بڑی راتوں اور جشنِ ولادت کے موقع پر اچّھی اچّھی نیّتوں کے ساتھ چَراغاں کرناجائز وکارِ ثواب ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفْحات پر مشتمل کتاب، ‘’ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت‘‘صَفْحَہ174پر ہے: عَرْض : میلاد شریف میں جھاڑ (یعنی پنج شاخہ مَشْعَل) ، فانوس، فُرُوش وغیرہ سے زَیب وزینت اِسراف (یعنی فُضُول خرچی) ہے یا نہیں ؟ارشاد : عُلَما فرماتے ہیں : لَاخَیْرَ فِی الْاِسْرَافِ وَلَا اِسْرَافَ فِی الْخَیْر (یعنی اِسراف میں کوئی بھلائی نہیں اور بھلائی کے کاموں میں خَرْچ کرنے میں کوئی اِسراف نہیں ) جس شے سے تعظیمِ ذِکر شریف مقصود ہو ، ہر گز ممنوع نہیں ہوسکتی۔
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نے اِحْیاء ُ العلوم شریف میں سیِّدی ابوعلی رُوذ بارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی سے نَقْل کیا کہ ایک بندۂ صالِح (یعنی نیک شخص) نے مجلسِ ذکر شریف ترتیب دی اور اُس میں ایک ہزارشَمعیں روشن کیں ۔ ایک شخص ظاہِربِین (یعنی صِرْف ظاہر پر نظررکھنے والے) پہنچے اور یہ کیفیت دیکھ کر واپَس جانے لگے ۔ بانیِ مجلس (جو کہ خاصانِ خدا سے تھے انہوں ) نے ہاتھ پکڑا اور اندر لے جاکر فرمایا کہ جو شَمْعْ مَیں نے غیرِ خدا کے لئے روشن کی ہو وہ بُجھا دیجئے ۔ کوشِشیں کی جاتی تھیں اور کوئی شَمْعْ ٹھنڈی نہ ہوتی ۔ (اِحیاء ُ الْعُلوم ج ۲ص ۲۶ مُلَخَّصاً)
لہراؤ سبز پرچم اے آقا کے عاشِقو!
گھر گھر کرو چَراغاں کہ سرکار آگئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
٭جشنِ وِلادت کی مجلسوں ، نعت کی محفِلوں ، شادی کی تقریبوں ، دُکانوں ، کارخانوں وغیرہ وغیرہ ہر جگہ صِرْف قانونی طریقے پر بجلی استِعمال کیجئے۔ کُنڈے وغیرہ کے ذَرِیْعے بجلی چوری کرنا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔ جس نے ماضی میں ایسا کیا ہے وہ توبہ بھی کرے اور جتنی بجلی چوری کی ہے حساب لگا کر مُتَعَلِّقہ ادارے کو اُتنا بِل (BILL) ادا کرے۔
٭کمپیوٹر، مانیٹر (Monitor) ، کاپئیر، پرنٹر، ٹَیپ ریکارڈر، موبائل چارجروغیرہ جب استِعمال میں نہ ہوں تو بند کردیجئے ۔ اِسٹَینڈ بائی (Standby) رکھنے کی صورت میں بھی یہ بجلی خَرْچ کرتے ہیں ۔ بجلی بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ برقی آلات جس وَقت استِعمال میں نہ ہوں اُنہیں ‘’ پاور ساکِٹ‘‘ سے نکال دیاجائے ، تاکہ نکتے کے برابر چھوٹا سے بَلب روشن رہتا ہے وہ بھی بند ہو جائے اِس طرح کرنے میں بجلی کی بچت کے ساتھ ساتھ آپ کے بَرقی آلات کی بھی حفاظت ہے۔
٭مانیٹرکی جگہ LCDیا LEDاستعمال کرنے سے بجلی کم خَرچ ہوتی ہے ۔
٭گناہوں بھرے چینلز کے ناجائز سلسلے دیکھنے سے اپنی جان چُھڑا کر سچّی توبہ کرلیجئے اورصِرْف وصِرْف 100فیصد شَرْعی مَدَنی چینل دیکھنے کا معمول بنا یئے ، مگرایسا نہ ہو کہ مَدَنی چینل لگانے کے بعد آپ بات چیت وغیرہ میں لگ کر غافِل ہوجائیں یا گھر بھر میں یہاں وہاں گھومتے رہیں ، اگر کوئی ایک فرد بھی فائدہ نہ اُٹھا رہا ہو گا تو بجلی بے کار خَرْچ ہوتی رہے گی اور جان بوجھ کر ایسا کرنے کی صورت میں بعض صورَتوں میں آپ تَضْیِیْعِ مال (یعنی مال ضائِع کرنے) کے گناہ میں گِرِفتار اور عذابِ نار کے حقدار ہو سکتے ہیں ۔
٭ایگزاسٹ فین (Exhaust Fan) خواہ مَطْبَخ (کچنKitchen) میں ہویا کمرے میں یاکہ اِستنجا خانے میں ضَرورت پوری ہوجانے کے بعد بندکر دیجئے۔
٭پانی کا بے جااستِعمال نہ کیجئے ، موٹر زیادہ چلے گی تو بجلی بھی زیادہ خَرْچ ہوگی ۔
٭بیٹھنے یا سونے کی ترکیب یوں بنائیے کہ کم پنکھوں میں زیادہ افراد مُسْتفِید ہوسکیں ۔
٭مدارِس و جامِعات کے اساتِذہ وطَلَبہ نیز دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلوں کے مسافِر مساجِد میں بجلی کے استِعمال میں خوب محتاط رہیں کہ چندے کا مُعامَلہ بڑا سخت ہے۔ ناظِمین و امیرِ قافِلہ خاص کڑی نظر رکھا کریں ایسا نہ ہو کہ فی پنکھا ایک اسلامی بھائی سو یا پڑا ہو۔ گھر کے کمرے میں جب ایک پنکھے کے نیچے کئی افراد سو سکتے ہیں تو آخِر مساجِد و مدارِس میں کیوں نہیں سو سکتے؟
٭ الیکٹرک اَوْوَنOven) ) 600تا1500واٹ کا ہوتا ہے ، اس میں کافی بجلی خَرْچ ہوتی ہے بِلا سخت ضَرورت اِستِعمال نہ کیجئے ۔
٭یوپی ایس (U.P.S) کا استعمال کم سے کم کرنا چاہئے کیونکہ اس کی’’ بیٹری ‘‘رِی چارج (Recharge) کرنے میں 300تا400واٹ کے حساب سے بجلی خَرْچ ہوتی ہے، لہٰذا دن کے وَقت UPSبند رکھ کر کافی ساری بجلی کی بچت کی جاسکتی ہے۔ ٭ سردیوں میں استِعمال کیاجانے والا بجلی کا ہیٹر (Heater) اَوسطاً 1800واٹ کا ہوتا ہے، اِس میں بے تحاشابجلی خَرْچ ہوتی ہے۔ کم سے کم استِعمال کیجئے۔
٭اِستری 800تا 1200واٹ کی (یعنی 10تا 15چھت کے پنکھوں کے برابر) ہوتی ہے، نہایت بے دردی سے بجلی کھاتی اور خوب BILLبڑھاتی ہے، سَخْت حاجت میں ہی اِستِعمال کیجئے۔ اگر ممکِن ہوتو بِغیر اِستری کے کپڑے پہن لیجئے ، انمول وَقت کے ساتھ ساتھ پیسوں کی بھی ٹھیک ٹھاک بچت ہو گی۔
٭ لِفٹ (Lift) اچّھی خاصی بجلی کھاتی ہے، اسے کم سے کم اِستعمال کیجئے ، سیڑھیوں کے ذَرِیْعے آناجانا ایک ورزِش ہے اور بدن کیلئے طِباً مفید ہے۔
٭گھر سے باہَر جانے سے پہلے بجلی کا ہر سوِچ (SWITCH) ـ چیک کرلیجئے کہ کہیں کوئی ًبَلْب ، جل اورپنکھا وغیرہ چل تو نہیں رہا !
٭بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ باہَر جائیں تب بھی خالی گھر کابَلْب خواہ مخواہ روشن رکھتے ہیں ، بِلا حاجت ایسا نہ کریں، ہاں اس لیے روشن رکھا کہ واپسی میں روشنی ملے یا چور وغیرہ سے حفاظت رہے کہ سمجھیں کہ گھر میں کوئی ہے تو حرج نہیں۔
٭فریج وڈیپ فریزر (18کیوبِک فُٹ (FOOT) کے اَوسطاً 500واٹ کے ہوتے ہیں یہ) آپ کے گھر میں ہوں تو تقریباً25 فی صد بجلی استعمال کرتے ہیں ۔
٭بعض اوقات اپنی ضَرورت سے بڑا فریج لے لیا جاتا ہے ، یاد رکھئے! خالی فریج زیادہ بجلی کھینچتا ہے ، اگر رکھنے کو زیادہ چیزیں نہ ہوں تو پانی ہی بھر کر رکھ دیجئے اور ٹھنڈا ہونے پر ثواب کی نیّت سے مسلمانوں کو پلا دیجئے۔
٭فریج میں ایک آلہ تھرمو اسٹیٹ (Thermostat) لگا ہوتا ہے جس سے اس کی ٹھنڈک (Cooling) کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے ، زیادہ ٹھنڈک پر زیادہ بجلی صَرْف ہوتی ہے ، اس لئے فریج کی ٹھنڈک کو موسِم اور ضَرورت کے مطابِق رکھئے ۔
٭فریج یا ڈیپ فریزر کو دیوار سے لگا کر نہ رکھئے پچھلے حصّے کی طرف ہوا کا راستہ کُھلا رہے۔
٭فریج ایسی جگہ نہ رکھئے جہاں دُھوپ آتی ہو بلکہ کوشش کر کے اسے گھر میں سب سے ٹھنڈی جگہ پررکھئے۔
٭فریج کا دروازہ بار بار کھولنے سے اس کی ٹھنڈک میں کمی آتی اور بجلی زیادہ خَرْچ ہوتی ہے ۔
٭ زیادہ دیر دروازہ کُھلا رکھنے سے بھی بجلی زیادہ خَرچ ہوتی ہے ، لہٰذا کیا کیا نکالنا ہے یہ ذہن بنانے کے بعد ہی فریج کھولئے اور چیز نکالنے کے بعد دروازہ اچّھی طرح بند کر دیجئے۔
٭بار بار فریج نہ کُھلے اس کے لئے پانی کے کُولر کا استِعمال کیجئے ۔
٭ فریج میں گَرْما گَرْم غذا وغیرہ رکھنے سے اندر کا دَرَجۂ حرارت بڑھ جاتا اور بجلی زیا دہ خَرْ چ ہوتی ہے۔
٭ ریفریجریٹر کے پیچھے ننھے مُنّے پائپوں کی ایک جالی ہوتی ہے جس پرمِٹّی اورگَرد پڑتی رہتی ہے، اس سے فریج کی کارکردَگی پر اثر پڑتا ہے، ہفتے پندرہ دن میں ’’ پاوَر ساکِٹ‘‘ سے نکال کر اسے صاف کرلینا مفید ہے۔
٭ وہ فریج اور فریزر جوکہ خود بَرْف پگھلا دینے کی صلاحیّت رکھتے ہیں جنہیں ’’ نوفراسٹ‘‘ ( No frost) کہا جاتا ہے وہ نسبتاً زیادہ بجلی کھاتے ہیں ۔
٭ اپنے فریج اور فریزر میں ایک چوتھائی (4 / 1) انچ سے زیادہ بَرْف نہ جمنے دیجئے، بَرْف اُتارنے کے لئے تھوڑی دیر بند (OFF) کرکے اس کا دروازہ کھول دیجئے اور ہاتھوں سے صاف کیجئے ، حسبِ ضَرورت پلاسٹک کا چَمَّچ استِعمال کیجئے ، لوہے کیچَمَّچ یاچُھری چاقو کے استعمال سے فریج خراب ہوسکتا ہے ۔
٭ اگر چند دنوں کے لیے گھر سے باہَر جانا ہو توفریج خالی کرکے بند کردیجئے، اگر اس میں ضَروری اشیاء موجود ہوں تو کم سے کم کُولنگ (Cooling) پر ترکیب بنادیجئے۔
واشِنگ مشین کے بارے میں 3مَدَنی پھول
٭واشِنگ مشین (Washing Machine) آپ کے استِعمال کی تقریباً 20فی صد بجلی استِعمال کرتی ہے ۔
٭واشِنگ مشین پر کپڑے دھونے سے بجلی کے ساتھ کئی لیٹر پانی بھی استِعمال ہوتا ہے، اگرزیادہ کپڑے دھونے ہوں تو ہی اِستِعمال کیجئے، ایک یا دو کپڑے ہوں تو ہاتھوں سے دھولیجئے۔
٭کئی گھروں میں واشنگ مشین کے ساتھ کپڑے سُکھانے والاڈرائیر (Dryer) بھی استِعمال ہوتا ہے جس سے بجلی کاخَرْچ بڑھ جاتا ہے، اگر کُھلی جگہ اور دھوپ مُیَسَّرہوتو کپڑے بِغیر ڈرائیر کے سُکھا لیجئے۔