30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵۵)سخاوت
سخاوت بھی جنت میں لے جانے والے اعمال میں بہت ممتاز عمل ہے اس کے بارے میں بھی چند حدیثوں کی تجلیاں دیکھئے۔
حدیث : ۱
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلسَّخِیُّ قَرِیْبٌ مِّنَ اللّٰہِِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّاسِ بَعِیْدٌ مِّنَ النَّارِ وَالْبَخِیْلُ بَعِیْدٌ مِّنَ اللّٰہِ بَعِیْدٌ مِّنَ الْجَنَّۃِ بَعِیْدٌ مِّنَ النَّاسِ قَرِیْبٌ مِّنَ النَّارِ وَالْجَاھلُ السَّخِیُّ اَحَبُّ اِلیَ اللّٰہِ مِنْ عَابِدٍ بَخِیْلٍ(1) (ترمذی، ج۲، ص۱۸)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ سخی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، تمام لوگوں سے قریب ہے، جہنم سے دور ہے اور کنجوس! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، تمام لوگوں سے دور ہے، جہنم سے قریب ہے اور جاہل سخی عابد بخیل سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پیارا ہے۔
حدیث : ۲
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلسَّخَاءُشَجَرَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ فَمَنْ کَانَ سَخِیًّا اَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْھا فَلَمْ یَتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ وَالشُّحُّ شَجَرَۃٌ فِی النَّارِ فَمَنْ کَانَ شَحِیْحًا اَخَذَ بِغُضْنٍ مِنْھا فَلَمْ یَتْرُکْہُ الْغُصْنُ حَتّٰی یُدْخِلَہ النَّارَ (2) (مشکوٰۃ، ج۱، ص۱۶۷)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے تو جو شخص (دنیا میں ) سخی ہوگا وہ اس درخت کی ایک شاخ کو پکڑے گا تو وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کردے گی اور بخیلی جہنم میں ایک درخت ہے تو جو شخص (دنیا میں ) بخیل ہوگا وہ اس درخت کی ایک شاخ پکڑے گا تو وہ شاخ اس کو نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اس کو دوزخ میں ڈال دے گی۔
حدیث : ۳
عَنْ اَبِیْ بَکْرِنِالصِّدِّیْقِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ خِبٌّ وَّلَا بَخِیْلٌ وَّلَا مَنَّانٌ۔رواہ الترمذی (3) ( مشکوٰۃ، ج۱، ص۱۶۵)
حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جنت میں کمینی خصلت والااورکنجوس اوراحسان جتانے والا نہیں داخل ہوگا۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔
حدیث : ۴
وَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِیْ مُؤْمِنٍ اَلْبُخْلُ وَسُوْ ءُ الْخُلْقِ (4) (مشکوٰۃ، ج۱، ص۶۵)
حضرت ابوسعید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ دو خصلتیں مؤمن میں جمع نہیں ہوں گی کنجوسی اور بداخلاقی۔
تشریحات وفوائد
(۱)احادیث مذکورہ بالااور دوسری حدیثوں سے ظاہر ہے کہ سخاوت اللہ تَعَالٰی کو بہت پسند اور کنجوسی بہت ہی ناپسند ہے اور اللہ تَعَالٰی سخی کو جنت عطا فرمادے گااور کنجوس کو جہنم میں بھیج دے گا۔
(۲)اس عنوان کی حدیث نمبر ۳ میں جو یہ آیا ہے کہ لُچے، کنجوس، احسان جتانے والے جنت میں داخل نہیں ہوں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ لوگ ان تینوں صفتوں کے ساتھ آلودہ رہیں گے جنت میں نہیں جائیں گے اور جب یہ لوگ بُری خصلتوں سے پاک ہوجائیں گے توجنت میں جائیں گے اور اِن بری خصلتوں سے پاک ہونے کی دو صورتیں ہیں یا تو مرنے سے پہلے ان بری خصلتوں سے سچی توبہ کرلیں یا یہ کہ جہنم میں یہ لوگ اپنے گناہوں کے برابر جل لیں بہرحال جب توبہ کرکے یا اپنے گناہوں کے برابر جہنم میں جل کراِن بری خصلتوں سے پاک ہوجائیں گے توپھر صاحب ایمان ہونے کی و جہ سے جنت میں جائیں گے۔
(۳)اس عنوان کی حدیث نمبر۴کا یہ مطلب ہے کہ مؤمن میں کنجوسی اور بداخلاقی یہ دونوں بری خصلتیں بہ یک وقت جمع نہیں ہوں گی مؤمن اگر’’کنجوس‘‘ہوگاتو’’بداخلاق ‘‘ نہیں ہوگااوراگر ’’بداخلاق‘‘ہوگا تو’’کنجوس‘‘نہیں ہوگااورجس مسلمان کودیکھوکہ کنجوس بھی ہے اور بداخلاق بھی تو اس حدیث کی روشنی میں یہ سمجھ لو کہ اس شخص کے ایمان میں کچھ نہ کچھ فتو ر ضرور ہے۔
(۴)بعض حدیثوں سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تَعَالٰی کبھی کبھی اپنے بندوں کی سخاوت اور کنجوسی کا امتحان بھی لیا کرتا ہے اس لیے جب کوئی سائل تمہارے دروازے پر آئے تو ہمیشہ اس کا خیال رکھو کہ کہیں خدا عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے میرا امتحان تو نہیں ہورہا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں ہم یہاں اندھے، گنجے ، کوڑھی کے امتحان والی حدیث کا ترجمہ تحریر کرتے ہیں جو بہت ہی عبرت خیز اور نصیحت آموز ہے۔
حدیث الابرص والا قرع والا عمیٰ
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کے تین آدمی ایک کوڑھی برص والا، دوسرا گنجا، تیسرا اندھا ، اللہ تَعَالٰی نے ان تینوں کے امتحان کا ارادہ فرمایا تو ان تینوں کے پاس ایک فرشتہ کو بھیج دیا چنانچہ وہ فرشتہ سب سے پہلے برص والے کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ دنیا میں تم کو سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ اچھا رنگ ، اچھی کھال اور میری یہ بیماری چلی جائے جس کی و جہ سے تمام لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں ۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے بدن پرہاتھ پھیردیاتو ایک دم اس کامرض دفع ہوگیااور اللہ تَعَالٰی نے اس کوبہترین رنگ اوربہترین کھال عطا فرمادی پھرفرشتے نے اس سے پوچھاکہ تمہیں کون سا ساما ن پسند ہے؟ تو اس نے کہا کہ ’’اونٹ ‘‘ تو اللہ تَعَالٰی کی طرف سے اس کو ایک گابھن اونٹنی عطا کردی گئی اور فرشتہ یہ کہہ کر اس کے پاس سے چل دیا کہ اللہ تَعَالٰی تم کو برکت عطا فرمائے۔
پھر یہ فرشتہ گنجے کے پاس آیااور کہا کہ دنیا میں تم کو سب سے زیادہ کون سی چیز محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ حسین بال اور میری یہ بیماری چلی جائے جس کی و جہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں ۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے اوپر ہاتھ پھیرا تو دم زدن میں اس کی بیماری جاتی رہی اور اللہ تَعَالٰی کی طرف سے اس کو نہایت ہی حسین بال عطا کردیئے گئے۔ اس کے بعد فرشتے نے پوچھا کہ تمہیں کون سا مال پسند ہے؟ تو اس نے کہا کہ ’’گائے ‘‘ تو اس کو ایک گابھن گائے عطا کردی گئی اور فرشتہ یہ کہہ کر چل دیا کہ اللہ تَعَالٰی تم کو برکت دے۔
اس کے بعد یہ فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ دنیا میں تم کو کون سی چیز سب سے زیادہ محبوب ہے؟ تو اس نے کہا کہ بس یہی کہ اللہ تَعَالٰی میری بینائی کو واپس عطافرمادے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں ۔ یہ سن کر فرشتے نے اس کے اوپر ہاتھ پھرا دیا توفوراً ہی بینا ہوگیا اور اللہ تَعَالٰی نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔ پھر فرشتے نے کہا کہ تم کو کون سا مال زیادہ پسند ہے؟ تو اس نے کہاکہ ’’ بکری‘‘ تو اس کو ایک گابھن بکری عطا کردی گئی پھر اونٹنی، گائے، بکری تینوں نے بچے دیئے اور ان میں اس قدر برکت ہوئی کہ کوڑھی کے پاس ایک میدان بھر کر اونٹ ہوگئے۔ اور گنجے کے پاس ایک میدان بھر کر’’ گائیں ‘‘ہوگئیں اور اندھے کے پاس ایک میدان بھر کر بکریاں ہوگئیں ، پھر کچھ دنوں کے بعد یہی فرشتہ برص والے کوڑھی کے پاس اپنی اُسی شکل و صورت میں آیا جس شکل و صورت میں پہلی مرتبہ آیا تھااور آکر اس نے کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اور میرے سفر کے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں اب اللہ تَعَالٰی کے سوا کوئی مجھے وطن میں پہونچانے والا نہیں ہے میں تم سے اس اللہ کے نام پر جس نے تمہیں اچھا رنگ اور خوبصورت چمڑا اور اونٹ کی دولت عطا کی ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں کہ اس کے ذریعے میں اپنا سفر تمام کرلوں ۔ یہ سن کر کوڑھی نے جواب دیاکہ مجھ پر بہت سے حقوق ہیں ( یعنی بہت سے لوگوں کو اور بہت سے کاموں میں دینا ہے) فرشتے نے کہا کہ میں تم کو پہچانتا ہوں کہ کیا تم کوڑھی نہیں تھے؟ کہ تمہارے برص کی و جہ سے تمام لوگ تم سے نفرت اور گھن کرتے تھے اور تم فقیر تھے تو اللہ تَعَالٰی نے تمہاری بیماری دور کرکے تمہیں مال عطافرمادیا یہ سن کر کوڑھی نے کہا کہ مجھے تو یہ مال اپنے بزرگوں سے میراث میں ملا ہے۔ فرشتے نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو تو اللہ تَعَالٰی پھر تمہیں ویسا ہی کردے جیسے کہ تم پہلے تھے۔
پھر وہ فرشتہ اپنی صورت میں گنجے کے پاس آیا اور ویسے ہی سوال کیاجیسے کہ کوڑھی سے کیا تھااور گنجے نے بھی وہی جواب دیا جو کوڑھی نے دیا تھا تو فرشتہ اس کے پاس سے بھی یہی کہہ کر چل دیا کہ اگر تو جھوٹ بول رہا ہے تو اللہ تَعَالٰی پھرتجھے ویسا ہی کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔
اس کے بعد یہ فرشتہ اپنی پہلی ہی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا اور کہا کہ میں ایک مسکین آدمی ہوں اورمسافرہوں میرے سفرکے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہیں اب اللہ کی مدد کے سوا میرے وطن پہنچنے کی کوئی صورت ہی نہیں ہے میں تم سے اُس اللہ کے نام پر جس نے دوبارہ تم کو بینائی عطا کی ایک بکری مانگتا ہوں کہ اس کو میں اپنے وطن پہنچنے کا ذریعہ بناؤں ، یہ سن کر اندھے نے کہا کہ جی میں تو اندھاتھا تو اللہ نے مجھے دوبارہ بینائی عطا فرمادی (تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر سوال کیا ہے) تو اس میدان میں میری جتنی بکریاں ہیں ان میں سے جتنی چاہو تم لے جاؤ اور جتنی چاہو چھوڑ جاؤ خدا کی قسم تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نام پر جتنی بھی لے لو گے میں تم سے اس کا مطالبہ کرکے تمہیں مشقت میں نہیں ڈالوں گا۔
یہ سن کر فرشتہ نے کہا کہ تم اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو تم تینوں کا امتحان لیا گیا ہے تو اللہ تَعَالٰی تم سے خوش ہوگیا اور تمہارے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوگیا۔(5) اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ (مشکوٰۃ، ج۱، ص۱۶۵)
گوشت پتھر ہوگیا
اسی طرح ایک دوسری حدیث بھی بہت ہی عبرت ناک اور رقت انگیز ہے جس کے راوی حضرت عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایک آزاد کردہ غلام ہیں ۔ ان کا بیان ہے کہ اُم المؤمنین حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اکے پاس کسی نے ہدیہ میں ایک بوٹی گوشت بھیجا تو چونکہ نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوگوشت بہت پسند تھا اُم المؤمنین نے خادمہ سے کہاکہ اس گوشت کوگھرمیں رکھ دوشایدنبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کوکھائیں ۔ چنانچہ خادمہ نے اس گوشت کو گھر کے طاق میں رکھ دیا اس کے بعد ایک سائل آیا اور دروازے پر یہ صدا لگائی کہ صدقہ دو اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم گھر والوں کو برکت دے ۔یہ سن کر گھر والوں نے کہہ دیا کہ اے سائل! اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم کو برکت دے یہ سن کر سائل چلا گیا پھر اس کے بعد نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مکان میں داخل ہوئے اور فرمایا کہ اے اُمِ سلمہ! تمہارے پاس کوئی کھانے کی چیز ہے کہ میں اس کو کھاؤں تو حضرت اُمِ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے نوکرانی سے فرمایا کہ تم جاؤ اور رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لیے وہ گوشت لاؤ تونوکرانی گئی لیکن اس طاق میں اس کو ایک چکنے پتھر کے ٹکڑے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ملا اس پر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے فقیر کو گھر میں گوشت ہوتے ہوئے نہیں دیا اور واپس لوٹا دیا تو وہ گوشت پتھر ہوگیا۔ اس حدیث کو امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں روایت فرمایا ہے۔(6) (مشکوٰۃ، ج۱، ص۱۶۶)
1 سنن الترمذی ، کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی السخائ ، الحدیث۱۹۶۸ ، ج۳ ، ص۳۸۷
2 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الزکاۃ ، باب الانفاق۔۔۔الخ ، الحدیث : ۱۸۸۶ ، ج۱ ، ص۳۵۸
3 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الزکاۃ ، باب الانفاق۔۔۔الخ ، الحدیث : ۱۸۷۳ ، ج۱ ، ص۳۵۵
4 سنن الترمذی ، کتاب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی البخل ، الحدیث۱۹۶۹ ، ج۳ ، ص۳۸۷
5 صحیح البخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب حدیث ابرص۔۔۔الخ ، الحدیث۳۴۶۴ ، ج۲ ، ص۴۶۳
6 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الزکاۃ ، باب الانفاق۔۔۔الخ ، الحدیث : ۱۸۸۰ ، ج۱ ، ص۳۵۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع