30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یاد رکھیے !جب بھی کسی سے دُعا کے لیے کچھ زبانی کہنا ہو یا دُعا کروانے اور تعویذات حاصِل کرنے کے لیے مکتوب بھیجنا ہو تو تفصیلات بیان کرنے کے بجائے مبہم ( یعنی بند )اَلفاظ میں بات کرنی مُناسِب ہے مَثَلاً بیٹا یا بھائی یا شوہر شراب یا جُوئے کی بُرائی میں مبتلا ہے تو اس بُرائی اور بُرائی کرنے والے کی نشاندہی کیے بغیر ان اَلفاظ میں دُعا کروا سکتے ہیں : ” میرے ایک قریبی عزیز بعض بُری عادات میں گرفتار ہیں ان کی اِصلاح کے لیے دُعا کر دیجیے ۔ “ یونہی بہن یا بیٹی بھاگ گئی یا کسی لڑکے کے چکّر میں پڑ گئی تو ان اَلفاظ میں دُعا کی دَرخواست کی جا سکتی ہے : ” میری ایک رشتے دار کسی ناقابلِ بیان بُرائی میں پڑ گئی ہے اُس کے لیے دُعا کر دیجیے ۔ “ چاہیں تو ان الفاظ میں دُعا کا کہہ دیں کہ آپ دُعا فرمائیں کہ”اللہ عَزَّوَجَلَّ میری جائز مُرادوں پر رَحمت کی نظرفرما دے “یہ بہترین جامع دُعا ہے ۔ اس طرح کے اَلفاظ کے ذَریعے دُعا کروانے کا یہ فائدہ ہو گا کہ کسی فَردِ مُعَیَّن کی غیبت بھی نہیں ہو گی اور مَخصُوص بُرائی اور خلافِ حیا اَلفاظ کے بیان کرنے اور لکھنے سے بھی بچت ہو جائے گی ۔
دیدے پَردہ بہو بیٹیوں کو
ماؤں بہنوں سبھی عورَتوں کو
ہم سبھی کو حقیقی حیا کی
میرے مولیٰ تو خیرات دے دے ( وسائلِ بخشش )
سُوال : دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اِستقامت کیسے حاصِل ہو سکتی ہے ؟
جواب : آج کے اس پُرفتن دور میں عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کسی نعمتِ غیر مُتَرَقَّبَہ( یعنی غیر متوقع طور پر ملنے والی نعمت ) سے کم نہیں لہٰذا اس میں اِستقامت پانے کے لیے اپنے اندر اس کی اَہمیت اُجاگر کیجیے کیونکہ انسان کے دِل میں جس چیز کی قدر و اَہمیت ہوتی ہے وہ اسے پانے کی کوشش کرتا اور اسے گنوانے سے بچتا ہے ۔
مَدَنی ماحول کی بَرکتوں کے بھی کیا کہنے !اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرکت سے لاکھوں مسلمانوں کو گناہوں سے توبہ کی توفیق ملی اور وہ تائِب ہو کر صلوٰۃ و سُنَّت کی راہ پر گامزن ہو گئے ۔ جو بے نمازی تھے نمازی بن گئے ، بدنگاہی کے عادی نگاہیں نیچی رکھنے کی سُنَّت پر عمل کرنے والے بن گئے ، زَرق بَرق لباس پہن کر گلے میں دوپٹا لٹکا کرتفریح گاہوں کی زینت بننے والیاں بے پردگی سے ایسی تائِب ہوئیں کہ مدنی بُرقع ان کے لباس کا حصَّہ بن گیا ، ماں باپ سے گستاخانہ اَنداز اِختیار کرنے والے اُن کا اَدب واِحترام کرنے والے بن گئے ، جن کی حَرکتوں کی وجہ سے کبھی پورا محلہ تنگ تھا وہ سارے علاقے کی آنکھوں کا تارا بن گئے ، چوری و ڈاکے کے عادی دوسروں کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنے والے بن گئے ، کسی غریب کو دیکھ کر تکبر سے ناک بھوں چڑھانے والے عاجزی کے پیکر بن گئے ، ہر وقت حسد کی آگ میں جلنے والے دوسروں کے علم وعمل میں ترقی کی دُعائیں کرنے والے بن گئے ، گانے سننے کے شوقین سنتوں بھرے بیانات اور مَدَنی مذاکرات کے کیسٹ سننے والے بن گئے ، فحش کلامی کرنے والے نعتِ مصطفے ٰ پڑھنے والے بن گئے ، یورپی ممالک کی رنگینیوں کے خواب دیکھنے والے گنبدِخضریٰ کی زیارت کے لیے تڑپنے والے بن گئے ، مال کی محبت میں مَرنے والے فکرِ آخرت میں مبتلا رہنے والے بن گئے ، شراب پینے کی عادت پالنے والے عشق ِ مصطفے ٰ کے جام پینے والے بن گئے ، اپنا وقت فضولیات میں بَرباد کرنے والے اپنا اکثر وقت عبادت میں گزارنے کے لیے مدنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع