30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولینا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی ’’ خزائن العرفان ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ شراب تین ہجری میں غزوۂ احزاب سے چند روز بعد حرام کی گئی ۔ ( خزائن العرفان ، پ ۲، البقرۃ ، تحت الایۃ : ۲۱۹)
”شراب “کے متعلق نازل ہونے والی 4آیاتِ مبارکہ:
زمانۂ جاہلیت میں شراب عام تھی، مذہبی یا معاشرتی طور پر اسے برا نہیں سمجھا جاتا تھا، اس لئے اکثر لوگ اس کے عادی تھے ، اسلام نے تدریجاً شراب کی برائی کو بیان کیا اور آخر کار اس کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا ۔ چنانچہ،دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1012 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ جہنم میں لے جانے والے اعمال‘‘ جلد دوم صَفْحَہ 545 تا 547 پر ہے : ”علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت کے متعلق 4 آیات نازل ہوئیں ۔ پہلے ارشاد فرمایا:
وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۶۷) ( پ ۱۴، النحل : ۶۷)
ترجمۂ کنز الایمان : اور کھجور اور انگور کے پھلوں میں سے کہ اس سے نبیذ بناتے ہو اور اچھا رزق بیشک اس میں نشانی ہے عقل والوں کو ۔ مسلمان پھر بھی شراب پیتے رہے اس لئے کہ یہ ان کے لئے حلال تھی پھر امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وغیرہ جیسے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ہمیں شراب کے بارے میں فتویٰ دیجئے کیونکہ یہ عقل کو ختم کرنے والی اور مال کو ضائع کرنے والی ہے ۔ ‘‘ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ حکم نازل ہوا:
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘-وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ- ( پ ۲، البقرۃ :۲۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان : تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں ، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے ۔ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ شراب کی حرمت کی طرف توجہ دلا رہا ہے ، لہٰذا جس کے پاس شراب ہو تو اسے بیچ دے ۔ ‘‘
( صحیح مسلم ، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ ، باب تحریم بیع الخمر ، الحدیث : ۱۵۷۸، ص ۸۵۱ ملتقطاً )
کچھ لوگوں نے اس فرمان ” اِثْمٌ كَبِیْرٌ “ (بڑا گناہ ہے ) کی وجہ سے شراب چھوڑ دی اور کچھ اس فرمان ” مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘- “ (لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی) کی وجہ سے پیتے رہے یہاں تک کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کھانا تیار کر کے کچھ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو دعوت دی اور انہیں شراب بھی پیش کی، انہوں نے شراب پی تو مدہوش ہو گئے ، نمازِ مغرب کا وقت ہوا تو ان میں سے ایک صحابی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے اور انہوں نے ان آیاتِ مبارکہ: ﴿ قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱) لَاۤ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَۙ(۲) ( پ ۳۰، الکافرون :۱، ۲) ﴾ (1) میں ” لَاۤ اَعْبُدُ “ کے بجائے ” اَعْبُدُ “ پڑھا، یعنی ” اَعْبُدُ “ سے پہلے حرفِ ” لَاۤ “ کو چھوڑ دیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ ( پ ۵، النساء :۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ جب تک اتنا ہوش نہ ہو کہ جو کہو اسے سمجھو ۔
پس نماز کے اوقات میں نشہ حرام ہو گیا اور جب یہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے اپنے اُوپر شراب حرام کر لی اور کہا: ’’اس چیز میں کوئی بھلائی نہیں جو ہمارے اور نماز کے درمیان حائل ہو جائے ۔ ‘‘ اور کچھ لوگوں نے صرف نماز کے اوقات میں شراب پینا چھوڑی، ان میں سے کوئی شخص نمازِ عشا کے بعد شراب پیتا تو صبح تک اس کا نشہ زائل ہو چکا ہوتا اور فجر کی نماز کے بعد شراب پیتا تو ظہر کے وقت تک ہوش میں آ جاتا ۔ایک بار حضرت سیِّدُن ا عِتْبَان بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مسلمانوں کو دعوت دی اور کھانے میں انہوں نے ا ن کے لئے اونٹ کا سر بھُونا، سب نے مل کر اسے کھایا اور شراب بھی پی یہاں تک کہ ان پر نشہ طاری ہو گیا، پھر آپس میں فخر کرنے اوربرا بھلا کہنے لگے اور اشعار پڑھنے لگے پھر کسی نے ایک ایسا قصیدہ پڑھا جس میں انصار کی ہجو تھی اور اس کی قوم کے لئے فخر تھا تو ایک انصاری نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی لی اور ایک صحابی کے سر پر دے ماری، وہ شدید زخمی ہو گئے اور سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس انصاری کی شکایت کی تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ ربّ العزّت میں عرض کی: ” یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں شراب کے متعلق واضح حکم عطا فرما ۔ ‘‘ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ حکم نازل فرما یا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰) اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ، شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ( پ ۷، المائدۃ :۹۰، ۹۱)
اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے ۔
یہ حکم غزوۂ اَحزاب کے کچھ دن بعد نازل ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہم ا س سے رُک گئے ۔ ‘‘( معالم التنزیل للبغوی ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۲۱۹، ج ۱، ص ۱۴۰)
بتدریج حرمت میں حکمت:
حضرت سیِّدُنا امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی نقل فرماتے ہیں کہ ’’اس ترتیب پر حرمت واقع کرنے میں حکمت یہ تھی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جانتا تھا یہ لوگ شراب نوشی کے بہت دلدادہ ہیں اور انہیں اس سے بہت زیادہ نفع بھی حاصل ہوتا ہے ، اگر انہیں ایک ہی حکم سے منع کیا گیا تو یہ ان پر گراں گزرے گا، لہٰذا اُن پر شفقت فرماتے ہوئے درجہ بدرجہ حرمت نازل فرمائی ۔ ‘‘ ( التفسیر الکبیر ، البقرۃ ، تحت الآیۃ ۲۱۹، ج ۲ ص ۳۹۶)
پیارے اسلامی بھائیو! شراب کے بتدریج حرام ہونے سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو پاکی و طہارت کا درس دیا گیا تا کہ شراب کے مفاسد اور نقصانات کا احساس خود بخود ان کے دلوں میں پیدا ہو اور وہ اس سے نفرت کرنے لگیں اور جب چند ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا سبب شراب بنی تو اس کی خرابی کا احساس ہر دل میں ہونے لگا اور آخر اس کے حرام ہونے کا قطعی حکم نازل ہوا ۔
سرکار کی پسند:
شبِ معراج اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی ۔ پھر اختیار دیا گیا کہ ان میں سے کوئی ایک پسند فرما لیں ، پس سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دودھ پسند فرمایا تو عرض کی گئی: ”آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فطرت کو پسند کیا ہے کیونکہ اگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شراب پسند فرماتے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اُمت گمراہی کا شکار ہو جاتی ۔ “ ( صحیح مسلم ، کتاب الایمان ، باب الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السموات وفرض الصلوات ، الحدیث :۱۶۹، ص ۱۰۴ مختصراً ۔ صحیح البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب قول اللہ تعالی ۔ ۔ ۔ الخ ، الحدیث :، ۳۳۹۴ ، ج ۲، ص ۴۳۷)
1 ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ! اے کافرو! نہ میں پوجتا ہوں جو تم پوجتے ہو ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع