30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں کوئی بُرائی دیکھیں تو )اسے خبر دے کر یا اس کے لیے دُعائے خیر کر کے ( اس سے وہ بُرائی دَفع کر دیں ۔ )حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے تھے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر رحم کرے جو مجھے میرے عُیُوب پر مُطلع کرے ۔ ( [1] )عُیُوب فرما کر بتایا کہ ہمارا نفس عیبوں کا سرچشمہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان مومنوں کے پاس بیٹھا کریں جن کے ذَریعے انہیں اپنے عُیُوب پر اِطلاع ہو ۔
آئینہ اس لیے دیکھتے ہیں کہ اپنے چہرے کے چھوٹے بڑے داغ دھبے نظر آ جائیں ۔ طبیب کے پاس اسی لیے جاتے ہیں کہ وہاں علاج ہو جائے ، ایسے مومنوں کی صحبت اکسیر ہے ۔ اس لیے صوفیائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ ہمیشہ اپنے مُریدوں اور شاگردوں کے پاس نہ بیٹھو جو ہر وقت تمہاری تعریفیں ہی کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اپنے مُرشِدوں ، اپنے اُستادوں اور اپنے بزرگوں کے پاس بھی بیٹھو جہاں تمہیں اپنی کمتری نظر آئے ۔ ہاتھی پہاڑ کو دیکھ کر اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے ۔ ہمیشہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی عظمتوں میں غور کیا کرو تاکہ اپنی گنہگاری اور کمتری محسوس ہوتی رہے ۔ محققین صوفیاء اس حدیث کے یہ معنیٰ کرتے ہیں کہ” مومن جب کسی مسلمان میں عیب دیکھے تو سمجھے کہ یہ عیب مجھ میں ہے جو اس کے اندر مجھے نظرآ رہا ہے جیسے آئینے میں جو داغ دھبے نظر آتے ہیں وہ اپنے چہرے کے ہوتے ہیں نہ کہ آئینے کے ۔ یہ معنیٰ نہایت عارِفانہ ہیں ۔ “اس صورت میں حدیثِ پاک میں وارد اَلفاظ”فَلْيُمِطْ عَنْهُ“کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ مومن کے ذَریعے اپنے عُیُوب معلوم کر کے انہیں دَفع کرو ۔ ( [2] )ہاں!اگر کسی کی بُرائی سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اَندیشہ ہو تو اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ لوگوں کو اس کے نقصان سے بچانے کے لیے بَقَدَرِ ضَرورت صِرف اُسی بُرائی کا تذکِرہ کیا جا سکتا ہے ۔
سُوال : عیب پوشی کی فضیلت بیان فرما دیجیے ۔
جواب : مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی بڑی اَہمیت ہے لہٰذا کسی مسلمان کے پوشیدہ عُیُوب کو بِلا مصلحتِ شرعی لوگوں کے سامنے بیان کر کے اسے ذَلیل و رُسوا کرنا جائز نہیں کیونکہ اس سے وہ دوسروں کی نظر میں گر جاتا ہے اور شریعتِ مطہرہ کو یہ بات قطعاً ناپسند ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی نظروں میں ذَلیل و خوار ہو لہٰذا مسلمان کی عزّت بچانے کے لیے اس کی پَردہ پوشی کی جائے ۔ مسلمانوں کے عُیُوب چھپانے اور انہیں ذَلیل و رُسوا ہونے سے بچانے کی فضیلت کے بھی کیا کہنے چنانچہ سُلطانِ اِنس و جان ، رَحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ جنَّت نشان ہے : جوشخص اپنے بھائی کا کوئی عىب دیکھ کر اس کی پَردہ پوشی کر دے تو وہ جنَّت میں داخِل کر دیا جائے گا ۔ ( [3] ) ایک اور حدیثِ پاک میں اِرشاد فرمایا : جو اپنے مسلمان بھائی کی عیب پوشی کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ قِیامت کے دن اس کی عیب پوشی فرمائے گا اور جو اپنے مسلمان بھائی کا عیب ظاہِر کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کا عیب ظاہِر فرمائے گا یہاں تک کہ اُسے اُس کے گھر میں رُسوا کر دے گا ۔ ( [4] )
حضرتِ سیِّدُنا عُقبہ بِن عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کاتِب حضرتِ سیِّدُنا ابوہیثم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے حضرتِ سیِّدُنا
[1] احیاء العلوم ، کتاب ریاضة النفس و تھذیب الاخلاق ، ۳ / ۷۹ دار صادر بیروت
[2] مراٰۃ المناجیح ، ۶ / ۵۷۱ بتصرفٍ قلیلٍ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور
[3] مسند عبد بن حمید ، من مسند أبی سعید الخدری ، ص۲۷۹ ، حدیث : ۸۸۵ عالم الکتب بیروت
[4] ابنِ ماجه ، کتاب الحدود ، باب الستر علی المؤمن...الخ ، ۳ / ۲۱۹ ، حدیث : ۲۵۴۶ دار المعرفة بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع