30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
“ بسم اللہ کیجئے “ کہنا ممنوع ہے
بعض لوگ اِس طرح کہہ دیتے ہیں ، ’’بِسْمِ اللّٰهِ کیجئے !’’آؤجی بِسْمِ اللّٰهِ!میں نے بِسْمِ اللّٰه کرڈالی‘‘ ، تاجِرحضرات جودِن میں پہلاسودابیچتے ہیں اُس کو عُمُوماً ’’بَونی‘‘کہا جاتاہے مگربعض لوگ اِس کوبھی’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘کہتے ہیں ، مثلاً ’’ میری توآج ابھی تک بِسْمِ اللّٰهِ ہی نہیں ہوئی!جن جملوں کی مثالیں پیش کی گئیں یہ سب غَلَط اندازہیں۔ اسی طرح کھانا کھاتے وقت اگر کوئی آجاتاہے تواَکثرکھانے والااُس سے کہتاہے ، آئیے آپ بھی کھالیجئے ، عام طورپرجواب ملتا ہے ، ’’ بِسْمِ اللّٰهِ ‘‘یا اس طرح کہتے ہیں ، ’’ بِسْمِ اللّٰهِ کیجئے! بہارِشریعت حصّہ16صفحہ 32پر ہے : ’’اِس موقع پر اِس طرح بِسْمِ اللّٰهِکہنے کوعُلَمانے بَہُت سخْت ممنوع قرار دیا ہے ۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں ، بِسْمِ اللّٰهِ پڑھ کر کھالیجئے۔ بلکہ ایسے موقع پر دُعائیہ الفاظ کہنابہترہے ، مَثَلًا باَرکَ اللہُ لَنَا وَلَکُمْ یعنی اﷲ پاک ہمیں اور تمہیں بَرَکت دے ۔ یا اپنی مادری زَبان میں کہہ دیجئے ۔ اﷲپاک بَرَکت دے ۔
اے عاشقانِ رسول!ہر اَہم کام جیسے کھانے پینے وغیرہ کے شروع میں ’’بسم اللہ “ پڑھنا سنت ہےاورنماز میں سورۂ فاتحہ و سورت کے در میان ، اور اُٹھتے بیٹھتے کے وقت ’’بسم اللہ ‘‘پڑھنا جائز و مستحسن ہے۔ جبکہ خارجِ نماز درمیانِ سورت سے تلاوت کی ، ا بتدا کے وقت ’’بسم اللہ ‘‘پڑھنا مستحب ہے اور سورۂ توبہ کے درمیان سے پڑھتے وقت بھی یہی حکم ہے۔ (فتاویٰ فیضِ رسول ، 2 / 506)
حرام وناجائزکام سےقبل بسم اﷲشریف ہرگز ، ہرگز ، ہرگزنہ پڑھی جائے کہ’’فتاویٰ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع