30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرح رہے کہ بظاہر اونچا سنتے یہاں تک کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اَصم یعنی بہرے مشہور ہو گئے ۔
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مَطبوعہ 552 صفحات پر مشتمل کتاب ”دِین و دُنیا کی اَنوکھی باتیں“ صفحہ 456 پر ہے : ایک شخص نے ہارون رشید کے دَربان فَضل بِن رَبیع کے نام ایک جعلی خط بنایا جس میں ایک ہزار دِینار کی اَدائیگی کا لکھا اور اسے لے جا کر فَضل بِن رَبیع کے وکیل کو دے دیا ۔ وکیل نے جب یہ خط دیکھا تو اَصلی سمجھ کر دِیناروں کا وزن کرنے لگا ۔ اِسی دَوران فَضل بِن رَبیع بھی کسی کام کے سلسلے میں اپنے وکیل کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔ وکیل نے اسے مُعاملے سے آگا ہ کیا تو فَضل نے اس خط کو پڑھا پھر اس شخص کی طرف نظر کی تو دیکھا کہ وہ شرم سے پانی پانی ہو گیا ہے ۔ فَضل نے سر نیچے کر لیا پھر اپنے وکیل سے کہا : کیا تم جانتے ہو میں تمہارے پاس اس وقت کیوں آیا ہوں؟ وکیل نے کہا : مجھے نہیں معلوم ۔ کہا : میں اس لیے آیا ہوں تاکہ تم اس شخص کے مُعاملے کو جلدی نمٹاؤ ۔ وکیل نے جلدی سے اسے وزن کر کے مال دے دیا اور جب اسے مال مِلا تو وہ حیرانی میں ڈوب گیا ۔ فضل نے اسے دیکھا تو کہا : خوشی سے چلے جاؤ ۔ اس شخص نے یہ سُن کر فَضل کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور کہا : جس طرح آپ نے میری پَردہ پوشی کی اللہ عَزَّوَجَلَّ دُنیا وآخرت میں آپ کی پَردہ پوشی فرمائے ۔ یہ کہہ کر وہ شخص مال لے کر چلا گیا ۔ ( [1] )
ان حِکایات سے وہ لوگ عِبرت حاصِل کریں جو بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی مَحبَّت کا دَم تو بھرتے ہیں مگر زبردستی آڑے تِرچھے سُوالات( Cross Questions ) کر کے لوگوں کے عیبوں کی ٹٹول میں بھی لگے رہتے ہیں ۔
یاد رکھیے !”اِدھر اُدھر کان لگا کر لوگوں کی باتوں کو چُھپ چُھپ کر سننا یا تاک جھانک کر لوگوں کے عیبوں کو تلاش کرنا یہ بڑی ہی چھچھوری حَرکت اور خَراب عادت ہے ۔ دُنیا میں اس کا اَنجام بَدنامی اور ذِلَّت و رُسوائی ہے اور آخرت میں اس کی سزا جہنم کا عذاب ہے ایسا کرنے والوں کے کانوں اور آنکھوں میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا ۔ قرآنِ مجید میں اور حدیثوں میں خُدا وند قدُّوس اور ہمارے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ(وَ لَا تَجَسَّسُوْا )( [2] )( ترجمۂ کنزُ الایمان : اور عیب نہ ڈھونڈو ۔ ) کسی کے عیبوں کو تلاش کرنا حرام اور گناہ ہے مَردوں کی بہ نسبت عورتوں میں یہ عیب زیادہ پایا جاتا ہے ۔ “( [3] )
اُٹھے نہ آنکھ کبھی بھی گناہ کی جانِب
عطا کرم سے ہو ایسی مجھے حیا یاربّ
کسی کی خامیاں دیکھیں نہ میری آنکھیں اور
سنیں نہ کان بھی عیبوں کا تذکرہ یاربّ ( وسائلِ بخشش )
سُوال : کسی ذِمَّہ دار کے ذاتی یا تنظیمی عُیُوب لکھ کر اس سے بڑے ذِمَّہ دار کو دینا اور اس کا ان عُیُوب پر مشتمل مکتوب کو پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب : اگر کسی ذِمَّہ داریا عام اسلامی بھائی سے کوئی بُرائی صادِر ہو جائے یا اس کی ذاتی یا تنظیمی کسی کوتاہی کی وجہ سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کو نقصان پہنچ رہا ہو تو تحریری طور پر یا بَراہِ راست مل کر نرمی کے ساتھ اسے سمجھانے کی کوشش کی جائے ۔ اگر خود
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع