30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عُقبہ بِن عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی : ’’میرے پڑوسی شراب نوشی کرتے ہیں اورمیں پولیس کو بُلا کر انہیں گرفتار کروانا چاہتا ہوں ۔ ‘‘آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ایسا مت کر ، انہیں وَعظ و نصیحت کر ۔ عرض کی : میں نے انہیں منع کیا ہے ، لیکن وہ باز نہیں آتے ، اب میں پولیس کے ذَرِیعے ان کو پکڑوانا چاہتا ہوں ۔ یہ سُن کر آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ایسامت کر ، بے شک میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو یہ اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا : جس نے کسی کا عیب چُھپایا گویا اُس نے زندہ دَرگور( یعنی قبر میں ڈالی گئی )بچّی کو اُس کی قَبر میں زندہ کیا ( یعنی اُس کی جان بچائی ) ۔ ( [1] )شراب پینا بے شک بَہُت بڑا اور بُرا گناہ ہے مگرجو چُھپ کر ایسا کرتا ہو اُسے نیکی کی دعوت د ے کر توبہ کے لیے آمادہ کیا جائے مگر اُس کی پردہ پوشی لازِمی ہے ۔ اَلبتہ جہاں شریعت اِجازت دیتی ہے وہاں اس کا عیب بیان کیا جا سکتا ہے ۔
دوسروں کی خوبیوں کی طرف نظر کیجیے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان میں جہاں بیشمار خوبیاں ہوتی ہیں وہاں کچھ نہ کچھ بُرائیاں بھی ہوتی ہیں لہٰذا اگر کسی مسلمان میں کوئی عیب یا بُرائی پائیں تو جب تک کوئی مصلحتِ شَرعی نہ ہو تو اس کے عیب یا بُرائی سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے اس کی خوبیوں کی طرف نظر کیجیے کہ مومن ہمیشہ اپنے بھائی کی خوبیوں کوسامنے رکھتا ہے تاکہ اس کے دل میں اس کا اِحترام ، عزت اور محبت باقی رہے ۔ پھر بھی اگر کسی کے عُیُوب بیان کرنے کو جی چاہے تو ایک نظر اپنے گریبان میں بھی جھانک لیجیے اور اپنے عُیُوب نظر آنے پر انہیں دُور کرنے کی کوشش میں لگ جائیے کہ سرکارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مشکبار ہے : اُس شخص کے لیے خوشخبری ہے جسے اس کے عُیُوب ( پر نظر ) نے دوسروں کی عیب جوئی سے پھیر دیا ۔ ( [2] ) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں ایک دوسرے کی عزت و آبرو کا مُحافِظ بنائے اور عیب پوشی کی توفیق نصیب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
یا الٰہی نامۂ اعمال جب کھلنے لگیں
عیب پوشِ خَلق ستّارِ خطا کا ساتھ ہو ( حدائقِ بخشش )
سُوال : مسلمانوں کی عیب پوشی کے حوالے سے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے کچھ واقعات بیان فرما دیجیے ۔
جواب : ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے دِلوں میں اِحترامِ مسلم کا جَذبہ ہوتا تھا ، وہ مسلمانوں کے جان مال اور عزت و آبرو کے مُحافِظ ہوتے تھے لہٰذا وہ کسی بھی طرح سے مسلمانوں کے عُیُوب دیکھنا ، سننا اور انہیں کسی بات پر شَرمندہ کرنا گوارا نہ کرتے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا حاتم اَصمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم بہرے نہیں تھے ( ان کے اَصم یعنی بہرہ مشہور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ )ایک عورت ان سے مسئلہ دَریافت کرنے کے لیے حاضِر ہوئی ، اِسی دَوران اس کی رِیح ( یعنی ہوا ) خارِج ہو گئی اس پر وہ بہت شَرمندہ ہوئی ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے شَرمندگی سے بچانے کے لیے فرمایا : اونچی آواز سے بولو میں اونچا سنتا ہوں ، تو اس عورت نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو بہرہ گمان کیا اور خوش ہو گئی کہ انہوں نے وہ آواز نہیں سنی ہو گی ، پھر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنے آپ کو اسی حال پر قائم رکھا ۔ ( [3] ) یعنی سب کے سامنے مستقل اسی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع