دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bihisht ki Kunjiyan | بہشت کی کنجیاں

Aulad Ki Maut Par Sabar Karne Ki Kya Fazeelat Hai

book_icon
بہشت کی کنجیاں
            

(۳۸)بچوں کی موت

حدیث : ۱ حضرت اَنس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ہے کہ جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پا گئے تو اُس کو اللہ تَعَالٰی اپنے فضل و رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا۔ (1) (بخاری، ج۱، ص۱۶۷) حدیث : ۲ حضرت ابوسعید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ عورتوں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کیا کہ آپ عورتوں کے لیے (وعظ کا) ایک دن مقرر فرما دیجئے۔ توحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان عورتوں سے وعظ میں فرمایا کہ جس عورت کے تین بچے مرگئے ہوں وہ بچے اُس عورت کے لیے جہنم سے حجاب بن جا ئیں گے۔یہ سن کر ایک عورت نے کہا کہ اگر کسی کے دو ہی بچے مرگئے ہوں ؟ توآپ نے فرمایاکہ دو بچے بھی۔(2) (جہنم سے حجاب بن جائیں گے۔) (بخاری، ج۱، ص۱۶۷) حدیث : ۳ حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جب کسی بندے کا بچہ مرجاتا ہے تو اللہ تَعَالٰی اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ تم لوگوں نے میرے بندے کے بچے کو مار ڈالا؟ تو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ جی ہاں !پھر اللہ تَعَالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ تم لوگوں نے اس کے دل کے پھل کو چھین لیا؟ تو فرشتے کہتے ہیں کہ جی ہاں !پھر اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے کہ بیٹے کی موت پر میرے بندے نے کیا کہا؟ تو فرشتے کہتے ہیں کہ تیری حمد کی اور اِنَّا لِلّٰہِ پڑھا۔ تو اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے کہ تم لوگ میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس گھر کا نام’’بَیْتُ الْحَمْد‘‘ رکھو۔ (3) (مشکوٰۃ، ج۱، ص۱۵۱) حدیث : ۴ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین بچے وفات پاگئے ہوں اللہ تَعَالٰی ان دونوں میاں بیوی کو اپنے فضل ورحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا، توصحابہ نے کہا کہ یا دو بچے مرے ہوں ؟ توحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ یادوبچے، پھرکچھ صحابہ نے کہاکہ یاایک بچہ مراہو؟توحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ یاایک بچہ، پھر اس کے بعد حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ بے شک کچا بچہ اپنی نال کے ساتھ اپنی ماں کوکھینچ کرجنت میں لے جائے گاجبکہ اس کی ماں نے اس کو ثواب جاناہو۔(4) (مشکوٰۃ، ج۱، ص۱۵۳) حدیث : ۵ حضرت قرہ مُزنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس اپنے لڑکے کو ساتھ لیکر آیا کرتا تھاتو حضور نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس لڑکے سے محبت کرتے ہو؟تو اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں اس سے اتنی محبت کرتاہوں کہ میری یہ دعا ہے کہ اللہ تَعَالٰی آپ سے اتنی ہی محبت فرمائے۔پھر اس لڑکے کو جب حضور نے نہیں دیکھا تو فرمایا کہ فلاں کا بیٹا وہ کیا ہوا؟تو لوگوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہ تو مرگیا۔ توحضورنے لڑکے کے با پ سے فرمایا کہ تم کیا اس کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازے پر بھی جاؤ گے تمہارا بچہ تمہارا انتظار کر رہا ہوگا یہ سن کر اس آدمی نے کہا کہ یہ فضیلت خاص میرے ہی لیے ہے یا ہر اس مسلمان کے لیے جس کا بچہ مرگیا ہو؟تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہر اس مسلمان کیلئے یہی فضیلت ہے جس کا بچہ مرگیا ہو۔(5)(مشکوٰۃ، ج۱، ص۱۵۳)

تشریحات و فوائد

اس عنوان کی پانچوں حدیثوں کا حاصل یہی ہے کہ جس مسلمان مردو عورت کے تین یا دو یا ایک نابالغ بچے مرگئے ہوں اور ماں باپ نے ان بچوں کی موت پر صبر کیا ہو اور ان بچوں کی موت کو اجرو ثواب جانا ہو تو اللہ تَعَالٰی ان مرحوم بچوں کے ماں باپ کوجنت عطا فرمائے گا۔بلکہ حدیث میں یہ بھی آیاہے کہ کچا بچہ بھی جس کااسقاط ہوگیا ہواس کی نال باپ کی پیٹھ اور ماں کے پیٹ سے جڑی ہوگی اور وہ کچا بچہ اپنے ماں باپ کی مغفرت کے لیے خدا سے اصرار کے ساتھ گزارش کرے گا تو اللہ تَعَالٰی فرمائے گاکہ ’’اَیُّھا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّہٗ اَدْخِلْ اَبَوَیْکَ الْجَنَّۃَ ‘‘ یعنی اے کچے بچے ! اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے جھگڑنے والے تو اپنے ماں باپ کو جنت میں داخل کردے۔’’فَیَجُرُّھمَا بِسَرَرِہٖ حَتّٰی یُدْخِلَھمَا الْجَنَّۃَ‘‘یعنی پھر وہ کچا بچہ اپنے ماں باپ کو اپنی نال کے ذریعے کھینچے گا یہاں تک کہ ان دونوں کو جنت میں داخل کردے گا۔(6) (مشکوٰۃ، ج۱، ص۱۵۳)

(۳۹) اطاعت والدین

حدیث : ۱ حضرت معاویہ بن جاہمہ سے مروی ہے کہ جاہمہ حضور نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں نے جہاد میں جانے کا ارادہ کرلیا ہے اور حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس مشورہ کے لیے آیاہوں توحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ کیا تمہاری ماں ہے؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں ! توحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ تم اس کی خدمت میں چمٹے رہو کیوں کہ تمہاری جنت اس کے پیروں کے پاس ہے۔(7) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۴۲۱) حدیث : ۲ حضرت ابواُمامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا کہ یا رسول اللہ ! عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ والدین کا ان کی اولادپرکس قدراورکتناحق ہے؟تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایاکہ ماں باپ ہی تیری جنت اور تیرے دوزخ ہیں ۔(8) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۴۲۱) حدیث : ۳ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اسے مروی ہے کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنے ماں باپ کا فرمانبردار ہوگا اس کے لیے جنت کے دودروازے کھول دیئے جائیں گے اور اگر والدین میں سے کسی ایک ہی کا فرمانبردار ہو تو اس کے لیے جنت کا ایک ہی دروازہ کھلے گااور جو شخص اپنے والدین کا نافرمان ہوگااس کے لئے جہنم کے دودروازے کھول دیئے جائیں گے اوراگر والد ین میں سے ایک ہی کانافرمان ہوتو ایک ہی دروازہ دوزخ کا کھلے گا۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا کہ اگرچہ ماں باپ لڑکے پر ظلم کرتے ہوں ؟توحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اگرچہ دونوں اس پرظلم کرتے ہوں ، اگرچہ دونوں اس پرظلم کرتے ہوں ، اگرچہ دونوں اس پرظلم کرتے ہوں ۔(9) (تین بار اس لفظ کو فرمایا) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۴۲۱) حدیث : ۴ حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اسے روایت ہے کہ رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو لڑکا اپنے ماں باپ کو رحمت کی نظر سے دیکھے گا تو اس کو ہر نظر کے بدلے میں ایک حج مبرور کا ثواب ملے گا، تو صحابہ نے عرض کیا کہ اگرچہ لڑکا ہر دن میں سو مرتبہ ماں باپ کو دیکھے؟توحضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ ہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہت بڑا ہے اور بہت پاکیزہ ہے۔ (10) (مشکوٰۃ، ج۲، ص۴۲۱) حدیث : ۵ حضرت ابوالدرداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میری ایک عورت ہے اور میری ماں اسے طلاق دینے کا مجھے حکم دے رہی ہے۔ تو ابوالدرداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سنا ہے کہ والد جنت کے دروازوں میں سے بیچ کا دروازہ ہے تو اگر تم چاہو تو اس دروازے کو برباد کردو اور اگر چاہو تو اس دروازے کو محفوظ رکھو۔(11) (ترمذی، ج۲، ص۱۲)

تشریحات و فوائد

والدین کی خدمت و اطاعت اولاد پر فرض ہے اور ماں باپ کو ادنیٰ درجے کی تکلیف دینابھی حرام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تَعَالٰی نے وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ (12) فرمایاکہ ماں باپ کے ساتھ بھلائی کا سلو ک کرنااولاد پر فرض ہے۔ اور قرآن مجید میں خداوند قدوس نے یہ بھی فرمایا کہ فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا (13) یعنی والدین کو کسی بات کے جواب میں اُف کہنا اور ان کو جھڑک دینا حرام ہے۔ اس عنوان کی مذکورہ بالا حدیثوں کا ترجمہ بالکل واضح اور ظاہر ہے لہٰذا مزید تشریح ووضاحت کی ضرورت نہیں ۔ اپنے والدین کی خدمت واطاعت اور ان کو راضی رکھنا یہ بلاشبہ جنت میں لے جانے والا عمل اوربہشت کی کنجیوں میں سے ایک بہت بڑی اور اہمیت والی کنجی اورجنت کی شاہراہوں میں سے ایک بڑی شاہراہ ہے۔آج کل کی اولاد اپنے اس فریضہ سے بہت غافل ہے۔ مگر ان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے کو جنت تومل ہی نہیں سکتی اور دنیا میں یہ خطرہ ہر وقت سر پر سوار ہے کہ جو اولاد ماں باپ کے سا تھ برا سلوک کرے گی تو اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ میں جیسا سلوک اپنے ماں باپ کے ساتھ کررہا ہوں میری اولاد بھی میرے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گی اس لیے سب کوچاہئے کہ ماں باپ کے ساتھ بہترین سلوک کرے ان کوراضی رکھنابے حدضروری اوربہت بڑاکارنامہ ہے۔ مولیٰ تَعَالٰی سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
1 صحیح البخاری ، کتاب الجنائز ، باب فضل من مات۔۔۔الخ ، الحدیث : ۱۲۴۸ ، ج۱ ، ص۴۲۴ 2 صحیح البخاری ، کتاب الجنائز ، باب فضل من مات۔۔۔الخ ، الحدیث : ۱۲۴۹ ، ج۱ ، ص۴۲۴ 3 سنن الترمذی ، کتاب الجنائز ، باب فضل المصیبۃ۔۔۔الخ ، الحدیث : ۱۰۲۳ ، ج۲ ، ص۳۱۳ 4 المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث معاذ بن جبل ، الحدیث : ۲۲۱۵۱ ، ج۸ ، ص۲۵۴ 5 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجنائز ، باب البکاء علی المیت ، الحدیث : ۱۷۵۶ ، ج۱ ، ص۳۳۲ 6 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الجنائز ، باب البکاء علی المیت ، الحدیث : ۱۷۵۷ ، ج۱ ، ص۳۳۲ 7 شعب الایمان ، باب فی برالوالدین ، الحدیث : ۷۸۳۳ ، ج۶ ، ص۱۷۸ 8 سنن ابن ماجہ ، کتاب الادب ، باب برالوالدین ، الحدیث : ۳۶۶۲ ، ج۴ ، ص۱۸۶ 9 مشکاۃالمصابیح ، کتاب الآداب ، باب البر والصلۃ ، الحدیث : ۴۹۴۳ ، ج۲ ، ص۲۰۹ 10 شعب الایمان ، باب فی برالوالدین ، الحدیث : ۷۸۵۶ ، ج۶ ، ص۱۸۶ 11 سنن الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء من الفضل۔۔۔الخ ، الحدیث : ۱۹۰۶ ، ج۳ ، ص۳۵۹ 12 ترجمۂ کنزالایمان :اورماںباپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔(پ۱۵ ، بنی اسراء یل : ۲۳) 13 ترجمۂ کنزالایمان :توان سے ہوںنہ کہنا اورانہیں نہ جھڑکنا۔(پ۱۵ ، بنی اسراء یل : ۲۳)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن