دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bhangre Baz Ki Tauba | بھنگڑے باز کی توبہ

book_icon
بھنگڑے باز کی توبہ

سیرت اور سراپا سنّت صورت سے متأثر ہو چکا تھا لہٰذا ان کے ساتھ اجتماع میں جانے کے لے تیار ہو گیا۔ جب سنّتوں بھرے اجتماع میں پہنچا تو مجھے وہاں بہت قلبی سکون ملا ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے میں گناہوں کے تپتے صحرا سے نکل کر سنّتوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں آ گیا ہوں۔ پرسوزبیان، ذکر اور رقت انگیز دعا نے میرے دل کی دنیا زیر و زبر کردی۔ خوفِ خدا کے باعث میری عجیب حالت ہو گئی۔ میں نے اپنے تمام گناہوں سے سچے دل سے توبہ کی اور امیرِاہلسنّت سے مرید ہو کر قادری عطاری ہو گیا۔ اسلامی بھائیوں کے اخلاق و کردار کو دیکھ کر مدنی ماحول کی محبت و عقیدت میرے دل میں گھر کر گئی، گناہوں سے بچنے اور نیکیوں پر استقامت پانے کے لیے میں مدنی ماحول سے منسلک ہوگیا۔ داڑھی و عمامہ سجا کر سنّت کے مطابق سفید لباس زیبِ تن کر لیا۔ مرشد کی فیضِ نظر سے چھبیس ماہ کے مدنی قافلے میں سفر کی سعادت حاصل کر چکا ہوں۔ تقریباً تیس دن کے چھ، سات اورتین دن کے بے شمار مدنی قافلوں میں بھی سفر کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ تادمِ تحریر علاقائی مشاورت کے نگران کی حیثیت سے مدنی کاموں کی دھومیں مچا رہا ہوں۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                 صَلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد

 {۲}  بے حیا، باحیا بن گیا

        مرکز الاولیاء (لاہور) کے ایک اسلامی بھائی نے اپنی خزاں رسیدہ زندگی میں بہار آنے کا تذکرہ کچھ یوں کیا کہ میں گناہوں کے تپتے صحرا میں سرگرداں تھا۔ فیشن کادلدادہ، معاشرے کا بگڑا ہوا نوجوان تھا۔ علمِ دین سے دوری کے باعث میرے شب و روز گناہوں میں بسر ہو رہے تھے۔ نہ حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف کوئی توجہ تھی اور نہ ہی حقوق العباد کی فکر۔ مَعَاذَ اللہ فرض نمازوں کی ادائیگی سے غفلت اور روزے نہ رکھ کر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی مول لے رہا تھا۔ دوسری طرف والدین کی نافرمانی اور بہن بھائیوں کو مار پیٹ کر ان کی سخت دل آزاری کا باعث بنتا تھا۔ ساری ساری رات گھر سے باہر آوارہ گردی کرتا مجھے ڈھونڈنے کے لیے کبھی بھائی تو کبھی والدہ ماری ماری پھرتی۔ یوں تو پہلے ہی شب و روز گناہوں میں سیاہ کر رہا تھا مگر بد قسمتی سے اب برے دوستوں کی صحبت میں پڑ کر ’’  بدکاری ‘‘  جیسے گھناؤنے فعل کا بھی عادی بن چکا تھا۔ علاوہ ازیں اسی صحبتِ بد کے باعث میں اسنوکر کلب جانا شروع ہوا۔ ابتداً تو ویسے کھیلتا رہا مگر وہاں کے مُخَرِّبُ الْاَخْلَاق ماحول نے مجھ میں ایسا بگاڑ پیدا کر دیا کہ میں جوا لگانا شروع ہو گیا۔ اسی طرح کرکٹ کا جنون کی حد تک رسیا تھا اور وہ بھی بغیر جوا لگائے نہیں کھیلتا تھا۔ عید ہو یا رمضان المبارک غرض کوئی دن ایسا نہ تھا کہ جس میں میں جوا نہ کھیلتا ۔ اس حرام کی مجھے ایسی لت پڑی تھی کہ جوئے کی دنیا میں میرا نام علامت بن چکا تھا۔ اس کارِحرام میں میری اس قدر شہرت ہو چکی تھی کہ لوگ میرے بارے میں یہ کہنے لگے کہ اس کے ماتھے پر  ’’ حرام ‘‘  لکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ جیت جاتا ہے۔ مزید یہ کہ میں لڑائی جھگڑوں میں بھی پیش پیش رہتا اسی وجہ سے بعض اوقات میری سرِعام جوتوں سے پٹائی بھی ہوئی مگر میں تو  ’’ نہ سدھرے ہیں نہ سدھریں گے قسم کھائی ہے  ‘‘  کا مصداق بن چکا تھا۔ اس کردارِ بد کی وجہ سے والدین، رشتے دار، محلے دار الغرض ہر ایک مجھے بری نگاہ سے دیکھتا مگر میں تھا کہ ٹس سے مس نہ ہوتا، کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنے کالے کرتوت جاری رکھتا۔ میری سعادتوں کی معراج کا سفر کچھ یوں شروع ہوا کہ ایک روز ایک باریش و باعمامہ مبلغِ دعوتِ اسلامی سے میری ملاقات ہو گئی ، سلام و مصافحے کے بعد انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی دعوت پیش کی مگر میری شقاوت قلبی کہ میں نے صاف انکار کر دیا۔ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے جذبے سے سرشار

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن