30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی پڑھتا۔ میرے ایک دوست جو کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے ایک مرتبہ انہوں نے مجھے کہا کہ چلو آج آپ کو ایک بڑی محفل میں نعت پڑھواتے ہیں ، میں ان کے ساتھ چل دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ وہاں نعت شریف پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔ جب وہاں موجود ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے میرے دوست سے کہا کہ آپ ان سے اس طرح کھلے عام نعت نہ پڑھوایا کریں کیونکہ اس کے خاندان والے نعت پڑھنے والوں کے دشمن ہیں کہیں اس کے بارے میں پتہ چل گیا تو اسے مار دیں گے۔ خیر ہم جب وہاں سے روانہ ہوئے تو میرے دوست نے مجھ پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرےاجتماع کی دعوت پیش کی۔ میں نے کچھ دیر سوچا اور پھر ہاں کر دی۔ جب جمعرات آئی تو میں ان کا انتظار کرتا رہا مگر وہ شاید کسی مجبوری کی وجہ سے نہ آسکے پھر جب اس سے اگلی جمعرات آئی تو وہ اسلامی بھائی میرے گھر تشریف لائے اور میرا ذہن بنا کر ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں ساتھ لے گئے۔ میں سنّتوں بھرے اجتماع میں پر سوز بیان اور ذکر سے بہت متأثر ہوا پھر جب رقت انگیز دعا شروع ہوئی تو رہی سہی کسر اس نے پوری کردی اور میرے دل کی دنیا کوزیر و زبر کردیا، میں نے سچے دل سے بد مذہبیت و معصیت سے توبہ کرلی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو گیا۔ جب پہلی بار مجھے عاشقانِ رسول کے ہمراہ مدنی قافلے میں سفر کرنے کی سعادت ملی تو قافلے کی برکت سے میں نے عمامے کے تاج سے سر ’’ سبز ‘‘ کر لیا۔ جب میں اس حالت میں گھر پہنچا تو میرے والد غصّے سے آگ بگولا ہو گئے انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور مجھے مارنا شروع کر دیا بالآخر مجھے گھر سے نکال دیا۔ جب گھر واپسی کی کوئی سبیل نہ بنی تو جان بچانے کے لیے میں باب المدینہ (کراچی) جا پہنچا اور وہاں دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کی مدنی تربیت گاہ میں اپنا وقت سنّتوں کی تربیت حاصل کرنے میں بسر کرنے لگا۔ کچھ عرصے بعد میری امی جان نے مجھ سے بات کی اور مجھے بتایا کہ بیٹا آپ کے ابو کا غصہ ٹھنڈا ہو چکا ہےاب گھر آ جاؤ۔ میں امی جان کے فرمان پر گھر واپس چلا گیا۔ اب میں وقتاً فوقتاً اپنی امی جان پر انفرادی کوشش کرتارہتا اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ کچھ ہی عرصے میں امی جان دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہو گئیں۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں علاقائی سطح پر مدنی انعامات کے ذمہ دار (نگران) کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
فرید ٹاؤن (پنجاب پاکستان) کے رہائشی اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ پیش خدمت ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے بدقسمتی سے میں گناہوں کی اندھیری وادیوں میں بھٹک رہاتھا۔ دنیا کی رنگینیوں میں ایسا گُم تھا کہ نہ نمازوں کی کوئی فکر تھی اورنہ ہی سنّتوں پر عمل کا شعور۔ زندگی انہی پرپیچ اور تاریک راہوں میں بھٹکتے ہوئے گزر رہی تھی۔ میری قسمت کا ستارہ چمکنے کا سبب کچھ یوں ہوا کہ ایک دن میں نماز ادا کرنے مسجد گیا، جب اپنے رب کریم عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوا تو مجھ پر رحمتوں کی برسات شروع ہو گئی، میرے دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی ، مجھے نہایت اطمینان و سکون نصیب ہونے لگا۔ جب میں نے نماز مکمّل کی تو دیکھا کہ سنّتوں کی خدمت کے جذ بے سے سرشار سبز عمامے والے ایک اسلامی بھائی نے درس دینا شروع کیا ۔ میں بھی درس میں شریک ہو گیا، درس کے الفاظ تھے کہ رحمت کاپانی جو میرے دل پر جمی گناہوں کی کائی دور کرنے لگے، جس سے میرا دل نرم پڑگیا۔ درس کے بعد اس اسلامی بھائی نے محبت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع