Ilm Ke Fazail Me Char Farameen e Mustafa
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bhayanak Ount | بھیانک اونٹ

Ilm Ke Fazail Me Char Farameen e Mustafa

book_icon
بھیانک اونٹ

علم کے فضائل میں چار فرامینِ مصطَفٰے

اِسلام کا درددِل میں رکھنے والے ہر مسلمان سے میری غمگین التجا ہے کہ تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیرغیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے دنیا میں جہاں کہیں ’’مَدَنی قافلے‘‘ نظر آئیں ان کے ساتھ کچھ نہ کچھ وقت ضَرور گزاریئے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ  توفیق دے تو اِن کے ساتھ سُنّتوں بھرا سفر اختیار کرکے اَجرو ثواب کے حقدار بنئے ۔ مَدَنی قافلے میں سفر علمِ دین حاصِل کرنے کا بہترین ذَرِیعہ ہے اور علمِ دین کے فضائل کے بھی کیا کہنے ! ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  743 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، ’’ جنّت میں لے جانے والے اعمال‘‘ صَفحَہ38تا40سے چار فرامینِ مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم مُلاحَظہ ہوں :  {۱} جو شخص علم کی طلب میں گھر سے نکلتاہے فرِشتے اُس کے اِس عمل سے خوش ہوکر اُس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ۔  (طَبَرانی کبیر ج ۸ ص ۵۴ حدیث۷۳۴۷ )  {۲}جو کوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض سے مُتَعَلِّق ایک یا دو یا تین یا چار یا پانچ کلمات سیکھے اور اسے اچّھی طرح یا د کرلے اور پھر لوگوں کو سکھائے تووہ جنَّت میں داخِل ہوگا ۔   (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب  ج۱ ص ۵۴ حدیث  ۲۰) {۳}جو صبح کو مسجِد کی طرف بھلائی سیکھنے یا سکھانے کے ارادے سے چلے گا اُسے کامِل حج کرنے والے کا ثواب ملے گا۔  (طَبَرانی کبیر  ج ۸ ص ۹۴حدیث۷۴۷۳ ) {۴}جو بندہ علم کی جُستجُو میں جوتے ، موزے یا کپڑے پہنتا ہے تو اپنے گھر کی چوکھٹ (یعنی دروازے)  سے نکلتے ہی اُس کے گناہ مُعاف کردئیے جاتے ہیں ۔       (طَبَرانی اَوسط  ج ۴ ص ۲۰۴حدیث ۵۷۲۲) 

امیرِ قافِلہ کے حسنِ اخلاق نے مجھے مَدَنی قافلے کا مسافر بنا دیا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُصُولِ علم کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلے بھی ہیں ، عمر بھر میں یک مُشت 12ماہ، ہر بارہ ماہ میں 30دن اور ہر تیس دن میں 3دن عاشقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافلوں میں سنُّتوں بھرا سفر کیجئے۔  مَدَنی قافلے کی بَرَکتوں کو سمجھنے کیلئے ایک مَدَنی بہار مُلاحَظہ فرمایئے ، چُنانچِہ مرکزالاولیا  (لاہور )  کے ایک اسلامی بھائی کا بیان کچھ یوں ہے کہ میری عمرِ عزیز کے 25 برس گزر چکے تھے مگر میں علمِ دین سے اس قدر کورا تھا کہ مجھے نماز وروزے کے بنیادی اَحکام تک معلوم نہ تھے ۔  ایک دن مسجِد میں نَماز کے لیے حاضِر ہوا تو ایک اسلامی بھائی نے بڑے تپاک سے آگے بڑھ کر مجھ سے ملاقات کی ، اسی دَوران مَدَنی قافلے میں سفرکی دعوت بھی دی ۔ دعوتِ اسلامی  کے’’ مَدَنی ماحول ‘‘سے ناآشنائی کے باعث میں نے انکار کر دیا مگر ہمارے مَحَلّے کی مسجِد کے امام صاحِب نے مجھ پر انفِرادی کوشِش فرمائی اور میری خوب ہمت بندھائی یہاں تک کہ انہوں نے مجھے مَدَنی قافلے میں سفرکے لئے آمادہ کر لیا۔ میں سفر کی نیّت سے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع  میں حاضِر ہو گیا،اجتِماع کے بعد صبح مَدَنی قافلے نے سفر کرنا تھا، میں دنیا کی مَحَبَّت کا مارا اتنی دیر مسجد میں رہنے سے اُکتا سا گیا تھااور ’’مَدَنی قافلے ‘‘ میں مزید 3 دن مسجِد میں رہنے کے تصوُّرسے گھبر ا رہاتھا، میں نے یہاں سے فِرار ہو جانے کی نیّت بھی کرلی تھی کہ اتنے میں میرے امیرِقافلہ ڈھونڈتے ہوئے مجھ تک آپہنچے ، شیطان نے مجھے اُکسایا کہ ’’ میاں اب تو پھنسے! یہ مولوی تمہیں نہیں چھوڑے گا ، ‘‘ میں نے بھی دل میں کہا: دیکھتا ہوں مجھے یہ کیسے قافِلے میں لے جاتا ہے! لہٰذا شیطان کے بہکاوے میں آ کر میں نے اپنے مُحسن امیرِ قافلہ کوغصّے میں جھاڑ دیا کہ ’’ میاں جاؤ! میں آپ کو نہیں جانتا مجھے کسی مَدَنی قافلے میں نہیں جانا، بس مجھے تنگ نہ کرو گھر جانے دو۔ ‘‘ یقین مانئے ! میری حیرت کی اُس وَقْت انتِہا نہ رہی جب اپنی جلی کٹی سنانے کے بعد امیرِقافلہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھیلتی دیکھی! انہوں نے مجھ پرغصّے کے ذَرِیعے جوابی کاروائی کرنے کے بجائے مسکرا مسکرا کرنہایت شفقت اور نرمی سے مَدَنی قافِلے  میں سفر کیلئے مجھے سمجھانا شروع کر دیا  اور اس کیلئے میری مِنَّت و سماجت کرنے لگے،اُن کے اعلیٰ اَخلاق نے مجھے مَدَنی قافلے میں سفر پرراضی کر ہی لیا اور میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافلے میں سنّتوں بھرے سفر پر روانہ ہوگیا، پہلے ہی دن جب مَدَنی قافلے والوں نے سیکھنے سکھانے کے مدنی حلقے لگائے تو مجھے دل ہی دل میں بے حد ندامت ہونے لگی کہ صدکروڑ افسوس!25 سال کی عمر ہو گئی مگر ابھی تک دین کے بنیادی اَحکام بھی مجھے نہیں معلوم ! اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! عاشِقانِ رسول کی صُحبت میں 3 دن گزارنے کے بعد میں بَہُت سا علمِ دین مَثَلاً وُضو،غسل اورنَماز کے کئی اَحْکام سیکھ کر اور نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے کا عظیم جذبہ لے کر اِس حال میں گھر پلٹاکہ میرے سر پر مَدَنی قافِلے کی یاد دلاتا سبز سبز عمامے شریف کا تاج جگمگا رہا تھا۔ 
اچّھی صُحبت ملے، خوب برکت ملے چل پڑو چل پڑیں قافلے میں چلو
لُوٹ لیں رحمتیں ،خوب لیں برکتیں خواب اچّھے دِکھیں ، قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

استِقامت بہت ضَروری ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہنر کوئی سابھی ہو جب تک اسے استِقامت سے نہ سیکھا جائے مَہارت حاصل ہونا دشوار ہے ،یِہی مُعامَلہ علمِ دین کا ہے ،نفس لاکھ سستی دلائے،شیطان غفلت کی نیند سلانے کیلئے خواہ کتنی ہی لوریاں سُنائے آپ ہوشیار وبیدار  رہئے ، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کرتے کراتے رہئے اور علمِ دین سیکھتے سکھاتے رہئے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ   وَجَلَّ کامیابی ضَرور آپ کے قدم چومے گی ۔ اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں ،مدینے کے سلطان،رَحْمتِ عالمیان ، سرورِذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے :  اَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی اَدْوَمُہَا وَاِنْ قَلَّ۔  یعنی اللہ تَعَالٰی کے یہاں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچِہ قلیل ہو۔    ( مُسلِم  ص۳۹۴ حدیث۲۱۸)  

مَدَنی اِنْعامات کس کیلئے کتنے؟

اِس پُرفتن دور میں آسانی سے نیکیاں کرنے اورگناہوں سے بچنے کے طریقۂ کار پر مشتمل شریعت وطریقت کا جامِع مجموعہ بنام ’’مَدَنی اِنعامات‘‘بصورتِ سُوالات مُرتّب کیا گیا ہے۔ اسلامی بھائیوں کیلئے 72،اسلامی بہنوں کیلئے 63، طَلَبۂ علمِ دین کیلئے 92 ، دینی طالِبات کیلئے 83، مَدَنی مُنّوں اورمَدَنی مُنّیوں کیلئے40جبکہ خُصُوصی اسلامی بھائیوں  (یعنی گونگے بہروں )  کے لئے 27 مَدَنی اِنْعامات ہیں ۔ بے شمار اسلامی بھائی ، اسلامی بہنیں اورطَلَبہ مَدَنی اِنْعامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ سونے سے قبل ’’فکرِمدینہ کرتے ہوئے‘‘ یعنی اپنے اعمال کا جائزہ لے کر مَدَنی اِنْعامات کے ’’جیبی سائز رسالے‘‘ میں دیئے گئے خانے پُر کرتے ہیں ۔ ان مَدَنی اِنعامات کواِخلاص کے ساتھ اپنا لینے  کے بعد نیک بننے اورگناہوں سے بچنے کی راہ میں حائل رُکاوٹیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم سے اکثر دُور ہوجاتی ہیں اوراس کی بَرَکت سے اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  پابند ِ سنّت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کُڑھنے کا ذِہن بھی بنتا ہے ۔  سبھی کو چاہئے کہ باکردار مسلمان بننے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے مَدَنی اِنْعامات کا رسالہ حاصِل کریں اورروزانہ فکرِمدینہ  (یعنی اپنا مُحاسَبہ)  کرتے ہوئے اس میں دئیے گئے خانے پُر کریں اورہجری سِن کے مطابق ہر مَدَنی یعنی قَمری ماہ کے ابتِدائی دس دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے  ذمّے دار کو جمع کروانے کا معمول بنائیں ۔ 
تُو ولی اپنا بنالے اُس کو ربِّ لم یَزَل
’’مدنی اِنعامات‘‘ پر کرتا ہے جو کوئی عمل  (وسائلِ بخشش ص۶۰۸) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عا مِلینِ مَدَنی ا ِنْعاما ت کے لئے بِشارتِ عُظمٰی

مَدَنی انعامات کا رسالہ پُر کرنے والے کس قَدَر خوش قسمت ہوتے ہیں اِس کا اندازہ اس مَدَنی بہار سے لگایئے چُنانچِہ حیدَرآباد  (بابُ الاسلام سندھ)  کے ایک اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح حلفیہ  (یعنی قسمیہ)  بیان ہے کہ ماہِ رجبُ المرجَّب ۱۴۲۶ھ کی ایک شب مجھے خواب میں مصطَفٰے جانِ رَحْمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت کی عظیم  سعادت ملی۔  لبہائے مبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رَحمت کے پھول جھڑنے لگے ،اور میٹھے بول کے الفاظ کچھ یوں ترتیب پائے:  جو اِس ماہ روزانہ پابندی سے مَدَنی اِنْعامات سے مُتَعَلِّق فکرِ مدینہ کرے گا، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی مغفِرت فرماد ے گا۔ 
        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنت کی فضیلت اور چند سنتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔  تاجدارِ رسالت،  شَہَنشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رَحمت،شَمعِ بزمِ ہدایت ،نَوشَۂ بز م جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنت نشان ہے:  جس نے میری سنت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر  جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ  جنت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔   (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳) 
سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا
جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

’’یارب ! زیر سبزگنبد بِٹھا ‘‘ کے اٹھارہ حُروف کی نسبت سے بیٹھنے کے18 مَدَنی پھول

٭ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: جو لوگ دیر تک کسی جگہ بیٹھے اور بغیر ذِکرُاللّٰہ      اور نبیِّ کریم     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُود پڑھے وہاں سے متفرّق ہوگئے۔  انھوں نے  نقصان کیا اگراللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے عذاب دے اور چاہے تو بخش دے  (اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۲ ص ۱۶۸ حدیث  ۱۸۶۹) ٭حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے کہ میں نے   سیِّدُ الْمُرسَلین ،    خاتَمُ النَّبِیِّین ،   جنابِ رَحمۃٌ  لِّلْعٰلمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کعبہ شریف کے صِحْن میں اِحتِبا  (اِحْـتِ ـبا)  کی صورت میں تشریف فرما دیکھا۔  ( بُخاری ج ۴ ص ۱۸۰ حدیث ۶۲۷۲) اِحتِباکا مطلب یہ ہے کہ آدمی سُرِیْن کے بل بیٹھے اور اپنی دونوں پنڈلیوں کو دونوں ہاتھوں کے حلقے میں لے لے۔ اس قسم کابیٹھنا تَواضُع  (یعنی عاجِزی و انکساری ) میں شمار ہوتا ہے  (مُلَخَّص ازبہارِشریعت ج ۳ص ۴۳۲)  ٭ اس دوران بلکہ جب بھی بیٹھیں پردے کی جگہوں کی ہَیئَت  (ہَے۔ اَتْ) و کیفیت نظر نہیں آنی چاہئے، لہٰذا  ’’ پردے میں پردہ‘‘ کیلئے گھٹنوں سے قدموں تک چادر ڈال لی جائے اگر کُرتا سنّت کے مُطابِق ہو تو اُس کے دامن سے بھی ’’پردے میں پردہ‘‘  کیا جا سکتا ہے ٭ حُضورِ پُرنور ، شافِعِ یومُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب نماز فجر پڑھ لیتے چار زانو (یعنی چوکڑی مار کر)  بیٹھے رہتے ،یہاں تک کہ سورج اچّھی طرح طُلُوع ہوجاتا  ( ابوداوٗد ج۴ص۳۴۵حدیث۴۸۵۰)  ٭جامِعِ کرامات ِ اولیا ءجلدا وّل کے صَفْحَہ 67 پرہے:  امام یوسُف نَبہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی دوزانو  (یعنی جس طرح نماز میں اَلتَّحِیَّات میں بیٹھتے ہیں اس طرح) بیٹھنے کی عادتِ کریمہ تھی ٭نماز کے باہَر (یعنی علاوہ)  بھی دو زانو بیٹھنا افضل ہے۔    (مراۃ ج ۸ ص ۹۰) ٭سرورِ کائنات ،  شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  عُمُوماً قِبلہ رُو ہوکر بیٹھتے تھے  (احیاء العلوم ج۲ ص۴۴۹) ٭ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: ’’مجالِس میں سب سے مُکرّم  (یعنی عزّت والی )  مجلس (یعنی بیٹھنا )  وہ ہے جس میں قبلے کی طرف مُنہ کیا جائے‘‘  (طَبَرانی اَ وْسَط ج ۶ ص ۱۶۱  حدیث ۸۳۶۱ ) ٭حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اکثر قِبلے کومُنہ کرکے بیٹھتے تھے  (اَلْمَقاصِدُ الْحَسَنۃ ص۸۸ )  ٭ مُبلِّغ اور مُدرِّس کیلئے دورانِ بیان و تَدریس سُنّت یہ ہے کہ پیٹھ قِبلے کی طرف رکھیں تاکہ ان سے عِلم کی باتیں سننے والوں کا رُخ جانبِ قبلہ ہوسکے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا علّامہ حافِظ سَخاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :  نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  قِبلے کو اس لئے پیٹھ فرمایا کرتے تھے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنہیں عِلْم سکھارہے ہیں یا وَعْظ فرمارہے ہیں اُن کا رُخ قبلے کی طرف رہے  (اَلْمَقاصِدُ الْحَسَنۃ  ص ۸۸ ) ٭ حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  بے چین دلوں کے چَین،رَحْمتِ دارین، سرورِ کَونَین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کبھی نہ دیکھا گیا کہ اپنے ہم نشین کے سامنے گُھٹنے پھیلا کر بیٹھے ہوں  ( تِرمِذی ج۴ ص۲۲۱ حدیث ۲۴۹۸ )  حدیثِ پاک میں ’’رُکْبَتَیْن‘‘ (یعنی گھٹنے)  کا لفظ ہے اس سے مرادایک قول کے مطابق ’’ دونوں پاؤں ‘‘ ہیں جیساکہ مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کے تَحْت فرماتے ہیں :  یعنی حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کبھی کسی مجلس  (یعنی بیٹھک ) میں کسی کی طرف پاؤں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے،نہ اولاد کی طرف نہ اَزواجِ پاک کی طرف نہ غلاموں خادِموں کی طرف  (مراۃ ج ۸ ص ۸۰)  ٭حضرتِ سیِّدُناامام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں نے کبھی اپنے اُستادِ محترم حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد  کے مکانِ عالی شان کی طرف پاؤں نہیں پھیلائے ان کے احترام اور اکرام کی وجہ سے، آپ  (یعنی استاذِگرامی قدس سرہ السامی)  کے گھرمبارک اور میری رہائش گاہ میں چند گلیوں کا فاصلہ ہونے کے باوُجُود میں نے کبھی اُدھر پاؤں نہیں پھیلائے   (مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ للموفق  حصّہ۲ ص۷ ) ٭آنے والے کیلئے سَرکنا  (کِھسکنا)  سنّت ہے:  بہارِشریعت جلد 3صَفحَہ 432پر حدیث نمبر6 ہے :  ایک شخص رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)  مسجِد میں تشریف فرما تھے۔  اس کے لیے حُضُور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)   اپنی جگہ سے سرک گئے اس نے عَرْض کیا، یارسول اللّٰہ !   (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ )  جگہ کشادہ موجود ہے،  (حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)  کو سرکنے اور تکلیف فرمانے کی ضَرورت نہیں )   ارشاد فرمایا:  مسلم کا یہ حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے، اس کے لیے سرک جائے    (شُعَبُ الْاِیمان ج۶ ص۴۶۸ حدیث۸۹۳۳) ٭ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے :  ’’جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو اور اُس پر سے سایہ رخصت ہوجائے اور وہ کچھ دھوپ کچھ چھاؤں میں رہ جائے تو اسے چاہیے کہ  وہاں سے اُٹھ جائے ‘‘  ( ابوداوٗد ج ۴ ص ۳۳۸ حدیث ۴۸۲۱)   ٭میرے آقا اعلیٰ حضرت  امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن لکھتے ہیں :  پیر واُستاذ کی نِشَسْت (یعنی بیٹھے کی جگہ)  پر ان کی غَیبت  (غَی ۔  بَت یعنی غیرموجودَگی) میں بھی نہ بیٹھے (فتاوٰی رضویہج۲۴ص۳۶۹،۴۲۴)  ٭ جب کبھی اجتماع یا مجلس میں آئیں تولوگو ں کو پھلانگ کر آگے نہ جائیں جہاں جگہ ملے وَہیں بیٹھ جائیں ٭جب بیٹھیں تو جوتے اتارلیں ، آپ کے قد م آرام پائیں گے  (اَلْجامِعُ الصَّغِیرص۴۰ حدیث۵۵۴) ٭ مجلس  (یعنی بیٹھک)  سے فارغ ہوکر یہ دُعا تین بار پڑھ لیں تو خطائیں مٹادی جاتی ہیں اور جواسلامی بھائی مجلسِ خیر و مجلسِ ذکر میں پڑھے تو اُس کیلئے اُس خیر (یعنی اچّھائی)  پر مہر لگا دی جائے گی ۔  وہ دُعا یہ ہے:   ’’سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِ کَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ‘‘  ( )  (ابوداوٗد ج۴ص۳۴۷ حدیث ۴۸۵۷) 
       ہزاروں سنتیں سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کتب  (۱)  312 صَفْحات پر مشتمل کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘حصّہ16 اور (۲)  120صفحات کی کتاب’’ سنتیں اور آد ا ب ‘‘    ہد یَّۃً حاصل کیجئے اور پڑھئے۔  سنتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوت اسلامی کے   مَدَنی قافلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنتوں بھرا سفر بھی ہے۔ 
لوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو سیکھنے سنتیں قافلے میں چلو
ہوں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو ختم ہوں شامتیں قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک چُپ سو۱۰۰ سُکھ
         غمِ مدینہ و بقیع و مغفرت و
    بے حساب  جنّت الفردوس  میں آقا کے پڑوس کا طالب
      
۸ ربیع الاوّل ۱۴۳۶ھ
  2014-12-31
یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے
شادی غمی کی تقریبات،اجتماعات،اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے۔ 
کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
کنز الایمان مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی سبل الھدیٰ دار الکتب العلمیۃ بیروت
التفسیرات الاحمدیہ دار الکتب العلمیۃ بیروت مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ کوئٹہ
صحیح بخاری دار الکتب العلمیۃ بیروت سیرتِ رسولِ عربی ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور
صحیح مسلم دار ابن حزم بیروت جامع کرامات ِ اولیاء مرکز اہلسنت برکات رضا
سنن ترمذی دار الفکر بیروت القول البدیع دار الکتب العلمیۃ بیروت
سنن ابو داود دار احیاء التراث العربی بیروت المواہب اللدنیۃ دار الکتب العلمیۃ بیروت
مستدرک دار المعرفۃ بیروت بستان الواعظین دار الکتب العلمیۃ بیروت
شعب الایمان دار الکتب العلمیۃ بیروت السیرۃ النبویہ دار الکتب العلمیۃ بیروت
معجم کبیر دار احیاء التراث العربی بیروت    الخصائص الکبریٰ دار الکتب العلمیۃ بیروت
معجم اوسط دار الکتب العلمیۃ بیروت الروض الانف دار الکتب العلمیۃ بیروت
الامر بالمعروف والنہی عن المنکر المکتبۃ العصریۃ بیروت احیاء العلوم دارصادر بیروت
الترغیب والترہیب دار الکتب العلمیۃ بیروت مراٰۃ المناجیح ضیاء القراٰن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور
الجامع الصغیر دار الکتب العلمیۃ بیروت فتاوٰی رضویہ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور
حلیۃ الاولیاء دار الکتب العلمیۃ بیروت بہارِ شریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
تاریخ دمشق دار الفکر بیروت وسائل بخشش مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
المقاصد الحسنۃ دارالکتاب العربی بیروت ٭٭٭ ٭٭٭

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن