30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جَلالپور جَٹَّاں (ضلع گجرات، پاکستان)کے محلہ کشمیرنگرکے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ ہے کہ مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل میں دین سے بہت دورتھا۔ جس کے سبب نیک اعمال کرنے سے بھی محروم تھا۔ مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ مذہبی لوگوں سے تو دور بھاگتا تھا۔ زندگی کے شب وروز یوں بداعمالیوں میں بسر ہو رہے تھے ، نہ نیکیاں کرنے کا جذبہ تھا نہ ہی گناہوں سے بچنے کا ذہن۔ سیاہ راتوں کی طرح میری گناہوں بھری زندگی میں نیکیوں کا اُجالا کچھ اس طرح ہوا کہ ہمارے علاقے میں دعوتِ اسلامی کا مدنی کام دھیرے دھیرے بڑھنے لگا۔ مدنی ماحول سے منسلک سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے اسلامی بھائی مجھ سے ملتے اور بڑے ہی شفقت بھرے انداز میں انفرادی کوشش کرتے ۔ اصلاح ِ امّت کے جذبے سے سرشار اسلامی بھائیوں کی مسلسل انفرادی کوشش آخر کار رنگ لائی اور شاید پہلی مرتبہ میں حقیقی معنوں میں اپنی آخرت کے لئے فکر مند ہوا۔ ایک بار جب ایک اسلامی بھائی نے حسب ِمعمول مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی تو میں انکار نہ کر سکا اور گناہوں کا بوجھ اُٹھائے اجتماع میں شریک ہوا۔ وہاں میں نے مبلغِ دعوتِ اسلامی کا بیان سُنا جو بڑا دلنشیں اور پُر تاثیر تھا۔ پھر ذکرُ اللہ کی صداؤں اور رقّت انگیز دُعا نے مجھے بہت متأثر کیا۔ اجتماع میں موجود نوجوان اسلامی بھائیوں کے چہروں کی نورانیت، حیاء سے جھکی ہوئی نگاہیں ، سنّت کے مطابق سفید لباس اور سر پر سبز سبز عمامہ اور زُلفیں ، بقدرِ ضرورت گفتگو کا باادب انداز خوش اخلاقی اور ملنساری دیکھ کر میں بہت متأثر ہوا اور مجھے قلبی سکون ملا۔ میں حیران تھا کہ آج کے اس پرفتن دور میں ایسا پاکیزہ ماحول بھی ہے جہاں نوجوانوں کی ایسی اصلاح ہوتی ہے ۔ یوں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول نے میرا دل جیت لیا اور میں دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہو گیا۔ نمازوں کی پابندی شروع کر دی، مدنی کاموں میں حصہ لینے لگا۔ چہرے پر سنّت کے مطابق داڑھی شریف سجالی۔ عمامہ شریف کے تاج سے ’’سرسبز‘‘ ہو گیا۔ اب میں تقریباً آٹھ سال سے یورپ میں مقیم ہوں مگر’’ اس گناہوں بھرے ماحول‘‘ میں بھی سنّتوں پر عمل کرنے کی سعادت پا رہا ہوں۔ اگر مجھے کوئی ساری دنیا کی دولت بھی دیکر مدنی ماحول چھڑوانا چاہے گاتو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ پھر بھی ایسے بابرکت مشکبار مدنی ماحول سے دوری اختیار نہیں کروں گا کہ جس نے مجھے ایمان کی حفاظت، نیک اعمال کرنے کا جذبہ اور عشقِ رسول میں تڑپنے کا قرینہ دیا۔
اللہعَزّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
(8)سُنّتوں کا دیوانہ
مدینۃالاولیاء( ملتان) کی بستی علی والہ کے مقیم اسلامی بھائی کے مکتوب کا خلاصہ ہے : میں مدنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل مختلف گناہوں میں ملوث تھا۔ فلمیں ، ڈرامے دیکھے بغیر چین نہیں آتا تھا۔ میرے ایک دوست جو کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ تھے انہوں نے مجھے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی، ان کی دعوت پر لَبَّیْک کہتے ہوئے میں زندگی میں پہلی مرتبہ سنّتوں بھرے اجتماع میں حاضرہوا، میں وہاں ہونے والے سنّتوں بھرے بیان، ذکرُاللہ ، رقّت انگیز دعا کے دوران شرکائے اجتماع کی آہ وزاری سے بے حد متأثر ہوا۔ میرے دل کی دُنیا زیروزبر ہوگئی۔ میں بھی اپنے گناہوں کو یاد کر کے خوب رویا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ میں نے اُسی اجتماع میں سچے دل سے توبہ کرلی۔ کل تک میں فلموں ڈراموں کاشوقین تھا مگر اب سنّتوں کا دیوانہ بن گیا۔ میں نے سر پر سبز عمامہ شریف کا تاج سجالیا، مدنی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع