30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جس نے اِسے دن کے وَقت ایما ن ویقین کے ساتھ پڑھا پھر اُسی دن شام ہونے سے پہلے اُس کاانتقال ہو گیا تو وہ جنّتی ہے اور جس نے رات کے وقت اِسے ایمان ویقین کے ساتھ پڑھا پھرصبح ہونے سے پہلے اُس کاانتقال ہوگیا تو وہ جنّتی ہے ۔ (صَحِیحُ البُخارِیّ ، ج۴ ص۱۹۰حدیث۶۳۰۶)
’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘سے متعلق چند شرعی مسائل
علماءِ کرام نے ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ سے متعلق بہت سے شرعی مسائل بیان کئے ہیں ، اُن میں سے چند درج ذیل ہیں :
(1) جو ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ ہر سورت کے شروع میں لکھی ہوئی ہے ، یہ پوری آیت ہے اور جو’’سورۂ نمل‘‘ کی آیت نمبر 30 میں ہے وہ اُس آیت کا ایک حصہ ہے۔
(2) ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ ہر سورت کے شروع کی آیت نہیں ہے بلکہ پورے قرآن کی ایک آیت ہے جسے ہر سورت کے شروع میں لکھ دیا گیا تا کہ دو سورتوں کے درمیان فاصلہ ہو جائے ، اِسی لئے سورت کے اُوپر امتیازی شان میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ لکھی جاتی ہے آیات کی طرح مِلا کر نہیں لکھتے اور امام جہری نمازوں (یعنی وہ نمازیں جن میں امام بُلند آواز میں قراءت نہیں کرتا ہے۔ ظہر وعصر)میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ آواز سے نہیں پڑھتا ، نیز حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام جو پہلی وحی لائے اس میں ’’ بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ نہ تھی۔
(3) تراویح پڑھانےوالےکو چاہیےکہ وہ کسی ایک سورت کے شروع میں ’’بِسْمِ اللّٰهِ‘‘ آواز سے پڑھے تاکہ ایک آیت رہ نہ جائے۔
(4) تلاوت شروع کرنے سے پہلے ’’ اَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ‘‘ پڑھناسنت ہے ، لیکن اگر شاگرد استاد سے قرآن مجید پڑھ رہا ہو تو اس کے لیے سنت نہیں۔ (صِراطُ الجنان ، 1 / 42 )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع