30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۲۱) جہاد
حدیث : ۱
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ جَاھدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوْجَلَسَ فِیْ اَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْھا قَالُوْا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلَا نُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ اَعَدَّھا اللّٰہُ لِلْمُجَاھدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ(1) (بخاری، ج۱، ص۳۹۱)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لایا اور نماز قائم کی اور رمضان کا روزہ رکھا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حق ہے کہ اس شخص کو جنت میں داخل کردے خواہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرے یا جس زمین میں وہ پیدا ہوا وہیں بیٹھا رہے۔ یہ سن کر صحابہ علیہم الرضوان نے کہا کہ یا رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! کیا ہم یہ خوشخبری لوگوں کو نہ سنادیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں ایک سو درجات ایسے ہیں جن کو اللہ تَعَالٰی نے انہی لوگوں کے لیے تیار کررکھا ہے جو لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور ان درجات کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنی کہ آسمان و زمین کے درمیان دوری ہے۔
حدیث : ۲
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْتَدَبَ اللّٰہُ لِمَنْ خَرَجَ فِیْ سَبِیْلِہٖ لَا یُخْرِجُہٗ اِلَّا اِیْمَانٌ بِیْ وَتَصْدِیْقٌ بِرُسُلِیْ اَنْ اُرْجِعَہٗ بِمَا نَالَ مِنْ اَجْرٍ وَّغَنِیْمَۃٍ اَوْاُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ۔متفق علیہ(2) ( مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۲۹)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ اللہ تَعَالٰی نے اس شخص کے لیے ذمہ داری قبول کرلی ہے کہ جو مجھ پر ایمان لاتے ہوئے اور میرے رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے جہاد میں نکلا اس کو میں یا تو ثواب اور مال غنیمت دے کر اس کے گھر لوٹاؤں گا یا اس کو جنت میں داخل کردوں گا۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں ہے۔
حدیث : ۳
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ قَالَ مَرَّ رَجَلٌ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشِعْبٍ فِیْہِ عُیَیْنَۃٌ مِّنْ مَّائٍ عَذْبَۃٌ فَاَعْجَبَتْہٗ فَقَالَ لَوِ اعْتَزَلْتُ النَّاسَ فَاَقَمْتُ فِیْ ھٰذَا الشِّعْبِ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَاِنَّ مَقَامَ اَحَدِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَفْضَلُ مِنْ صَلٰوتِہٖ فِیْ بَیْتِہٖ سَبْعِیْنَ عَامًا اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰہُ لَکُمْ وَیُدْخِلَکُمُ الْجَنَّۃَ اُغْزُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ مَنْ قَاتَلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَوَاقَ نَاقَۃٍ وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔رواہ الترمذی(3) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۳۲)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ علیہم الرضوان میں سے ایک مرد کا ایک ایسی گھاٹی میں گزر ہوا کہ اس میں میٹھے پانی کا ایک چشمہ تھا۔جس نے اس کو تعجب میں ڈال دیا تو وہ کہنے لگا کہ کاش! میں تمام لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اسی گھاٹی میں مقیم ہوجاتا جب حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اُس شخص کا ذکرکیاگیاتوآپ نے اُس شخص سے فرمایاکہ تم ایسا مت کرو اس لیے کہ تم لوگوں میں سے کسی کا جہاد میں ایک پڑاؤ کرنا اپنے گھر میں رہ کر ستر برس نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے۔ کیا تم لوگ اس کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تَعَالٰی تمہاری مغفرت فرما کر تمہیں اپنی جنت میں داخل کر دے۔ تم لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرتے رہو، جو شخص اونٹنی دوہنے کی مدت بھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جنگ کرے گا تو اس کے لیے جنت واجب ہوجائے گی۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے۔
حدیث : ۴
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْلَا اَنَّ رِجَالًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَا تَطِیْبُ اَنْفُسُھمْ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنِّیْ وَلَا اَجِدُ مَا اَحْمِلُھمْ عَلَیْہِ مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِیَّۃٍ تَغْزُوْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوَدِدْتُ اَنْ اُقْتَلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ ثُمَّ اُحْیٰی ثُمَّ اُقْتَلُ۔متفق علیہ(4) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۲۹)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاہے کہ کچھ مومن مرد ایسے ہیں کہ مجھ سے بچھڑ جانا ان کے دلوں کو اچھا نہیں لگتا اور میں اِتنی سواریاں نہیں پاتاکہ ان کو سوار کرادوں ۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو میں کبھی کسی ایسے لشکرسے پیچھے نہ رہ جاتا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے جارہاہو۔ اور مجھے اس ذات کی قسم ہے کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ یقیناً میری یہ تمناہے کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں قتل کیاجاؤں پھرزندہ کیاجاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ، پھر قتل کیا جاؤں ۔ یہ بخاری ومسلم کی حدیث ہے۔
حدیث : ۵
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رِبَاطُ یَوْمٍ وَ لَیْلَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَھرٍ وَّقِیَامِہٖ وَاِنْ مَاتَ جَرٰی عَلَیْہِ عَمَلُہُ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہٗ وَاُجْرِءَعَلَیْہِ رِزْقُہٗ وَاَمِنَ الفَتَّانَ۔رواہ مسلم (5) ( مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۲۹)
حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا ہے کہ ایک دن اور ایک رات جہاد میں گھوڑا باندھنا ایک مہینے کے روزوں اور رات میں نمازوں سے بہتر ہے اور اگر وہ جہاد میں مرگیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کرتا تھا جاری رکھاجائے گا اور اس کی روزی جاری رکھی جائے گی اوروہ تمام فتنوں میں ڈالنے والوں (شیطان و دجال وغیرہ) سے بے خوف کردیا جائے گا ۔اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
تشریحات و فوائد
(۱)اس عنوان کی حدیث نمبر ۳ سے معلوم ہوا کہ مسلمان اپنے گھر میں بیٹھ کر چاہے جتنی عبادت زیادہ کرسکے کرے مگر وہ کبھی ہر گز ہرگز کسی مجاہد کے برابر ثواب حاصل نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ مجاہد جہاد کے سفر میں کہیں آتے جاتے کسی منزل پر صرف پڑاؤ کرلے اور کوئی عبادت نہ کرے پھر بھی اس کو ستر برس کے لگاتار دن کے روزوں اور رات بھرکی نمازوں سے بڑھ کرثواب ملے گااوراونٹنی دوہنے کی مدت بھریعنی دس یاپندرہ منٹ تک جو جہاد میں جنگ کرے گا اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے سبحان اللہ ، سبحان اللہ بڑا رتبہ ہے مجاہد فی سبیل اللہ کا۔خداوندِ کریم ہر مسلمان کو اللہ کی راہ میں جہاد کی کرامت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(۲)اس عنوان کی حدیث نمبر ۴سے ظاہرہوتاہے کہ خدا کے محبوب حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوجہادمیں شہیدہونے کی کس قدر زیادہ تمنا تھی کہ آپ علی الاعلان فرماتے ہیں کہ میری دلی تمنا یہی ہے کہ میں تین مرتبہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں قتل کیا جاؤں اور تین مرتبہ زندہ کیاجاؤں اورپھرچوتھی مرتبہ قتل کیاجاؤں توزندہ نہ کیاجاؤں کیونکہ چوتھی مرتبہ قتل ہونے کے بعدزندہ ہونے کی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تمناظاہرنہیں فرمائی۔
(۳)حدیث نمبر۵ میں مجاہد کے عمل جاری رہنے کا یہ مطلب ہے کہ مجاہد اپنی زندگی میں نمازو روزہ اور دوسری قسم قسم کی عبادتیں جو کیا کرتا تھا اگر حالت جہاد میں وہ اگرچہ اپنے بستر پر مرگیا۔مگرچونکہ جہاد کے دوران اس کی موت ہوتی ہے اس لیے اس کو یہ کرامت نصیب ہوگی کہ وہ اپنی زندگی میں جتنی عبادتیں کیا کرتا تھا اب وہ مرگیا اور کوئی عبادت بھی نہیں کرتا مگر اس کے نامۂ اعمال میں ان سب عبادتوں کا ثواب روزانہ لکھا جائے گا جو وہ کیا کرتا تھا اور برابر جنت میں اس کی روزی اس کو ملتی رہے گی اور اللہ تَعَالٰی اس کو تمام فتنہ میں ڈالنے والوں یعنی شیطان، دجال، وغیرہ سے بے خوف کردے گا اور قبر میں منکر و نکیر کے سوال و جواب کی آزمائش اور قیامت کے زلزلہ کی ہولناکیوں وغیرہ کی تمام آزمائشوں اور امتحانوں سے وہ بے خوف ہوجائے گا۔ و اللہ تَعَالٰی اعلم
بہرحال ان سب حدیثوں کا حاصل یہ ہے کہ جہاد جنت میں لے جانے والا ایک بہت ہی اعلیٰ درجے کا عمل ہے اوردر حقیقت جہاد بہشت کی کنجیوں میں سے ایک بڑی کنجی اور جنت کی سڑکوں میں سے بہت بڑی سڑک بلکہ شاہراہ ہے۔
(۲۲) شہادت
خدا عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں شہید ہوجانا یہ بھی جنت میں لے جانے والے اعمال میں سے ایک بہت اعلیٰ اور اطمینان بخش عمل صالح ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تَعَالٰی نے شہیدوں کے لیے حیات جاودانی کی بشارت اور جنۃ الفردوس کی خوشخبری دی ہے۔ شہادت کے فضائل میں سینکڑوں حدیثوں میں سے یہ چند حدیثیں درج ذیل ہیں ان کو بغور پڑھئے اور اپنے اندر جوش جہاد اور شہادت کا جذبہ پیدا کرکے حیاتِ جاودانی، باغِ بہشت کی شادمانی اور جنتی زندگانی کی کرامت حاصل کرنے کی کوشش کیجئے۔
حدیث : ۱
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَضْحَکُ اللّٰہُ تَعَالٰی اِلٰی رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ اَحَدُھمَا الْاٰخَرَ یَدْخُلَانِ الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُ ھٰذَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیُقْتَلُ ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَی الْقَاتِلِ فَیُسْتَشْھدُ۔متفق علیہ (6) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۲۳۰)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ اللہ تَعَالٰی ان دو آدمیوں سے بہت خوش ہوجاتا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کردیتا ہے پھر وہ دونوں جنت میں داخل ہوجاتے ہیں ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جنگ کرتے ہوئے قتل ہوجاتا ہے پھر اللہ تَعَالٰی قاتل کی توبہ قبول فرمالیتا ہے اور پھر و ہ بھی شہید ہو جاتا ہے۔
حدیث : ۲
عَنْ اَنَسٍ اَنَّ الرُّبَیِّعَ بِنْتَ الْبَرَائِ وَھیَ اُمُّ حَارِثَۃَ بْنِ سُرَاقَۃَ اَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَلَا تُحَدِّثُنِیْ عَنْ حَارِثَۃَ وَکَانَ قُتِلَ یَوْمَ بَدْرٍ اَصَابَہٗ سَھمٌ غَرْبٌ فَاِنْ کَانَ فِی الْجَنَّۃِ صَبَرْتُ وَاِنْ کَانَ غَیْرَ ذٰلِکَ اِجْتَھدْتُ عَلَیْہِ فِی الْبُکَائِ فَقَالَ یَا اُمَّ حَارِثَۃَ اِنَّھا جِنَانٌ فِی الْجَنَّۃِ وَاِنَّ ابْنَکَ اَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْاَعْلٰی۔رواہ البخاری (7) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۳۱)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت ربیع بنت براء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ انے جوحارثہ بن سراقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی ماں ہیں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کیا آپ حارثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ بیان فرمائیں گے؟ حارثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ جنگ بدر کے دن قتل ہوگئے تھے، ان کو ایک نامعلوم تیر لگ گیا تھا۔ اگر وہ جنت میں ہوں جب تو میں صبر کروں گی اور اگر اس کے سوا کوئی بات ہو تو میں ان پر رونے میں پوری کوشش کروں گی۔ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اے حارثہ کی ماں !بے شک جنت کے اندربہت سی جنتیں ہیں اوریقین رکھ کہ تیرابیٹا فردوس اعلیٰ میں ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے نقل کیا ہے۔
حدیث : ۳
عَنْ سَالِمٍ اَبِی النَّضْرِ قَالَ کَتَبَ اِلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اَبِیْ اَوْفٰی اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاعْلَمُوْا اَنَّ الْجَنَّۃَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ (8) (بخاری، ج۱، ص۳۹۵)
حضرت سالم ابونضر سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے پاس عبد اللہ بن ابی اوفی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے لکھ کر بھیجا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ فرمایا ہے کہ تم لوگ یقین کے ساتھ جان لو کہ بے شک جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔
حدیث : ۴
عَنْ عُمَرَ قَالَ اَللّٰھمَّ ارْزُقْنِیْ شَہَادَۃً فِیْ سَبِیْلِکَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُوْلِکَ(9) (بخاری، ج۱، ص۲۵۳)
حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، انہوں نے یہ کہا کہ اے اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ مجھے تو اپنی راہ میں شہادت نصیب کر اور اپنے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شہر میں مجھے موت دے۔
حدیث : ۵
عَنْ اَبِیْ مَالِکِنِالْاَشْعَرِیِّ مَنْ خَرَجَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَمَاتَ اَوْقُتِلَ فَھوَ شَھیْدٌ اَوْوَقَصَتْہٗ فَرَسُہٗ اَوْبَعِیْرُہٗ اَوْلَدَغَتْہٗ ھامَّۃٌ اَوْمَاتَ عَلٰی فِرَاشِہٖ بِاَیِّ حَتْفٍ شَاءَ اللّٰہُ فَھوَ شَھیْدٌ (10)
(کنز العمال، ج۴، ص۱۸۶)
حضرت ابومالک اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ (جہاد)میں نکلاپھرمرگیایاقتل کیاگیاتووہ شہیدہے یااس کواس کے گھوڑے یا اونٹ نے کچل دیایااس کوکسی زہریلے جانورنے ڈس لیایااپنے بچھونے پرجس موت کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہاوہ مرگیاتووہ بھی شہیدہے۔
حدیث : ۶
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِیْکٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الشَّھادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَلْمَطْعُوْنُ شَھیْدٌ وَالْغَرِیْقُ شَھیْدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الجَنْبِ شَھیْدٌ وَالْمَبْطُوْنُ شَہِیْدٌ وَصَاحِبُ الْحَرِیْقِ شَھیْدٌ وَالَّذِیْ یَمُوْتُ تَحْتَ الْھدْمِ شَھیْدٌ وَالْمَرْأَۃَ تَمُوْتُ بِجُمْعٍ شَھیْدٌ۔ رواہ مالک وابوداودوالنسائی(11) (مشکوٰۃ ، ج۱، ص۱۳۶)
حضرت جابربن عتیک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں قتل ہوجانے کے سوا سات دوسری شہادتیں بھی ہیں : طاعون میں مراہوا شہید ہے، ڈوب کر مرا ہوا شہید ہے، نمونیا میں مرا ہوا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرا ہوا شہید ہے، آگ میں جل کر مرا ہوا شہید ہے اور وہ شخص جو کسی چیز سے دب کر مرا ہووہ شہید ہے اوروہ عورت جو حالتِ نفاس میں مر جائے وہ بھی شہید ہے۔ اس حدیث کو امام مالک اور ابوداود و نسائی نے روایت کیا ہے۔
حدیث : ۷
عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ اَحَدٍ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا وَلَہٗ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَیْئٍ اِلَّا الشَّھیْدُ یَتَمَنّٰی اَنْ یَّرْجِعَ اِلَی الدُّنْیَا فَیُقْتَلَ عَشَرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ۔متفق علیہ (12) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۳۰)
حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ کوئی شخص ایسانہیں ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں آنے کو پسند کرے اگرچہ اس کو روئے زمین کی ہر چیز مل جائے۔ مگر شہید اس بات کی تمنا کرے گا کہ وہ پھر لوٹ کردنیا میں جائے اور دس مرتبہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو ۔یہ تمنا اس لیے کرے گا کہ وہ جنت میں شہداء کی فضیلت دیکھ چکاہے تواس کویہ خواہش باربارہوگی کہ باربارشہیدکیاجاؤں تاکہ اورزیادہ اجرملے ۔
حدیث : ۸
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اَبْوَابَ الْجَنَّۃِ تَحْتَ ظِلَالِ السُّیُوْفِ فَقَامَ رَجُلٌ رَثُّ الْھیْئَۃِ فَقَالَ یَا اَبَا مُوْسٰی اَنْتَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ ھٰذَا قَالَ نَعَمْ فَرَجَعَ اِلٰی اَصْحَابِہٖ فَقَالَ اَقْرَأُ عَلَیْکُمُ السَّلَامَ ثُمَّ کَسَرَجَفْنَ سَیْفِہٖ فَأَلْقَاہُ ثُمَّ مَشٰی بِسَیْفِہٖ اِلَی الْعَدُوِّ فَضَرَبَ بِہٖ حَتّٰی قُتِلَ۔رواہ مسلم(13) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۳۴)
حضرت ابوموسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ یقینا جنت کے دروازے تلواروں کے سائے کے نیچے ہیں یہ سن کر ایک پراگندہ حال مرد کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا کہ اے ابو موسیٰ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کیا آپ نے رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ تو حضرت ابوموسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ ہاں ! پھر وہ مرد اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا کہ میں آپ لوگوں کو سلام کرتا ہوں پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام کو توڑ کر پھینک دیا پھر تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھا اور تلوار چلاتا رہا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
حدیث : ۹
عَنْ اَبِیْ ھرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الشَّھیْدُ لَا یَجِدُ اَلَمَ الْقَتْلِ اِلَّا کَمَا یَجِدُ اَحَدُکُمْ اَلَمَ الْقَرْصَۃِ۔رواہ الترمذی(14) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۳۳)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہاکہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ شہیدکوقتل ہونے کے وقت صرف اتنی تکلیف ہوتی ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا۔اس حدیث کوترمذی نے روایت کیاہے۔
حدیث : ۱۰
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرَبَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلشَّھیْدِ عِنْدَ اللّٰہِ سِتُّ خِصَالٍ یُغْفَرُ لَہٗ فِیْ اَوّلِ دَفْعَۃٍ وَیُرٰی مَقْعَدَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ وَیُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَیَأْمَنُ مِنَ الْفَزْعِ الْاَ کْبَرِ وَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِہٖ تَاجُ الْوَقَارِ الْیَاقُوْتَۃُ مِنْھا خَیْرٌ مِّنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھا وَیُزَوَّجُ ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ زَوْجَۃً مِّنَ الْحُوْرِالْعِیْنِ وَیُشَفَّعُ فِیْ سَبْعِیْنَ مِنْ اَقْرِبَائِہٖ۔رواہ الترمذی وابن ماجہ (15)
(مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۳۳)
حضرت مِقدام بن معدیکرب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ شہید کے لیے چھ فضیلتیں حاصل ہیں ۔(۱) خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔(۲)بوقتِ شہادت وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتاہے۔(۳)عذابِ قبرسے محفوظ رہتاہے۔(۴)قیامت کے دن کی پریشانیوں اور گھبراہٹوں سے بے خوف ہوجاتاہے۔(۵)اس کے سرپرعزت کاتاج رکھاجاتاہے۔
جس کا ایک یا قوت دنیا اور اس کی تمام کائنات سے زیادہ بہتر اور قیمتی ہوگا اور بہتّربی بیاں اُس کو حوروں میں سے ملیں گی۔(۶) سترّرشتہ داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
(ترمذی و ابن ماجہ)
تشریحات و فوائد
اس عنوان کے تحت دس حدیثیں اوران کے تراجم ہم تحریر کرچکے اور ان سب حدیثوں سے شہادت کے بلند درجات اور اس کی فضیلتوں کا حال نہایت ہی تفصیل و وضاحت کے ساتھ معلوم ہوجاتا ہے۔
(۱)حدیث نمبر ۱ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کافر نے کسی مسلمان کو شہید کردیا تو شہید سے اللہ تبارک و تَعَالٰی خوش ہوکراس کوجنت عطافرمادے گاپھروہ کافرمسلمان ہوجائے اور وہ بھی کفار سے جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے تو اس سے بھی اللہ تَعَالٰی خوش ہو کر اس کوجنت میں بھیج دے گا۔اس طرح قاتل و مقتول دونوں جنت میں گئے اوردونوں سے خدا عَزَّ وَجَلَّ خوش ہوگیا۔
(۲)حدیث نمبر ۲سے صاف صاف معلوم ہوا کہ شہیدکو جنت میں فردوسِ اعلیٰ کا محل عطا کیا جاتا ہے۔
(۳)حدیث نمبر ۳ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تلوار کے نیچے پڑ کر شہید ہوجانا یہ جنت میں جانے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ توگویا جنت تلوار کے سائے کے نیچے ہے۔
(۴)حدیث نمبر ۴ میں حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی دعا کا ذکر ہے وہ ہمیشہ خلوص قلب کے ساتھ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔اور بحمد اللہ تَعَالٰی ان کی دعا مقبول ہوگئی کہ اُن کو شہر مدینہ کی مسجد نبوی میں بحا لتِ نماز فجر ابولولو فیروز مجوسی کافر نے خنجر مار کر شہید کردیا۔ اس طرح آپ کو شہادت بھی مل گئی اور رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں آپ کی وفات بھی ہوگئی۔آپ کی شہادت کاپوراواقعہ ہماری کتاب’’دوحقانی تقریریں ‘‘ میں پڑھیے۔
(۵)حدیث نمبر ۵ سے معلوم ہوا کہ جو شخص جہاد کے لیے اپنے گھر سے نکل گیا۔ اب خواہ اس کو کسی طرح بھی موت آئے مگر بہرحال اس کو شہادت کا درجہ ملے گا۔
(۶)حدیث نمبر ۶کاحاصل یہ ہے کہ ان ساتوں کوشہیدفی سبیل اللہ کاثواب ملے گا اگرچہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں سرکٹاکرشہیدہونے والے اوران لوگوں کے درجات ومراتب میں بڑافرق ہوگایہ اللہ تَعَالٰی کافضل وکرم ہے کہ ان امراض وعوارض میں مرنے والوں کو بھی شہیدکاثواب ملے گا۔
(۷)حدیث نمبر۸سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کو کس قدر جذبۂ جہاد اور شہادت حاصل کرنے کا شق تھا، اللہ اکبر! اللہ اکبر!اس حدیث کا مطلب حدیث نمبر ۳ کی تشریح میں گزر چکا ہے۔
(۸)حدیث نمبر ۹ سے پتا چلتا ہے کہ شہید کو جذبۂ شہادت کی ایسی لذت ملتی ہے کہ بڑے سے بڑے زخم لگنے کی بس اُس کو اتنی ہی تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا ہو۔ شہادت کی لذت کو بیان کرنے کے لیے کوئی لفظ نہیں مل سکتا اس لذت کو تو بس وہی جان سکتا ہے جس کو یہ رُتبۂ بلندمل جائے اور ہر ایک کوشہادت کا یہ بلند رتبہ کہاں ملتا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ
یہ رُتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
شہادت ملنے کا آسان طریقہ
حضرت سہل بن حنیف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ جو صدق دل سے خداوند تَعَالٰی سے شہادت مانگتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اس کو شہداء کا مرتبہ عطا فرمادیتا ہے خواہ وہ اپنے بستر ہی پر مرے۔(16) (مسلم) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۳۳۰)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو ہمیشہ سچے دل اور سچی نیت کے ساتھ خداوند تَعَالٰی سے شہادت حاصل ہونے کی دعا مانگتا رہے گا تو وہ خواہ کسی بھی بیماری میں اور کہیں بھی اور کسی حال میں بھی مرے مگر وہ قیامت کے دن شہیدوں کی صف میں کھڑا ہوگا اور اللہ تَعَالٰی اس کو شہداء کرام کے مراتب و درجات عطا فرمائے گا۔سبحان اللہ ، سبحان اللہ ۔
زندہ جاوید ہیں ملت کے شہیدانِ کرام نوجوانو! تمہیں معلوم بھی ہے اُن کا مقام
یہ وہ مرحوم ہیں جن کے لیے خود رحمت حق لے کے آتی ہے حیاتِ ابدی کا پیغام
اُن کی لاشوں پہ فرشتوں کی صفیں ہوتی ہیں لے کے اترے ہیں خوشنودی رب کا پیغام
زندہ ہے ملت بیضاء شہداء کے دم سے اُن کی روحوں پہ ہوسوبار درود اور سلام
1 صحیح البخاری ، کتاب الجھادوالسیر ، باب درجات۔۔۔الخ ، الحدیث : ۲۷۹۰ ، ج۲ ، ص۲۵۰
2 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجہاد ، الفصل الاول ، الحدیث : ۳۷۸۹ ، ج۲ ، ص۲۳
3 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجہاد ، الفصل الثانی ، الحدیث : ۳۸۳۰ ، ج۲ ، ص۳۰
4 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجہاد ، الفصل الاول ، الحدیث : ۳۷۹۰ ، ج۲ ، ص۲۳
5 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجہاد ، الفصل الاول ، الحدیث : ۳۷۹۳ ، ج۲ ، ص۲۴
6 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجہاد ، الفصل الاول ، الحدیث : ۳۸۰۷ ، ج۲ ، ص۲۶
7 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجہاد ، الفصل الاول ، الحدیث : ۳۸۰۹ ، ج۲ ، ص۲۷
8 صحیح البخاری ، کتاب الجھادوالسیر ، باب الجنۃ۔۔۔الخ ، الحدیث : ۲۸۱۸ ، ج۲ ، ص۲۵۹
9 صحیح البخاری ، کتاب فضائل المدینۃ ، باب ۱۳ ، الحدیث : ۱۸۹۰ ، ج۱ ، ص۶۲۲
10 کنزالعمال ، کتاب الجہاد ، الباب الاول ، الحدیث : ۱۰۶۴۰ ، ج۲ ، الجزئ۴ ، ص۱۳۳
11 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجنائز ، باب عیادۃالمریض۔۔۔الخ ، الحدیث : ۱۵۶۱ ، ج۱ ، ص۲۹۹
12 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجھاد ، الفصل الاول ، الحدیث : ۳۸۰۳ ، ج۲ ، ص۲۵
13 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجھاد ، الفصل الثالث ، الحدیث : ۳۸۵۲ ، ج۲ ، ص۳۳
14 مشکاۃ المصابیح ، کتاب الجھاد ، الفصل الثانی ، الحدیث : ۳۸۳۶ ، ج۲ ، ص۳۱
15 مشکاۃ المصابیح ، کتاب الجھاد ، الفصل الثانی ، الحدیث : ۳۸۳۴ ، ج۲ ، ص۳۰
16 صحیح مسلم ، کتاب الجھاد ، باب استحباب طلب۔۔۔الخ ، الحدیث۱۹۰۹ ، ص۱۰۵۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع