبزہ زاروں اور دیہاتوں کے قریب رہنے لگے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صحابۂ کرام سے شراب نوشی کی حد (سزا) کے متعلق مشورہ طلب کیا کہ اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ تو حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے کے مطابق شراب نوشی کی حد اسی کوڑے مقرر کر دی گئی ۔ ( صحیح مسلم ، کتاب الحدود ، باب حد الخمر ، الحدیث :۱۷۰۶، ص ۹۳۸) اور بعض روایات میں ہے کہ اسی کوڑوں کی سزا امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے مشورے سے مقرر کی گئی ۔( موطا امام مالك ، كتاب الاشربة ، باب الحد في الخمر ، الحدیث : ۱۶۱۵، ج ۲، ص ۳۵۱)
شرابی کی قبر میں سزا:
جس نے شراب پینے سے توبہ نہ کی اور اسی حالت میں اسے موت آ گئی ، اس کے متعلق حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’جب شرابی مر جائے تو اسے دفن کر دو، پھر مجھے ایک لکڑی پر لَٹکا کر اس کی قبر کھودو، اگر اس کا چہرہ قبلہ سے پھرا ہوا نہ پاؤ تو مجھے یونہی لٹکتا چھوڑ دینا ۔ ‘‘( کتاب الکبائر للذھبی ، الکبیرۃ التاسعۃ عشرۃ : شرب الخمر ، ص ۹۶)
مت گناہوں پہ ہو بھائی بے باک تُو
بھول مت یہ حقیقت کہ ہے خاک تُو
حضرتِ سیِّدُنا مَسرُوق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جو شخص چوری یاشراب خوری یا بدکاری میں مُبتَلا ہو کر مرتا ہے اُس پر دو سانپ مُقَرَّر کر دیئے جاتے ہیں جو اس کا گوشت نوچ نوچ کر کھاتے رہتے ہیں ۔ ( شَرْحُ الصُّدُور ص ۱۷۲)
غافلو ! قبر میں جس گھڑی جاؤ گے
سانپ بچھّو جو دیکھو گے چِلّاؤ گے
سر پچھاڑو گے پر کچھ نہ کر پاؤ گے
بے حد اپنے گناہوں پہ پچھتاؤ گے
پیارے اسلامی بھائیو! قبر میں ایمان ساتھ رہا تو قبر کی سختیوں سے بھی نجات ملے گی اور وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بھی ہو گی ۔
مردہ عورت نے کفن چور کو تھپڑ مارا:
حضرت ابو اسحاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو آدھا چہرہ چھپائے ہوئے دیکھ کر اس کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں رات کے وقت قبریں کھود کر کفن چرایا کرتا تھا ۔ چنانچہ ایک رات میں نے ایک عورت کی قبر کھود کر کفن چرانا چاہا تو اس نے مجھے اس زور سے تھپڑ مارا جس کا نشان اب بھی میرے منہ پر موجود ہے ۔ فرماتے ہیں کہ کفن چور کی یہ بات میں نے امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں لکھ بھیجی تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً مجھے ارشاد فرمایا کہ اس کفن چور سے قبر والوں کے حالات بھی معلوم کرنے کی کوشش کروں ۔ پس میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں نے اکثر قبر والوں کو دیکھا کہ ان کے منہ قبلہ سے پھر چکے تھے ۔ پس امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ جان کر ارشاد فرمایا کہ ’’ہائے افسوس! یہ وہ لوگ ہیں جن کا خاتمہ اچھا نہیں ہوا یعنی یہ لوگ اپنی زندگیوں میں ایسے گناہوں پر ڈٹے رہے جنہوں نے انہیں اس حالت تک پہنچا دیا ۔ ‘‘ ( روح البیان ، الجزء التاسع العشرۃ ، الفرقان ، ج ۶، ص ۲۴۹)
گورِ نیکاں باغ ہو گی خلد کا
مجرموں کی قبر دوزخ کا گڑھا
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں برے خاتمے سے محفوظ فرمائے اور مسلم امہ کو شراب کی لعنت سے بچائے کہ یہ بھی برے خاتمے اور عذابِ قبر کا سبب بن سکتی ہے ۔ چنانچہ،
بچہ بوڑھا ہو گیا:
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میرا ایک بیٹا فوت ہو گیا، دفن کرنے کے کچھ دن بعد میں نے اسے خواب میں دیکھا کہ اس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے ، میں نے پوچھا: ’’اے میرے بیٹے ! میں نے تجھے دفن کیا تو تو بچہ تھا، یہ بوڑھا کیسے ہو گیا؟‘‘ اس نے بتایا: ’’اے میرے والد ِمحترم! میرے قریب ایک ایسے شخص کو دفن کیا گیا جو دنیا میں شراب پیتا تھا، اس کی قبر میں جہنم کی آگ اس شدت سے بھڑکی کہ گرمی کی شدت سے ہر بچہ بوڑھا ہو گیا ۔ ‘‘( کتاب الکبائر للذھبی ، الکبیرۃ التاسعۃ عشرۃ : شرب الخمر ، ص ۹۶)
جہنم کی گردن:
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب قیامت کا دن آئے گا تو دوزخ سے گردن نما آگ باہرنکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوگی جن سے وہ دیکھے گی، دو کان ہوں گے جن سے وہ سنے گی اور ایک زبان بھی ہوگی جس سے وہ ہیبت ناک لہجے میں مخاطب ہو گی ۔ ( سنن الترمذى ، كتاب صفة جهنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، باب ما جاء في صفة النار ، الحدیث : ۲۵۸۳، ج ۴، ص ۲۵۹)
حضرت سیدنا اسد بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کتاب الزھد میں فرماتے ہیں کہ وہ گردن نما آگ کہے گی: ’’مجھے سرکشوں کو مزہ چکھانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ‘‘ پھر وہ آگ اڑتے ہوئے پرندے کے زمین پر پڑے دانے کو دیکھ لینے سے بھی زیادہ تیزی سے سرکشوں کو پکڑ پکڑ کر جہنم میں جھونک دے گی ۔ پھروہ کہے گی: ’’جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایذا رسانی کا سبب بنتے تھے ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ انہیں بھی کڑی سزا دوں ۔ ‘‘ اور اس طرح وہ ان ایذا رسانوں کو اچک کر جہنم رسید کر دے گی ۔ ( کتاب الزھد لاسد بن موسی ، باب ذکر مایدعیٰ یوم القیامۃ ، الحدیث :۷۷، ص ۵۷)
گویا میدانِ حشر میں جہنم عبرت ناک انداز میں پکار پکار کر کہے گی:
کہاں ہیں خدائے رحمٰن کے مخالف؟
کہاں ہیں خدائے دَیان کے دشمن؟
کہاں ہیں شیطان کے دوست؟
اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایذا رسانی کاسبب بننے والے شرابیو! یاد رکھو کل قیامت میں تمہیں اس آگ سے بچنے کی کوئی راہ نہ ملے گی، محشر کا ہجوم تمہیں اس کی آنکھ سے بچا نہ پائے گا کیونکہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ وہ آگ ہر سرکش و نافرمان کو اس طرح پہچانتی ہو گی جیسے باپ بیٹے کو یا بیٹا باپ کو پہچانتا ہے ۔ ( کتاب الزھد لاحمد بن حنبل ، زہد عمیر بن حبیب بن حماسۃ ، الحدیث :۱۰۴۴، ص ۲۰۵)
لفظِ’’شرابی‘‘ کے پانچ حروف کی نسبت سے بروزِ قیامت شرابی کی (5) سزائیں :
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 148 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’ نیکیوں کی جزائیں اور گناہوں کی سزائیں ‘‘ صَفْحَہ 22 تا 31 پر فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد سمر قندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ( متوفّٰی ۳۷۵ ھ ) نے قیامت کے دن شرابی کی مختلف سزاؤں کا تذکرہ کیا ہے ۔ چنانچہ،
قیامت میں شرابی کاحلیہ:
(1) … شرابی قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ سیاہ ، آنکھیں نیلی اور زبان سینے پر لٹکتی ہوگی اوراس کا لعاب (یعنی تھوک) خون کی طرح بہتا ہو گا ۔ قیامت کے دن لوگ اس کوپہچانتے ہوں گے ۔ پس تم اس کو سلام نہ کرو ۔ اگر بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت نہ کرو اور جب مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو ( جبکہ وہ شراب کوحلال جان کر پیتا ہو) کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بت پرست کی طرح ہے ۔
مردار سے زیادہ بدبُو دار:
(2) … شرابی قبر سے مردار سے بھی زیادہ بدبُو دار حالت میں نکلے گا کہ اس کی گردن میں شراب کی بوتل لٹکی ہوگی اور ہاتھ میں جام ہوگا ۔ سانپ اور بچھو اس کے سارے جسم پر چمٹے ہوں گے ۔ اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھولتاہوگا ۔ اس کی قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہو گی جو فرعون وہامان کے قریب ہوگی ۔ ‘‘
لوہے کے گرزوں سے استقبال:
(3) … قیامت کے دن زانیوں اورشرابیوں کو دوزخ کی طرف گھسیٹا جائے گا ۔ جب وہ جہنم کے قریب پہنچیں گے تو اُس کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے جائیں گے اور عذاب کے فرشتے لوہے کے گُرزوں سے ان کا استقبال کریں گے اور ان کو دُنیا کے دنوں کی گنتی کے برابر دوزخ میں مارتے رہیں گے پھرانہیں ان کے ٹھکانے پرپہنچادیں گے اورچالیس سال تک جہنمی کے جسم کے ہرعضوپربچھو ڈنک مارتے رہیں گے اورسانپ اُس کے سرپرڈستے رہیں گے پھر بھی وہ اپنے مقررہ مقام تک نہیں پہنچے گاتوآگ کی لَپَٹ اُسے آخری کنارے تک پہنچادے گی اور فرشتے اسے ماریں گے تووہ جہنم میں گرجائے گا ۔ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَؕ- ( پ ۵، النساء :۵۶) ترجمۂ کنز الایمان : جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انہیں بدل دیں گے کہ عذاب کامزہ لیں ۔پھر وہ پیاس کی شدت سے چلاتے ہوئے کہیں گے : ہائے پیاس! ہائے پیاس! ہمیں پانی کاایک ہی گھونٹ پلادو ۔ ان پر مقرر عذاب کے فرشتے جہنم کے جوش مارتے اور کھولتے ہوئے پانی کے پیالے ان کے سامنے کریں گے ۔ جب شرابی پیالے کومنہ لگائے گاتواس کے چہرے کاگوشت جھڑجائے گا ۔ ’’پھرجب وہ کھولتا ہوا پانی اس کے پیٹ میں پہنچے گاتواس کی آنتوں کو کاٹ دے گااور وہ اس کے پچھلے مقام سے باہر نکل جائیں گی ۔ پھرآنتیں اپنی حالت پر لوٹ آئیں گی پھر دوبارہ عذاب میں گرفتارہوگا ۔ تو یہ ہے شرابی کی سزا ۔ ‘‘
شرابی کی سزاؤں کاخوفناک منظر:
(4) … قیامت کے دن شرابی اس حال میں آئے گا کہ اس کی گردن میں شراب کا برتن لٹک رہاہوگا اوراس کے ہاتھ میں لہو ولعب کاآلہ ہو گا حتی کہ وہ آگ کی سولی پر لٹکادیاجائے گا توایک منادی نداکر ے گا: ’’یہ فلاں بن فلاں ہے ۔ ‘‘ اس کے منہ سے بدبوخارج ہورہی ہوگی اور لوگ اس پر لعنت کرتے ہوں گے ۔ پھر عذاب کے فرشتے اسے آگ کی سولی سے اُتار کرجہنم میں ڈال دیں گے جہاں ایک ہزار سال تک جلتارہے گا ۔ پھر پکارے گا:’’ہائے پیاس! ہائے پیاس!‘‘ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ بدبودار پسینہ بھیجے گاتو وہ پکارے گا:’’اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھ سے اس پسینہ کو دور فرما ۔ ‘‘ لیکن ابھی وہ پسینہ دُور نہ ہوگاکہ آگ آجائے گی اور اسے جلاکر راکھ کر دے گی ۔پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو دوبارہ آگ میں سے پیدافرمائے گاتو وہ کھڑا ہوجائے گا ۔ اس کے دونوں ہاتھ اوردونوں پاؤں بندھے ہوں گے ۔ اسے زنجیروں کے ذریعے منہ کے بل گھسیٹا جائے گا ۔ پیاس کی وجہ سے چلائے گاتو اسے کھولتاہو ا پانی پلایا جائے گا ۔ بھوک کے لئے فریاد کرے گاتوکانٹے داردرخت سے کھلایا جائے گاجو اس کے پیٹ میں جوش مارتاہوگا ۔(دوزخ کے نگران فرشتے ) حضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آگ کی جوتیاں ہوں گی وہ شرابی کو پہنائیں گے جس سے اس کادماغ کھولنے لگے گایہاں تک کہ ناک اور کان کے راستے بہہ جائے گا ۔ اس کی داڑھیں انگاروں کی ہوں گی ۔ اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکلیں گے ۔ اس کی آنتیں کٹ کٹ کر اس کی شرمگاہ سے گرپڑیں گی ۔ پھر اسے چنگاریوں اورشعلوں کے ایسے تابوت میں رکھاجائے گا جس کا عذاب ہزارسال کے طویل عرصہ تک ہوگااور اس تابوت کادَہانہ تنگ ہوگا ۔ اس کے جسم سے پیپ بہتاہوگا ۔ اس کا رنگ متغیرہوچکاہوگا ۔ وہ فریاد کرے گا: ’’اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ ! آگ نے میرے جسم کو کھالیا ہے ۔ ‘‘ہلاکت ہے !اس شخص کے لئے کہ جب وہ فریاد کرے گاتواس پررحم نہیں کیا جائے گا ۔ جب وہ نداکرے گاتواسے جواب نہیں دیا جائے گا ۔ اس کے بعد پیاس کی فریادکرے گاتوحضرت مالک عَلَیْہِ السَّلَام اسے کھولتاہوا پانی پینے کو دیں گے ۔ شراب خور جب اسے پکڑے گاتو اس کی انگلیاں کٹ کر گر پڑیں گی اور جب اس کو دیکھے گا تواس کی آنکھیں بہہ پڑیں گی اور رخسار کاگوشت گر پڑے گا۔
پھرہزار سال کے بعد تابوت سے نکالاجائے گااور ایسے قید خانے میں ڈالا جائے گاجس میں مٹکے کی مانند سانپ اور بچھوہوں گے ۔ وہ اسے اپنے پاؤں تلے روندیں گے ۔ پھر اس کے سر پر آگ کا پتھر رکھاجائے گا ۔ اس کے بدن کے جوڑوں میں لوہا چڑھا دیا جائے گا ۔ اس کے ہاتھوں میں زنجیریں اور گردن میں طوق ہوگا پھر اسے ہزار سال کے بعد قید خانے سے نکالا جائے گاتو عذاب کے فرشتے اسے پکڑ کر ’’ وَیْل ‘‘نامی وادی کی طرف لے چلیں گے ۔ یہ جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے جو دیگر وادیوں سے زیادہ گرم اورزیادہ گہری ہے ۔ اس کے سانپ بچھو بھی زیادہ ہیں ۔ شرابی ہزارسال تک اس وادی میں جلتارہے گا ۔
(5) … شرابی اپنی قبر سے اس حال میں اُٹھے گا کہ اس کی پنڈلیاں سوجی ہوئی ہوں گی اوراس کی زبان اس کے سینے پر لٹکی ہوئی ہوگی اور اس کے پیٹ میں آگ آنتوں کو کھارہی ہوگی تووہ بلند آواز سے چیخے چلائے گاجس سے ساری مخلوق گھبرا جائے گی جبکہ بچھو اس کے گوشت پوست میں ڈستے ہوں گے ۔ اسے آگ کے جوتے پہنادیئے جائیں گے جس سے اس کا دماغ کھولتا ہوگا ۔ شرابی جہنم میں فرعون وہامان کے قریب ہوگاتوجس نے شرابی کو ایک لقمہ کھلایا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے جسم پر سانپ اور بچھو مُسلَّط کردے گااور جس نے اس کی کوئی حاجت پوری کی تواس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد کی اور جس نے اس کو بطورِ قرض کوئی چیز دی اس نے قتلِ مسلم پر اعانت کی اور جس نے اس کی مجلس اختیار کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو اَندھااُٹھائے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہ ہوگی اور شرابی سے نکاح نہ کرو ۔ بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت نہ کرو ۔ شرابی پرتورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید میں لعنت کی گئی ہے ۔ جس نے (حلال سمجھ کر) شراب پی، اس نے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل کردہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے تمام (احکام) کوجھٹلادیا اورشراب کو کافر ہی حلال ٹھہراتا ہے اور مَیں (یعنی امام الانبیا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) اس سے بیزار ہوں ۔ پھریہ کہ شرابی پیاسا مرے گااوروہ ہزار سال تک فریاد کرتارہے گا:ہائے پیاس!ہائے پیاس! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! شرابی قیامت میں جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوگاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا: ’’اے فرشتو!اسے پکڑلو ۔ ‘‘ تواس کے سامنے ستر ہزار فرشتے ظاہر ہوں گے اور اسے منہ کے بل گھسیٹیں گے ۔ (پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:) ’’مَیں تمہیں مزید بتاتا ہوں کہ جس شخص کے دل میں قرآنِ مجید کی سو آیات ہوں اور وہ شراب پی لے تو قیامت کے دن قرآنِ مجید کاہر حرف آکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس شرابی سے جھگڑا کرے گااور جس سے قرآنِ مجید نے جھگڑا کیا یقیناً وہ ہلاک ہو گیا ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع