30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سردار آباد (فیصل آباد پنجاب) کی تحصیل چک جُھمرہ کے علاقے رستم آباد شریف کے ایک نوجوان اسلامی بھائی کی تحریر کاخلاصہ پیش خدمت ہے: مدنی ماحول سے پہلے میں بری صحبت کے باعث گناہوں بھری زندگی گزار رہا تھا، کون سی ایسی برائی تھی جو میرے اندر نہ تھی، والدین کا انتہائی گستاخ، مزاج غصیلا اورگندی گالیاں بکنا علاقے بھر میں میری پہچانِ بد بن چکی تھی۔ اسی وجہ سے محلہ میں میری کسی سے نہیں بنتی تھی، ذرا ذرا سی بات پر مرنے مارنے پراتر آتا۔ غیر تو غیر میری اس عادت سے میرے دوست بھی تنگ تھے۔ انتہائی زبان دراز تھا کبھی کبھی محلے کی مسجد کے امام صاحب سمجھانے کی کوشش کرتے تو انتہائی بدتمیزی کے ساتھ بات کاٹ کر اول فول بکنے لگتا۔ ایک بار تو غصے میں یہاں تک بول دیا کہ مولانا صاحب آپ کو سمجھانے کے سوا آتا کیا ہے آئندہ سمجھانے کی ہمت کی تو جان سے مار دوں گا۔ لوگوں کو ستانے کے نت نئے طریقے سوچا کرتا۔ گھر والوں نے میرے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے قراٰن پاک کی تعلیم کے لیے 3 مئی 1999ء کو ایک مدرسے میں داخل کروا دیا۔ کچھ عرصے بعد دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی میری گناہوں بھری تاریک زندگی میں ہدایت کا چمکتا ستارہ بن کر طلوع ہوئے اور میری شام غریباں کو صبح بہاراں میں بدل دیا وہ یوں کہ انہوں نے مجھے تبلیغ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت پیش کی، اس وقت سنّتوں بھرا اجتماع جامع مسجد بلال میں ہوتا تھا، میرے بھاگ جاگ اٹھے کہ میں نے انکار کرنے کی بجائے ان کی دعوت قبول کی اور اجتماع میں جا پہنچا، وہاں مبلغِ دعوتِ اسلامی سنّتوں بھرے بیان میں گناہوں کی تباہ کاریاں بتا کر اس کی مذمت بیان فرما رہے تھے، انداز ایسا دلنشین اور پر تاثیر تھا کہ دل میں اترتا چلا گیا، میں اپنے گناہوں کو یاد کرکے کانپ
اٹھا، آپ یقین کریں نہ کریں میری آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ گئی اجتماع کے اختتام تک میرا دل چوٹ کھا چکا تھا۔ میں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گناہوں سے بچنے کا پختہ عزم کر لیا اور سچ کہتا ہوں : میرے دل کی دنیا ایسی بدلی کہ میں جو کل تک والدین کا گستاخ تھا، اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایسا فرمانبردار بن گیا کہ اب لوگ اپنے بچوں کو میرے باادب انداز کی مثالیں دیتے ہیں۔ جو لوگ مجھ سے کتراتے اور نفرت کیا کرتے تھے اب محبت میں بچھ بچھ جاتے ہیں ، عاشقانِ رسول کی شفقتوں نے مجھ پر ایسا مدنی رنگ چڑھا دیا کہ فرض نمازیں باجماعت پڑھنے کی عادت کے ساتھ ساتھ نوافل پڑھنے کا بھی معمول بن گیا۔ داڑھی رکھ لی اور عمامے شریف کا تاج بھی سجا لیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر میں تربیتی کورس کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
{۱۰} شرابی کی توبہ
چنیوٹ (پنجاب، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی اپنی زندگی میں پیدا ہونے والے مَدَنی انقلاب کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے پہلے مَعَاذَاللہ میں اکثر شراب کے نشے میں دھت رہتا۔ مجھے نہ تو اپنا کچھ ہوش ہوتا اور نہ ہی گھر والوں کی کچھ خبر۔ خوامخواہ لوگوں سے لڑائی مول لینا، بات بات پر مار دھاڑ پر اتر آنا میرے معمولات میں سے تھا۔ علاوہ ازیں میرا تعلق بد مذہب گھرانے سے تھا، اسی وجہ سے میں اکثر ان کے ساتھ کئی کئی دن ’’ گھومتا ‘‘ رہتا مگر وہاں مجھے چین نہیں ملتا تھا۔ ہمارے محلے میں ایک پیر صاحب رہتے تھے جن کے گھر ماہانہ گیارہویں شریف کے سلسلے میں ختم ہوا کرتا تھا جس میں مختصر سی محفلِ ذکر و نعت ہوتی تھی۔ میں اگرچہ بدمذہبیت کا شکار تھامگر مجھے نعت پڑھنے کابہت شوق تھا اس لئے میں کبھی کبھار چھپ کر ان کی محفل میں شریک ہوتا اور وہاں نعت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع