گناہوں بھری تحریرات چھاپنا
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Burae Ka Badla Achae Say Deijiye | بُرائی کا بدلہ اچھائی کے ساتھ دیجیے

book_icon
بُرائی کا بدلہ اچھائی کے ساتھ دیجیے

نکلا : نابھئی نا! الیاس بھائی کوئی ناراضی نہیں ! اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر بولا : چلو گھر چلتے ہیں آپ کو میرے ساتھ ٹھنڈی بوتل پینی ہو گی ۔  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  اس نے اپنے گھر لے جا کر میری خیرخواہی کی ۔  

گناہوں بھری تحریرات چھاپنا

سُوال : کسی مسلمان کے عُیُوب     پر مشتمل خبریں یا پمفلٹ چھاپنا  کیسا ہے ؟

جواب : جس طرح  کسی مسلمان میں پائی جانے والی بُرائیوں  یا عُیُوب کا پیٹھ پیچھے زبان سے  بیان کرنا غیبت اور بُرائی یا عیب نہ ہونے کی صورت میں پیٹھ پیچھے یا اس کے  رُوبَرو بیان کرنا  بُہتان کہلاتا ہے ایسے ہی لکھ کر چھاپنے کا بھی مُعاملہ ہے ۔  بِلااجازتِ شَرعی مسلمان کی  کِردار کشی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، چاہے وہ اَخبار کے ذَریعے ہو یا پمفلٹ کی صورت میں ۔  جو اَحکام زبان سے کہنے کے ہیں وہی قلم سے لکھنے کے بھی ہیں جیسا کہ اعلیٰ حضرت ، امامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : اَلْقَلَمُ اَحَدُ اللِّسَانَیْنِ ( یعنی قلم بھی ایک زَبان ہے ۔  )جو زَبان سے کہے پر اَحکام ہیں وُہی قلم پر ( بھی ہیں ) ۔  ( [1] )بلکہ بولنے کے مُقابلے میں لکھ کر کسی کی غیبت کرنے  یا بہتان لگانے میں گناہ میں اِضافے کے  زیادہ اِمکانات  ہیں جیسا کہ طریقۂ محمدِیہ اور اُس کی شَرح حَدِیقَۂ نَدِیہ میں ہے : لکھنا بھی بولنے ہی کی طرح ہے بلکہ بولنے سے بھی زیادہ بلیغ ( یعنی مزید اچّھی طرح پہنچنے والا )ہے کیونکہ وہ صفحات پر باقی رہتا ہے جبکہ ( زَبان سے ادا  ہونے والے )کلمات ہوا میں( منتشر ہوکر ) گم ہو جاتے ہیں اور ( تحریر کی طرح ) باقی نہیں رہتے ۔ ( [2] )

معلوم ہوا کہ  تحریر دیر تک قائم رہتی اور پڑھی جاتی ہے تو اس میں گناہ کے اِمکانات بھی بہت زیادہ ہیں لہٰذا کسی مسلمان  کے بارے میں کوئی بات لکھنے اور چھاپنے سے پہلے اچھی طرح تحقیق اور غور کر لینا چاہیے کہ اس میں  اس کی آبروریزی تو نہیں ہو رہی ۔  

دوسروں کے بجائے اپنے عیبوں پر  نظر رکھیے

اَفسوس!صَد کروڑ افسوس!آج کل شاید ہی کوئی اَخبار ایسا ہو جس میں مسلمانوں کی عزت کا تحفظ ہو ، کبھی وزیرِ اعظم ہَدفِ تنقید ہوتا ہے توکبھی صَدر ، کبھی وزیرِ اعلیٰ کی شامت آتی ہے تو کبھی گورنر کی ، اَلغرض سیاستدان ہو یا عام مسلمان اَخبارات میں عموماً سب کی عزت کی دَھجیاں اُڑائی جاتی ہیں ، بالخصوص الیکشن کے دِنوں میں تہمتوں اور غیبتوں سے بھرپور بیانات داغتے ، اَخبارات میں چھاپتے اور خوب کیچڑ اُچھالتے ہیں ۔  ہاں! اگر کسی کی بُرائی سے دوسروں کو نقصان پہنچنے کا اَندیشہ  ہو تو اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ لوگوں کو اس کے نقصان سے  بچانے کے لیے بَقَدَرِ ضَرورت صِرف  اُسی  بُرائی کا تذکِرہ کیا جا سکتا ہے ۔  اے کا ش! ہر مسلمان اپنے عیبوں پر نظر رکھے اور دوسروں کے عیب لکھ کر  چھاپنے کے بجائے ڈھاپنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی جان و مال اور عزت کا محافظ بن جائے ۔  

گناہوں بھری تحریرات پڑھنا

سُوال : کسی مسلمان کے عُیُوب     پر مشتمل خبریں یا پمفلٹ پڑھنا  کیسا ہے ؟

جواب : ایسے اَخبار و اِشتہار جو مسلمانوں کے عُیُوب و نَقائص  پر مشتمل ہوں ان کے پڑھنے اور سننے سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے ۔  ( شیخِ



[1]   فتاویٰ رضویہ ، ۱۴ / ۶۰۷ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور

[2]    حَدِیْقه  ندية  و طريقه  محمدية ، آفات الید ، ۴  / ۴۵۴  دار الکتب العلمیة بیروت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن